• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

نظام صحت وقتی نہیں مستقل توجہ کا تقاضا کرتا ہے

Updated: October 08, 2023, 12:55 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai

کووڈ کے دور میں ہمارا نظام صحت متحرک وفعال تھا ، ہر چیز کا ریکارڈ رکھا جارہاتھا ،لیکن ادھر کچھ دنوں میں ناندیڑ ،ناگپور اوراورنگ آباد کے سرکاری اسپتالوں میں جو بحران سامنے آیا ہے، اس میں حکومت کی جانب سے سنگین غفلت اور لاپروائی کا ثبوت دیا جا رہا ہے،کیا اس وقت سنجیدگی عالمی دباؤ کے سبب تھی اوراس وقت گھر کامعاملہ سمجھ کر لا پروائی کی جارہی ہے؟

Lack of medical facilities has become a major problem at Dr. Shankarrao Chauhan Hospital, Nanded. Photo: INN
ڈاکٹر شنکرراؤ چوہان اسپتال، ناندیڑ میں طبی سہولیات کا فقدان ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ تصویر:آئی این این

کووِڈ کے دور سے باہر آئے ہوئے ہمیں بہ مشکل ۲؍ سال ہوئے ہیں ۔ اس وبائی دور میں جس پیمانے پر انسانی جانیں گئیں ، وہ ناقابل فراموش ہے لیکن یہ بات بھی بھلائی نہیں جاسکتی اس دوڈھائی سالہ عرصے میں جہاں روزانہ سیکڑوں زندگیاں دم توڑ رہی تھیں ، ہمارا نظام صحت جی اٹھا تھا۔اس بات پراعتراض کیاجاسکتاہےکہ جب زندگیاں دم توڑ رہی تھیں تونظام صحت کے جی اٹھنے کا کیا مطلب ہے؟نظام صحت کے جی اٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت اس نظام پر پورے تن من دھن سے توجہ دی جارہی تھی۔ اسپتالو ں میں کووڈ کے مریضوں کیلئے مخصوص شعبے تھے ، مخصوص بیڈز تھے ،علاحدہ وارڈز تھے اورسب سے بڑھ کر ان کی دیکھ بھال کیلئےایک تربیت یافتہ اسٹاف تھا۔ اس وقت ماحول ایسا تھا کہ پورا طبی نظام متحرک وفعال ہوگیا تھا۔ کووڈ سے ہونے والی ہلاکتوں اورشفایابی کی شرح روزانہ کی بنیاد پر خبریں بنتی تھیں۔ نکڑوں اور چوراہوں پر لوگ ان اعدادوشمار پرگفتگو کرتے تھے ۔اب کورونا کادور ختم ہوچکا ہے لیکن کیا اسپتالوں اورنظام صحت کے اسی طرح فعال رہنےکی ضرورت بھی ختم ہوگئی ہے جس طرح کووِڈ کے وقت تھی۔ مرکزی اور ریاستی دونوں سطح پر وزارت صحت اگر ایسا سمجھ رہی ہے یا اس جانب اس کی توجہ نہیں ہے تویقیناً وہ غلطی پر ہے۔
فی الوقت جو صورتحال ناندیڑ کے شنکر راؤ چوان اسپتال، اورنگ آباد کے گھاٹی اسپتال اورناگپورکے سرکاری اسپتالوں میں سامنے آئی ہےوہ تشویشناک ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی تقاضا کر رہی ہےکہ اس جانب فوری توجہ نہ دی گئی تواسپتالیں علاج ومعالجہ کا نہیں بلکہ اموات کا مرکزبن سکتی ہیں ۔ ان اسپتالوں سےبھی پہلے کلوا کے چھترپتی شیواجی مہاراج میونسپل اسپتال میں اگست میں ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران ۱۸؍ مریضوں کی موت ہوگئی تھی جس پر حکومت کو کافی تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس پرگزشتہ دنوں اسی اخبارکےنمائندہ نےجب اسپتال پہنچ کر تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی توافسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ انہیں مایوسی ہاتھ لگی۔نمائندہ کی یہ خبر۵؍ اکتوبر کے شمارہ میں شائع ہوئی تھی۔ان اموات کے تعلق سے تحقیقات کیلئے تشکیل دی گئی جس کمیٹی کو ۱۰؍ دنوں میں رپورٹ سونپنے کی ہدایت دی گئی تھی ، ہمارےنمائندہ کواس کمیٹی کی رپورٹ کے بارےمیں کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔بلکہ ایک محکمہ میں تو انہیں یہاں تک کہا گیا کہ اسےرپورٹ کے بارےمیں کوئی علم ہی نہیں ہے۔ میڈیکل ایجوکیشن اورپبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں اگر تال میل ہوتا توکلوا اسپتال کے واقعےکی رپورٹ پرہمارے نمائندہ کواس رد عمل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔غور کیجئےیہ اگرکووڈ کا وقت ہوتاتو کیا ہوتا؟کیا اس لا پروائی کو برداشت کیا جاتا؟رپورٹ کے بارےمیں کئی علم ہونے یا نہ ہونے کی بات تو دور کی ہے،اس وقت ایسی کسی رپورٹ میں معمولی تاخیربھی محکمہ صحت میں ہلچل کا سبب بن جاتی اوروزیروں کی نیند اڑانے کیلئےکافی ہوتی اوروہ بھلے ہی کسی ایک اسپتال کا معاملہ ہوتا۔ آج ایک نہیں بلکہ تین تین اسپتالوں میں کم وقت میں زیادہ اموات ہوئی ہیں۔
ناندیڑ کے شنکر راؤ چوان اسپتال میں گزشتہ تین چار دنوں میں ۵۰؍ سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔ ناگپور کے میو اور سرکاری اسپتال میں تین دنوں میں ۵۹؍ اموات کی اطلاع ملی جبکہ اورنگ آبادکے گھاٹی اسپتال میں بھی تین دنوں میں کم وبیش ۳۰؍ مریضوں کی موت ہوچکی ہے۔ ناندیڑ میں صور تحال کے تشویشناک ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہےکہ وہاں متوفیوں میں نومولودوں کی کافی تعداد ہےجس سے نظام صحت کی خرابیاں ظاہر ہوتی ہیں ۔اس معاملے میں اسپتال کے ڈین ڈاکٹر شیام واکوڑے اور دیگر ڈاکٹروں کے خلاف اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیاگیا ہے۔ہائی کورٹ معاملے کا از خود نوٹس لے کرسماعت کررہی ہے۔اس نے حالانکہ دواؤں کی قلت کو اموات کا سبب ماننے سے انکار کردیا ہے لیکن ریاستی محکمہ صحت کے بجٹ سےمتعلق تفصیلات پیش کرنے کا حکومت کو حکم دیاہے۔اس سے واضح ہوجائے گاکہ بجٹ کی مناسبت سے اسپتالو ں میں دوائیں پہنچائی جارہی ہیں یا پیسہ کہیں ا ور جارہا ہے!عدالت نے اسپتال میں خالی اسامیوں کو بھی جلد از جلد پُر کرنے کی ہدایت دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK