سابق صدر جمہوریہ اور مایہ ناز سائنسداں، بھارت رتن اے پی جےعبدالکلام کی سوانح حیات’ونگس آف فائر‘ کا جائزہ، یہ صرف ایک سوانح عمری نہیں بلکہ عزم، محنت، سادگی اور قومی خدمت کے جذبے سے لبریز ایک بہترین اور متاثرکن داستان ہے۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 6:50 PM IST | Ghulam Arif | Mumbai
سابق صدر جمہوریہ اور مایہ ناز سائنسداں، بھارت رتن اے پی جےعبدالکلام کی سوانح حیات’ونگس آف فائر‘ کا جائزہ، یہ صرف ایک سوانح عمری نہیں بلکہ عزم، محنت، سادگی اور قومی خدمت کے جذبے سے لبریز ایک بہترین اور متاثرکن داستان ہے۔
انسانی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی صرف ان کی ذاتی کامیابی کی داستان نہیں رہتی بلکہ کئی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ بن جاتی ہے۔ نامور سائنسداں اور سابق صدر بھارت رتن اے پی جے عبدالکلام کی خود نوشت ’ونگس آف فائر‘ یعنی آگ کے پنکھ، اسی نوعیت کی ایک متاثر کن کتاب ہے۔ یہ صرف ایک سوانح عمری نہیں بلکہ عزم، محنت، سادگی اور قومی خدمت کے جذبے سے لبریز ایک ایسی داستان ہے جو قاری کے دل میں امید اور حوصلے کی نئی کرن جگاتی ہے۔
اوّل فقیر زین العابدین عبدالکلام (۱۹۳۱-۲۰۱۵ء) تامل ناڈو کے ساحلی قصبے رامیشورم میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان مالی اعتبار سے خوشحال نہیں تھا مگر عزتِ نفس اور اخلاقی اقدار میں بہت مالدار تھا۔ ان کے والد زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن ان کی شخصیت میں حکمت، دیانت اور روحانیت کا ایسا امتزاج تھا جس نے ان کی پوری زندگی کو متاثر کیا۔ ان کی والدہ ایک نہایت مہربان اور فیاض خاتون تھیں۔ بچپن میں کلام اخبار تقسیم کیا کرتے تھے تاکہ گھر کے معاشی بوجھ میں ہاتھ بٹا سکیں۔ ان کے دل میں علم حاصل کرنے کی بے پناہ خواہش تھی۔ ان کے اساتذہ نے ان کی ذہانت اور تجسس کو پہچانا اور انہیں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔
پانچویں کلاس میں تھے تو ایک نئے ٹیچر کی آمد ہوئی۔ کلام نے روایتی مسلم ٹوپی پہن رکھی تھی۔ وہ پہلی صف میں اپنے ہم جماعت رامانند کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ نئے استاد کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی کہ ایک ہندو برہمن لڑکا کسی مسلمان کے ساتھ بیٹھے لہٰذا کلام سے کہا گیا کہ وہ عقبی بنچ پرجاکر بیٹھیں۔ یہ بات نہ صرف کلام بلکہ رامانند کو بھی بری لگی۔ اپنے دوست کو پچھلی بنچ کی طرف منتقل ہوتے دیکھ رامانند کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اس بات کا اثر کلام کے قلب پر عمر بھر رہا۔ دونوں بچوں نے گھر جاکر اپنے اپنے والدین سے اس بات کا تذکرہ کیا۔ رامانند کے والد لکشمن شاستری، رامیشورم مندر کے بڑے پجاری تھے۔ انھوں نے استاد کو بلا کر سرزنش کی کہ وہ معافی مانگے ورنہ رامیشورم چھوڑ کر چلا جائے۔ اس سخت رویے نے اثر دکھلایا۔ ٹیچر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ کلام کے ایک دیگر برہمن استاد اُن کی تعلیم پر خاص توجہ دیتے تھے۔ کہتے کہ کلام میں تم پر محنت کرتا ہوں تاکہ تم بڑے شہروں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی برابری کر سکو۔ اس ماحول نے کلام کی ذہنیت اورشخصیت سازی میں اہم رول ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: عام لوگ نوکری پر کام کرتے ہیں جبکہ امیر لوگ اپنے اثاثوں پر کام کرتے ہیں
اسکول کے بعد کلام نے سینٹ جوزف کالج، تروچیراپلی میں داخلہ لیا جہاں انہوں نے طبیعیات کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں ایروناٹیکل انجینئرنگ کا انتخاب کیا۔ تعلیم کیلئے ان کی بڑی بہن زہرہ نے اپنے زیورات گروی رکھے تھے۔
ہندوستانی خلائی پروگرام کے بانی ڈاکٹر وکرم سارابھائی اور ڈاکٹر ستیش دھون جیسے عظیم سائنس دانوں نے کلام صاحب کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان سے کلام نے صرف سائنسی مہارت ہی نہیں بلکہ قیادت اور کارِاجتماعی یعنی ٹیم ورک کے اصول بھی سیکھے۔
۱۹۶۸ءمیں سارابھائی نے ایک دفعہ کلام کو فوری طور پر دہلی میں ملنے کا پیغام بھجوایا۔ ان کی سیکریٹری سے رابطہ کرنے پر کلام کو صبح ساڑھے تین بجے کا وقت ملا۔ رات کے پچھلے پہر کلام اور فضائیہ کے ایک افسرکے ساتھ میٹنگ کے بعد اگلی صبح سارابھائی ناشتے کی میز پر وزیر اعظم کے ساتھ تھے۔ شام تک یہ خبر عام ہو چکی تھی کہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں کیلئے فوری اڑان بھر سکنے کے ایک اہم تکنیکی پروجیکٹ کو منظوری حاصل ہوئی ہے اور یہ کہ کلام اس کے سربراہ ہوں گے۔ خلائی پروگرام میں کلام کا کردار بے حد اہم تھا۔ وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے ملک کا پہلا سیٹیلائٹ لانچ وہیکل تیار کیا۔ ۱۰؍ اگست۱۹۷۹ء کو ساری تیاریاں مکمل کرکے سری ہری کوٹہ کے کمپلیکس سے راکٹ داغا گیا۔ سارے اہلکار دم بخود محوِ مشاہدہ تھے لیکن پرواز کےمحض چھٹے منٹ پر وہ راکٹ چرمرا کر خلیج بنگال میں جاگرا۔ کلام اور ان کی ٹیم نے برسوں محنت کی تھی۔ اس ناکامی کا جائزہ لینے کیلئےجب پروفیسر دھون کی سربراہی میں میٹنگ ہوئی تو کلام نے بحیثیت مشن ڈائریکٹر ساری ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ یہ بھی کہا کہ اگرکوئی اور ملک ہوتا تو اس وقت تک وہ نوکری سے برخواست کردیئے گئے ہوتے۔ ہال میں سناٹا چھا گیا۔ نشست کے خاتمےکا اشارہ دیتے ہی دھون اٹھ کھڑے ہوئے۔ کلام پر انھوں نے اپنا اعتماد قائم رکھا اور ایک سال سے کم عرصے میں ۱۸؍ جولائی ۱۹۸۰ء کوصبح ۸؍ بجکر ۳؍ منٹ پر ملک کا پہلا سیٹیلائٹ لانچ وہیکل SLV3داغا گیا۔ چند ہی منٹوں بعد کلام، سائنسدانوں کے درمیان اعلان کر رہے تھے’’مشن کے تمام مرحلے کامیابی سے طے ہوچکے ہیں۔ ‘‘
چاروں طرف جوش بھری صدائیں بلند ہوئیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔ اب ہمارے لئے خلاء کی تسخیر ممکن تھی۔ جلد ہی پروفیسر دھون نے کلام کو وزیراعظم اندرا گاندھی سے ملاقات کیلئے بلوایا۔ کلام اُس وقت ممبئی میں تھے اور اس اہم ملاقات کیلئے ان کے پاس مناسب لباس نہیں تھا۔ وہ اکثر عام کپڑوں اور چپلوں میں کسی بھی جگہ چلے جایا کرتے تھے۔ انھوں نے دھون صاحب سے اپنا مسئلہ بیان کیا تو وہ بولے کہ ’’کلام، فکر نہ کرو۔ تمھاری کامیابی ہی تمھاری خوش لباسی ہے، آجاؤ۔ ‘‘ اگلی صبح ۳۰؍اراکین پارلیمان اور وزیراعظم کی موجودگی میں جب دھون رپورٹ پیش کرچکے تو معاً مسز گاندھی بولیں ’’کلام، تم کچھ کہو۔ ہم سب تمھاری بات سننا چاہتے ہیں۔ ‘‘ اپنے اعلیٰ افسر کے بعد کلام کرنے کی دعوت پر کلام کچھ ہچکچاتے ہوئےاٹھے اور بولے ’’دراصل مجھ میں کوئی خاص قابلیت نہیں۔ میں صرف ایک مکمل بھارتی راکٹ سسٹم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہوں جو ۲۵۰۰۰؍ کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ایک مکمل ہندوستانی سیٹیلائٹ کو خلا میں دھکیل سکے۔ ‘‘ تالیوں کے شور سے فضا گونج اٹھی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’وطن میں غربت سے بڑی لعنت اگر کچھ ہے تو وہ ہندوستانی جیل اور عدالتی نظام ہے‘‘
بعد میں کلام کو ہندوستان کے میزائل پروگرام کی قیادت سونپی گئی۔ انہوں نے اگنی اور پرتھوی جیسے میزائلوں کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کیا مگر اپنی کامیابیوں کے باوجود وہ ہمیشہ انتہائی منکسر مزاج رہے۔ وہ کہتے کہ کسی بھی کامیابی کے پیچھے ایک پوری ٹیم کی محنت ہوتی ہے۔ اپنے والد زین العابدین، بہن زہرہ، بہنوئی جلال الدین، چچازاد بھائی شمس الدین اور مختلف اساتذہ کو اپنی ہر کامیابی کے وقت یاد کیا کرتے تھے۔
کلام صاحب اپنی آپ بیتی میں بار بار خدا پر اپنے مضبوط ایمان کا اعادہ کرتے ہیں۔ روحانیت ان کی شخصیت کا اہم جز نظر آتا ہے۔ خدا کا ذکر کثرت سے کرتے ہیں۔ متعدد مقامات پر قرآن شریف کی آیات درج کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ’’اس حسین دھرتی کی ہر خلقت کو خدا نے ایک خاص رول ادا کرنے کی خاطر بنایا ہے۔ میں نے زندگی میں جو کچھ حاصل کیا وہ سب اسی کا کرم اور اس کی مرضی کا اظہار تھا۔ ‘‘ مزید کہتے ہیں کہ ’’خالق نے ہمارے ذہنوں اور ہماری شخصیتوں میں بے پناہ قوت و قابلیت جمع کر رکھی ہے۔ عبادت اور دعائیں ان طاقتوں کو دریافت کرکے ان کو پروان چڑھانے میں خوب مدد کرتی ہیں۔ ‘‘ روحانیت سے متعلق ان کے رجحان کے کچھ گوشوں پر تنقید کی جاسکتی ہے لیکن سردست ہمارا مقصد کلام صاحب کی شخصیت کے دیگر مسحورکن پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے۔ کتاب میں مینجمنٹ اور لیڈرشپ سے متعلق ایک گنجینہ دانش بھی موجود ہے۔
یہ کتاب ایک نامکمل سوانح حیات ہے۔ بعد کےدور میں کلام صاحب کے کارناموں اور دورصدارت کا کوئی ذکر نہیں ہے کیونکہ یہ کتاب بہت پہلے، ۱۹۹۹ء میں منظرعام پر آچکی تھی۔ اس کتاب کو ارون تیواری نے کلام صاحب کے ذریعے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر تحریر کیا۔ تیواری اگر پیشہ ور لکھاری ہوتے تو کتاب کافی ولولہ انگیز ہوسکتی تھی۔
ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں ان کے رول کو لے کر کلام صاحب چند حلقوں میں تنقید کا نشانہ بھی بنے، لیکن ان کی سادگی اور لگن کا سبھی اعتراف کرتے ہیں۔ تصور کیجئے کہ جب وہ ملک کی صدارت کے آخری روز اپنے دو سوٹ کیس اٹھا کرایک عام فلائٹ کے ذریعے دہلی سے چنئی پہنچے۔ ان کی رہائش کیلئےانّا یونیورسٹی کے اسٹاف ہوسٹل میں دو کمروں کا ایک کوارٹرز مختص کیا گیا تھا۔ اسی دوپہر کو وہ طلبہ کوپڑھانے کی ڈیوٹی پر حاضر تھے۔ ۲۷؍ جولائی ۲۰۱۵ء کویہ عظیم مدرس، آئی آئی ایم شیلانگ میں لیکچر دیتے ہوئے اپنے خالق سے جا ملا۔ خدا مغفرت کرے۔
جو جتھا آج’ پنکچر والوں ‘کی زندگی اجیرن کرنے پر تلا ہے اسی نے کبھی ایک’عبدل‘ کو عزت و تکریم کے ساتھ صدارت کی کرسی پر بٹھایا تھا۔ میرٹ یعنی امتیازی خوبیوں اور صلاحیتوں کا اثر ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ دنیا آپ کے پیچھے چلتی ہے۔ کاش کہ ہمارے لوگ اس حکمت کو سمجھیں۔