انگریزی کے صحافی اور ناول نگارمنو جوزف کی کتاب’وہائی دی پوور ڈونٹ کِل اَس‘ کا جائزہ،جس میں انہوں نے کئی چونکانے والے سوالات کئے ہیں جیسے غریب، امیروں کو کیوں سہتے ہیں؟ امن کیوں قائم ہے؟ ہم کیسے بچ نکلتے ہیں؟ غریب ہمیں قتل کیوں نہیں کرتے؟ وغیرہ۔
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 10:58 AM IST | Ghulam Arif | Mumbai
انگریزی کے صحافی اور ناول نگارمنو جوزف کی کتاب’وہائی دی پوور ڈونٹ کِل اَس‘ کا جائزہ،جس میں انہوں نے کئی چونکانے والے سوالات کئے ہیں جیسے غریب، امیروں کو کیوں سہتے ہیں؟ امن کیوں قائم ہے؟ ہم کیسے بچ نکلتے ہیں؟ غریب ہمیں قتل کیوں نہیں کرتے؟ وغیرہ۔
نوآبادیاتی دور اور اس کے کافی عرصے بعد تک ہندوستان کو ننگے، بھوکوں اور مفلسوں کا ملک سمجھا جاتا تھا۔ یہ تصور کسی قدر کم ضرور ہوا ہے لیکن ہنوزباقی ہے۔ ۲۰۰۸ء میں بنی آسکر ایوارڈ یافتہ فلم سلم ڈاک ملینئیر میں بھی کچھ ایسا ہی منظر پیش کیا گیا تھا۔ جو حالات اُس میں دکھائے گئے تھے وہ ہم خود صبح شام اپنی نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں۔ اس صورتحال سے متعلق بہت سے عوامل اور متعدد امور پر گفتگو کی جا سکتی ہے البتہ انگریزی مصنف منو جوزف نے ایک عجیب سوال اٹھایا ہے۔ منو صحافی ہیں۔ جریدہ ’اوپن‘ اور ’نیو یارک ٹائمز‘ کے کالم نگار رہے ہیں، لیکن وہ اپنے ناولوں کی وجہ سے معروف ہیں۔ ان کی اولین غیر افسانوی کتاب کا عنوان چونکانے والا ہے’ وہائی دی پوور ڈونٹ کِل اَس‘ یعنی غریب لوگ ہمیں قتل کیوں نہیں کرتے؟ یہ سوال ہر باضمیر ہندوستانی کے ذہن میں کبھی نہ کبھی ضرور پیدا ہوا ہوگا۔ کتاب کے سرورق پر اشارہ موجود ہے’دی سائکولوجی آف انڈیئنس‘ یعنی ہندوستانیوں کی نفسیات!
یہ بھی پڑھئے: ڈارون نے اپنی خود نوشت اشاعت کیلئے نہیں اپنے بچوں کیلئے تحریر کی تھی
نفسیات کے متعلق منو کے نقطہ نظر کو سمجھنے سے پہلے یہ طے ہونا ضروری ہے کہ جن کے قتل نہ کئے جانے پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ’ہم‘ کون لوگ ہیں؟ ہم، مڈل کلاس اور اس سے اوپر کا پیٹ بھرا آسودہ حال طبقہ ہے جو انگریزی میں منو جوزف کی کتاب ۵۹۹؍ روپیوں میں خرید کر پڑھتا ہے۔ اورغریب کون ہیں؟ کہتے ہیں’’اس کتاب میں غریب سے میری مراد ہر وہ شخص ہے جو اپنے کو معاشی طور کمزور پاتا ہے لیکن میرا اصل مطلب غریب ترین لوگوں سے ہے جنہیں پورا ہندوستان غریب سمجھتا ہے۔‘‘
درجنوں لوگ ایک ساتھ موت کے منہ میں صرف اسلئے پہنچ جاتے ہیں کہ انھوں نے نزلے کی کوئی سستی سی دوا خریدی تھی جو نقلی نکلی۔ اکثر سڑکوں پر مین ہول کے ذریعے گٹر میں اُتر کر فضلہ صاف کرنے والا کوئی بیچارہ، گیس کے ذریعے دم گھٹ کر مر جاتا ہے۔ پولس کانسٹیبل بھرتی کے دوران دس کلومیٹر دوڑنے والے لڑکے دم توڑ دیتے ہیں۔ کوئلے کی کانوں میں مزدور اپنی جان کوخطرے میں صرف اسلئے ڈالتے ہیں کہ یہ کام روبوٹس کے ذریعے کروانا، کان کے مالکوں کو مہنگا پڑتا ہے۔ حمل ضائع ہونے کے دوسرے ہی دن ایک کام والی اپنے کام پر حاضر ہوجاتی ہے۔ ایسے نوجوانوں سے جیلیں بھری پڑی ہیں جن کا جرم کبھی ثابت نہیں ہوتا۔ اتنا سب ہونے کے باوجود جب وہ غریب اپنے اردگرد دولت کی ریل پیل کو دیکھتے ہیں تو اسے برداشت کیوں کرتے ہیں؟ وہ اپنی تباہ حالی سے نکل کر ہمارا کام تمام کیوں نہیں کر دیتے؟ نالوں سے اچانک برآمدہوکر دولت مندوں کی گاڑیوں پر حملہ کیوں نہیں کرتے؟ وہ ملازمائیں جو باورچی خانے کے فرش پر، سِنک کے پاس دبک کر بیٹھی رہتی ہیں، اپنی اُن مالکنوں کے بال کیوں نہیں نوچ لیتیں جو انہیں چھٹی دیتی ہیں اور نہ مناسب اجرت؟ غریب، امیروں کو کیوں سہتے ہیں؟ امن کیوں قائم ہے؟ ہم کیسے بچ نکلتے ہیں؟ غریب ہمیں قتل کیوں نہیں کرتے؟
یہ بھی پڑھئے: ’’امریکی معاشرہ سیاہ فاموں کو دوسرے درجے کی زندگی جینے پر مجبور کرتا ہے‘‘
دل دہلا دینے والےواقعات کی خبریں روزمرہ کا معمول ہے۔ ان پر زیادہ سے زیادہ انفرادی سطح پرہمدردی اور وقتی اضطراب پیدا ہوتا ہے، جو اس ملک کی عمومی بے حسی کے خلاف ایک لمحاتی ردِعمل سے آگے نہیں بڑھتا۔ ۲۰۱۶ء میں دانا ماجھی کی تصویرآپ نے دیکھی ہوگی جو اپنی بیوی کی لاش کندھوں پر اُٹھاکر، دس کلومیٹر پیدل چلا تھا۔ اس کے پاس گاڑی کیلئے پیسے نہیں تھے۔ اسپتال والوں نے اس کی کوئی مدد نہیں کی۔ یہ خبر سوشل میڈیا پر خوب پھیلی۔ پہلے تو ادیشہ حکومت نے خود دانا کو مورد الزام ٹھہرایا کہ اس نے ایسا کیوں کیا لیکن پھر لاش کی تدفین کیلئے کچھ مالی امداد کی۔ بحرین کی حکومت نے انسانی ہمدردی میں ۱۰؍ لاکھ روپے بھیجے، لیکن پھر کیا ہوا؟ دانا کی تصویریں میڈیا میں دوبارہ نمودار ہوئیں۔ اس دفعہ وہ شرٹ پینٹ میں ملبوس اپنی نئی موٹر سائیکل پر سوار مسکرا رہا تھا۔ جلد ہی اس نے دوسری شادی کرلی۔ غرباء کی نفسیات کو مصنف، اپنے ذاتی مشاہدات اور تجربات کی شکل میں بیان کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو۲۰۰۱ کے گجرات زلزلے جیسے سانحوں میں، زیورات، نقدی اور پرفیوم کی شیشیاں نکالنے کیلئے ملبے کے نیچے دبی الماریاں توڑنے پر زیادہ توجہ مبذول کرتے ہیں؛ جو فوجیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ ملبے تلے دبے رشتہ دار کو مار ڈالیں تاکہ وہ معذوری کی زندگی سے بچ جائے۔ اکیسویں صدی کا ہندوستانی غریب اب بھی قدیم زمانوں کی تقدیر پرستی میں دبا ہوا ہے۔ سچ یہ ہے کہ ا پنی قسمت پر صبر کرتے ہوئے،غریب اپنے جینےکیلئے بہت پست معیار پر رضامند ہیں۔ گویا ان کے اندر ایک فطری نفسیاتی تقدیر پسندی رچی بسی ہے۔ یاد کیجیے ابلیس کی زبان سے نکلی کونسی بات علامہ اقبال نے سنی اور ہم تک پہنچائی تھی؛ میں نےناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا۔
ایسی نفسیات کیوں ہے؟ ہندوستان نے ان لوگوں کو اِسی طرح سوچنے کی تربیت دی ہے اور خود ان لوگوں نے بھی ایسا ہی ہندوستان قبول کرلیا ہے جو ان کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھتا ہے۔ منوطنز کرتے ہیں کہ ہر ہندوستانی جو خود غریب نہیں، ایک انٹلکچوئل ہے، مفکر ہے۔ اسے ان غریبوں سے ہمدردی ضرور ہے۔ اسکا عظیم کارنامہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی یہ غمگساری کسی مناسب اتھاریٹی کو ڈھونڈ کر اس کے سر مڈھ دے۔ کہتے ہیں کہ اسی رویے کی وجہ سے ہم ایک بیہودہ قوم ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: دسمبر میں کیلنڈر اُتار کر رکھ لیا جاتا، بعد میں اس کے صفحات سے پتنگ بنائے جاتے
مصنف کے مطابق غریبوں کے اس رویے کی کچھ وجوہات ہیں۔ ملک میں پھیلی بدنظمی، افراتفری اور بدصورتی غریبوں کو یہ یقین دلاتی ہے کہ ملک ان جیسا ہی ہے۔ اکثر ممالک اپنی حقیقت سے زیادہ صاف ستھرے اور نفیس نظر آنا چاہتے ہیں۔ لیکن پہلی نظر میں ہندوستان اس سے کہیں زیادہ افلاس زدہ لگتا ہے جتنا کہ وہ حقیقت میں ہے۔ چاروں طرف پھیلی گندگی، بلدیاتی بدانتظامی، ہمارے غریبوں کو ایک طرح سے دلاسہ دیتے ہیں کہ ملک ان کا ہے۔ مصنف کہتا ہے کہ غریب خود دوسرے غربت زدوں کے بدترین دشمن واقع ہوئے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انھیں کس سے نفرت کرنی ہے۔ غریب، امیروں سے حسد نہیں کرتے۔ ان کی نفرت کا نشانہ زیادہ تر ان کے پڑوسی اوررشتہ دار ہوتے ہیں جنھیں ان سے کچھ بہتر زندگی میسر ہوجاتی ہے۔
اجتماعی محرومی کے ذریعے تسکین کی اس توضیح کے بعد مصنف اس موضوع کی طرف آتا ہے جو گویا ہندوستان کا غیراعلانیہ قومی مذہب ہے یعنی امتحانات۔ اسکول، کالج کے اور مقابلہ جاتی امتحانات کا جنون بے مثال ہے۔ کہتا ہے کہ زیادہ تر ہندوستانی اس تضحیک آمیز شے کے اسیر ہیں جسے آج یونیورسٹی کی تعلیم کے نام پر فروخت کیا جارہا ہے۔ تعلیمی نظام پر مصنف کی تمام جھنجھلاہٹوں کے پس منظر میں ایک بنیادی خیال کارفرما ہے۔ اس کے نزدیک موجودہ ہندوستانی تعلیم دراصل ضم کر لینے کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ ایک ایسا نظام جو بغاوت کے امکان کو میٹھی نیند سلانے کا کام کرتا ہے۔نچلے طبقے کے لئے انسانی حقوق کی عدم دستیابی بھی متوسط اور امیر طبقے کے لئے حفاظتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔ غربت سے بھی بڑی لعنت اگر کچھ ہے تو وہ ہندوستانی جیل ہے اور ہمارا عدالتی نظام۔ ہمارے سیاستداں بھی بڑی چالاکی سے غریبوں کو معمولی سی مراعات کے عوض قابو میں رکھ پانے کا بڑا ذریعہ ہیں۔
مصنف، ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، موبائل اور سستے یا مفت ڈیٹا کا جائزہ لیتا ہے۔ غریبوں کو ایک مصروفیت ہاتھ آئی ہے۔ ہندی زبان کے فروغ، نیشنلزم، مڈل کلاس میں ہندو ہونے کے احساس جیسے وجوہات بھی کتاب میں زیر بحث آتے ہیں۔ آدھار کے ذریعہ عام انسان کو ایک شناخت کاحصول ہوا۔ ذات پات کی حرکیات اور اس طرح کے موضوعات کومصنف اپنی دانست میں، اصل سوال کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ کہیں کچھ کچھ قائل کرتا ہے مگر زیادہ تر مزید اُلجھاؤ پیدا کردیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہوسٹل میں مقیم بیٹے کے نام
راقم الحروف کے اس مضمون کا قالب سنجیدہ ہے۔ البتہ کتاب طنز اورکچھ حد تک مزاح میں ڈوبے جملوں اور واقعات کی وجہ سے ویسی سنجیدہ محسوس نہیں ہوتی جیسا کہ اس موضوع کا حق ہے۔ جوزف جب تک ہلکی پھلکی باتیں کرتے ہیں کتاب دلچسپ محسوس ہوتی ہے لیکن عنوان کی مناسبت سے جس گہرائی کی توقع تھی وہ مفقود ہے۔ پھر اردو میں اس کالم کیلئے راقم نے اس کتاب کا انتخاب کیوں کیا؟ صرف اسلئے کہ جو سوال منو جوزف نے اٹھایا ہے اورجس کا حتمی اور اطمینان بخش جواب وہ فراہم نہ کرسکے، وہ سو فیصد کھرا اور سُلگتا ہوا ہے۔ پھرکچھ یہ جذبہ بھی کارفرما تھا کہ اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو!