Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ: اسکین کرکے بل کی ادائیگی کی، مگر اصل’’ قیمت‘‘ کیا ادا کی؟

Updated: March 29, 2026, 7:32 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

آنے والے برسوں میں کیو آر کوڈ صرف ادائیگی کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ انشورنس، مائیکرو لون، سرمایہ کاری، اور کریڈٹ لائنز سب کچھ اسی کے ذریعے ممکن ہوگا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

آپ کے علاقے کے ایک چھوٹے سے کرانہ اسٹور پر رکھی وہ چھوٹی سی مشین جسے لوگ عام طور پر ’’ساؤنڈ باکس‘‘ کہتے ہیں ہر چند سیکنڈ بعد آواز دیتی ہے:’’پچاس روپے ملے...سو روپے ملے...‘‘
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ادائیگی کی اطلاع دینے والی مشین نہیں رہی بلکہ ہندوستان کی نئی ڈجیٹل معیشت کا دروازہ بن چکی ہے۔ آج پے ٹی ایم اور فون پے جیسے پلیٹ فارمز انہی کیو آر کوڈز کو استعمال کرتے ہوئے ادائیگی کے نظام کو قرض (credit) کے کاروبار میں تبدیل کر رہے ہیں اور یہی تبدیلی ہندوستانی فِن ٹیک سیکٹر کا اگلا بڑا مرحلہ ہے۔ ہندوستان کا ڈجیٹل پیمنٹ سسٹم زیادہ تر یو پی آئی پر چلتا ہے، جو صارفین کیلئے تقریباً مفت ہے۔ اور یہی مسئلہ ہے۔ صارفین سے فیس نہیں لی جا سکتی، یو پی آئی ٹرانزیکشن مفت ہیں، اور مقابلہ سخت ہے۔ سوال پیدا ہوا کہ پھر پے ٹی ایم اور فون پے کا آمدنی کا ذریعہ کیا ہوگا؟ جواب ملا مرچنٹ (دکاندار) سے۔ 
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جب آپ نکڑ پر چائے پیتے وقت دکاندار کے ساؤنڈ باکس کا کیو آر کوڈ اسکین کرکے ۱۰؍ روپے ادا کرتے ہیں تو اس کے ساتھ آپ کمپنیوں کو ۱۰؍ روپے کے علاوہ اور کیا دیتے ہیں ؟ جب کوئی گاہک کیو آر کوڈ اسکین کر کے ادائیگی کرتا ہے، تو صرف پیمنٹ نہیں ہوتی بلکہ ایک ڈیٹا پوائنٹ بنتا ہے کہ یومیہ کتنی فروخت ہو رہی ہے، کس وقت زیادہ خریداری ہوتی ہے اور کس قسم کے گاہک آتے ہیں۔ پیمنٹ کے ساتھ آپ کا یوپی آئی ڈی، بینک تفصیلات، اوراخراجات کا پیٹرن ان کمپنیوں تک پہنچتا ہے۔ یہ ڈیٹا اب فِن ٹیک کمپنیوں کیلئے سونے کی کان بن چکا ہے۔ کیو آر کوڈ دراصل ایک ایسا نظام ہے جس میں دکاندار کا یو پی آئی آئی ڈی محفوظ ہوتا ہے اور گاہک صرف اسکین کر کے براہِ راست ادائیگی کر دیتا ہے۔ یہ بظاہر آپ کیلئے سادہ اور آسان ہے لیکن یہی کیو آر کوڈ دکاندار کیلئے کریڈٹ اسکور بنانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ’’دھرندھر اِفیکٹ‘‘ اور فلمی معیشت کی نئی حقیقت

پے ٹی ایم اور فون پے اب کیو آر ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے دکانداروں کو قرض دے رہے ہیں۔ سوال ہے کہ یہ کیسے کام کرتا ہے؟ دکاندار کیو آر کے ذریعے روزانہ پیمنٹ وصول کرتا ہے، کمپنی اس کا ٹرانزیکشن ڈیٹا جمع کرتی ہے، اس ڈیٹا کی بنیاد پر کریڈٹ اسکور تیار ہوتا ہے، اور پھر اسی دکاندار کو فوری قرض آفر کیا جاتا ہے۔ یہ قرض عام بینکوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ملتا ہے، کم کاغذی کارروائی ہوتی ہے اور زیادہ ’ڈیٹا بیسڈ‘ ہوتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ کمپنیاں این بی ایف سی (نان بینکنگ فنانشیل کمپنی) اور بینکوں کے ساتھ شراکت کر کے یہ قرض فراہم کرتی ہیں جبکہ کیو آر ایک گیٹ وے کا کام کرتا ہے۔ جو ساؤنڈ باکس پہلے صرف ادائیگی کی اطلاع دیتا تھا، اب وہ سبسکرپشن ماڈل کا حصہ ہے، دکاندار کو پلیٹ فارم سے جوڑے رکھتا ہے، اور کمپنی کیلئے مستقل آمدنی پیدا کرتا ہے۔ یہی ’آخری میل‘ (last-mile) انفراسٹرکچر ہے جہاں سے اصل پیسہ بنایا جارہا ہے۔ ہندوستان میں لاکھوں چھوٹے کاروبار ایسے ہیں جو بینکنگ سسٹم سے مکمل طور پر جڑے ہوئے نہیں ہیں اور رسمی کریڈٹ تک رسائی نہیں رکھتے۔ کیو آر کوڈنے انہیں پہلی بار ڈجیٹل فنانشل شناخت دی ہے۔ اب ایک چھوٹا ریڑھی والا بھی اپنی روزانہ آمدنی کا ڈیٹا بنا رہا ہے اور اسی بنیاد پر قرض حاصل کر سکتا ہے۔ یہ دراصل ’انفارمل سے فارمل معیشت‘ کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ہندوستان میں اے آئی کے ذریعے ’زندہ‘ ہوتے لوگ، ایک اُبھرتی ہوئی معیشت

چین میں علی پے اور وی چیٹ پے پہلے ہی یہی ماڈل استعمال کر چکے ہیں جہاں پیمنٹ ڈیٹا کو قرض اور مالی خدمات میں بدلا گیا۔ اب ہندوستان بھی اسی راستے پر ہے مگر فرق یہ ہے کہ یہاں یو پی آئی مفت ہے، مقابلہ زیادہ ہے اور ریگولیشن سخت ہے۔ اس لئے ہندوستانی ماڈل زیادہ پارٹنرشپ بیسڈ اور کمیشن کی بنیاد پر ہے۔ جہاں یہ ماڈل مواقع پیدا کر رہا ہے، وہیں کچھ خطرات بھی ہیں جیسے، ڈیٹا پر انحصار۔ اگر ڈیٹا غلط یا محدود ہو، تو قرض کا فیصلہ بھی غلط ہو سکتا ہے۔ آسان قرض چھوٹے کاروباروں کو ’اوورانڈیٹڈ‘ (زیادہ مقروض) بھی بنا سکتا ہے۔ اب سرکاری بینک بھی کیو آر اسپیس میں داخل ہو رہے ہیں، جس سے مقابلہ مزید سخت ہوگا۔ آئندہ برسوں میں کیو آر کوڈ صرف ادائیگی کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ انشورنس، مائیکرو لون، سرمایہ کاری، اور کریڈٹ لائنز سب کچھ اسی کے ذریعے ممکن ہوگا۔ یعنی ایک سادہ سا کیو آر اسٹیکر دراصل ایک مکمل بینکنگ ایکو سسٹم میں تبدیل ہو رہا ہے۔ 
ہندوستان میں ڈجیٹل ادائیگی کی کہانی اب صرف’اسکین اینڈ پے‘ تک محدود نہیں رہی۔ پے ٹی ایم اور فون پے نے ثابت کیا ہے کہ اصل طاقت ٹرانزیکشن میں نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود ڈیٹا میں ہے۔ کیو آر کوڈ اب ایک نئی معاشی زبان بن چکا ہے جہاں ہر بیپ، ہر ادائیگی، اور ہر اسکین دراصل ایک نئے قرض، نئے کاروبار، اور نئی معیشت کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ اگلی بار جب آپ ادائیگی کیلئے کیو آر کوڈ اسکین کریں تو سوچیں کہ کیا آپ نے صرف ادائیگی کی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK