۱۹۹۷ء میں شائع ہونے والی اپنی مقبول کتاب کے ذریعہ رابرٹ کیوساکی نے مالیاتی مباحث کو عام فہم بیانیے میں منتقل کرکے متوسط طبقے کے ذہنی سانچے کو جھنجھوڑکر رکھ دیاتھا،یہ کتاب کئی سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور آج بھی اُتنی ہی مقبول ہے۔
EPAPER
Updated: March 15, 2026, 9:34 AM IST | Ghulam Arif | Mumbai
۱۹۹۷ء میں شائع ہونے والی اپنی مقبول کتاب کے ذریعہ رابرٹ کیوساکی نے مالیاتی مباحث کو عام فہم بیانیے میں منتقل کرکے متوسط طبقے کے ذہنی سانچے کو جھنجھوڑکر رکھ دیاتھا،یہ کتاب کئی سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور آج بھی اُتنی ہی مقبول ہے۔
اپنے اطراف ہم اکثر تعلیم یافتہ، نوکری پیشہ لوگوں کو دیکھتے ہیں جو اپنے کامیاب کیریئر کے باوجود ساری عمر معاشی مسائل سے گھرے رہتے ہیں جبکہ کچھ نسبتاً کم پڑھے لکھے، بہتر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اپنی مقبول ترین تصنیف’’رچ ڈیڈ پووَر ڈیڈ‘‘(امیر باپ، غریب باپ) میں رابرٹ کیوساکی اس سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہیں۔ کیوساکی، ذاتی مالیات کے مشہور ترین ماہر اور مربی ہیں۔ یہ کتاب پہلی بار ۱۹۹۷ء میں شائع ہوئی، مگر اس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ دنیا بھر میں کتاب کے کروڑوں نسخے فروخت ہوئے جنھوں نے ذاتی مالیات کی صنف کو مقبول بنایا۔ اس کتاب نے عام آدمی کے ذہن پر بجلی کی طرح اثر ڈالا، لاکھوں لوگوں کو اپنی مالی زندگی پر سنجیدگی سے توجہ دینے پر مجبور کیا۔ کیوساکی نہایت سادہ زبان اور عملی مثالوں کے ذریعے سمجھاتے ہیں کہ دولت محض زیادہ کمانے کی خاطر اپنی جان کھپانے سے نہیں بلکہ صحیح سوچ اور درست مالی حکمتِ عملی سے پیدا ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’وطن میں غربت سے بڑی لعنت اگر کچھ ہے تو وہ ہندوستانی جیل اور عدالتی نظام ہے‘‘
کیوساکی نے روایتی تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ اسکول ہمیں نوکری کیلئے تیار کرتے ہیں، معاشی آزادی کیلئے نہیں۔ ان کے نزدیک فنانشیل ایجوکیشن یعنی مالی تعلیم، عملی زندگی میں نہایت ضروری ہوتی ہے، مگر وہ نصاب میں شامل نہیں ہوتی۔
اس کتاب میں دو باپ کی کہانی کے ذریعے دولت، روزگار، تعلیم اور سرمایہ کاری کے بارے میں روایتی تصورات کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ایک والد تو خود کیوساکی کے حقیقی اباّجان ہیں جنھیں وہ’’غریب والد‘‘ کی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ دوسرے انکے دوست مائک کے والد ہیں جن کو وہ’’امیر والد‘‘ مانتے ہیں۔ کیوساکی اسکولی زمانے سے ان دونوں کی نصیحتوں کو غور سے سنتے آئے ہیں۔ دونوں کی رہنمائی بالکل مختلف اور متضاد ہے۔ غریب والد صاحب، رسمی تعلیم، ڈگریوں اور ایک محفوظ پکی نوکری کواہمیت دیتے ہیں۔ ان کے برخلاف امیر والد، مالیاتی خواندگی، سرمایہ کاری اور کاروبار کی سمجھ اور صلاحیتوں کو پیدا کرنے پر زور دیتے ہیں۔
امیر لوگ پیسوںکیلئے کام نہیں کرتے۔ اگر آپ پیسوں کی خاطر کام کریںگے تو آپ کا ذہن ایک ملازم کی طرح سوچنا شروع کردے گا۔ اگر آپ ایک امیر آدمی کی طرح سوچنا شروع کریں تو آپ کو چیزیں مختلف نظر آئیں گی۔ ایک ذہنیت تنخواہ کو منزل سمجھتی ہے جبکہ دوسری سوچ تنخواہ سے آگے اثاثہ سازی کو کامیابی مانتی ہے۔ عام لوگ نوکری پر کام کرتے ہیں اور کسی کے ملازم بنے رہتے ہیں جبکہ امیر لوگ اپنے اثاثوں پر کام کرتے ہیں۔ ان کے اثاثوں میں لگا ہر روپیہ ایک محنتی ملازم کی مانند ان کے لیے کام کرتا ہے۔
اثاثے وہ ہیں جو آپ کی جیب میں پیسہ ڈالتے ہیں، جیسے اسٹاکس، بانڈز، ریئل اسٹیٹ، میوچوئل فنڈز اور کرائے پر چڑھی جائیدادیں۔ ذمہ داریاں وہ ہیں جو آپ کی جیب سے پیسہ نکالتی ہیں، جیسے آپ کا اپنا مکان، گاڑی، قرض وغیرہ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ گھر ان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ ایک مکان تب اثاثہ ہوتا ہے جب وہ پیسہ پیدا کرے۔ جب آپ فلیٹ، کرائے پر دیتے ہیں، تو وہ پیسہ پیدا کرتا ہے اور جب آپ اسے خود استعمال کرتے ہیں تو وہ ایک ذمہ داری بن جاتا ہے۔ مالی آزادی کی طرف بڑھنا ہو تو بلاضرورت ذمہ داریاں مول نہ لیجئے۔ لوگ ذمہ داریاں خریدتے ہیں اور اُن کو اثاثے سمجھتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ غریب یا متوسط طبقہ پہلے لکثری چیزیں خریدتا ہے اور امیر آخر میں۔ اکثر لوگ پہلے قرض لیکر بڑی گاڑیاں، بائیکس، بڑے مکانات، قیمتی سیل فون وغیرہ حاصل کرتے ہیں لیکن امیر لوگ پہلے اثاثے خریدتے ہیں۔ پھر یہ اثاثے انکے لئے عیش وآرام کی چیزیں خریدتے ہیں۔ امیر لوگ گھر خریدتے ہیں اور انہیں کرائے پر دیتے ہیں، پھر وہ کرایہ ان کے عیش و آرام کا بل ادا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’امریکی معاشرہ سیاہ فاموں کو دوسرے درجے کی زندگی جینے پر مجبور کرتا ہے‘‘
ایک شخص اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے پیشے میں کامیاب ہو سکتا ہے، لیکن ممکن ہے کہ وہ معاملات میں بالکل ان پڑھ ہو۔ اسکول اورکالج ہمیں تاریخ، جغرافیہ اور ریاضی تو پڑھاتے ہیں، مگر یہ نہیں سکھاتے کہ سرمایہ کیسے بڑھایا جائے یا کاروبار کیسے چلایا جائے اور یہ کہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ٹیکس کیسے بچایا جائے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ معقول آمدنی کے باوجود مالی دباؤ میں رہتے ہیں۔ یہ بات ہندوستان کے تناظر میں زیادہ نمایاں ہے جہاں تعلیم کا مقصد عموماً سرکاری یا کارپوریٹ نوکری سمجھا جاتا ہے، جبکہ کاروباری ذہن سازی پر کچھ مخصوص طبقے ہی توجہ دیتے ہیں۔ کیوساکی مالی ذہانت اور تعلیم کے چار ستون بیان کرتے ہیں؛ اکاؤنٹنگ یعنی اعداد کو پڑھنے کی صلاحیت، انویسٹ کرنے یعنی سرمایہ کاری کی مہارت، بازارسے واقفیت اور قانونی ڈھانچے کی آگاہی۔
آپ کا سب سے بڑا اثاثہ آپ کا ذہن ہے۔ آپ اپنے دماغ سے ایسے عظیم مواقع دیکھ سکتے ہیں جو بہت سے لوگ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ پاتے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں، بس اپنے ذہن کو تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا ایسے مواقع تلاش کیجئےجو دوسروں نے گنوا دیئے۔
کیوساکی کے نزدیک دولت کا سب سے بڑا دشمن خوف ہے، بالخصوص نوکری کھونے کا خوف، یہی خوف انسان کو محفوظ مگر محدود راستوں کا راہی بننے پر مجبور کرتا ہے۔ اسکے ساتھ لالچ بھی انسان کو اندھا کر دیتی ہے، جس کے باعث وہ بغیر سوچے سمجھے سرمایہ کاری کر بیٹھتا ہے۔ امیر باپ کی تعلیم یہ تھی کہ خوف اور لالچ کو سمجھو، ان کے غلام نہ بنو۔ اگر انسان اپنے جذبات کو قابو میں رکھے تو وہ مالی فیصلوں میں زیادہ سمجھدار ثابت ہوتا ہے۔ سرمایہ کاری خطرناک نہیں، سرمایہ کاری کو نہ جاننا خطرناک ہے۔ اگر آپ خطرہ کم کرنا چاہتے ہیں تو اپنے علم میں مستقل اضافہ کرتے رہیے۔ یہ علم کتابیں پڑھنے یا ان لوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر حاصل ہوگا جو سرمایہ کاری جانتے ہیں۔
راقم الحروف کو تو آج کل اس طرح کے آن لائن کورسیس کی بھرمار نظر آتی ہے۔ خود سیکھئے اپنی دولت کسی بازیگر کے حوالے مت کیجئے۔ کتاب کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ نوجوانوں کو صرف موٹی تنخواہ والی نوکری کی تلاش میں رہنے کے بجائے،ایسی جگہ کام کرنا چاہیے جہاں نئی مہارتیں سیکھنے کو ملیں۔ دولت، تنخواہ سے نہیں بلکہ آپ کی مہارت و قابلیت سے پیدا ہوتی ہے۔ اکثر نوجوان مالی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں اور علم و ہنر کی مسلسل تحصیل کے بجائے فوری آمدنی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر آپ نوکری کرتے ہیں، تو اپنی ملازمت جاری رکھئے لیکن مسلسل غور کیجئے کہ ایک زائد ذریعہ آمدنی کیا ہوسکتا ہے۔ ایک تصور پیسیو یعنی غیر فعال آمدنی کا ہے۔ اپنی بچت کو اثاثے حاصل کرنے میں استعمال کیجئے۔ ایک پارٹ ٹائم کاروبار شروع کیا جا سکتا ہے۔ جو وقت آپ اپنےموبائل فون، پارٹیوں، یا کسی اور سرگرمی پر خرچ کرتے ہیں، اسے اپنے کاروبار پرصرف کیجئے۔ جب تک یہ بزنس جم نہیں جاتا، اپنی نوکری کبھی نہ چھوڑیئے۔ کسی اور کیلئے ساری زندگی جدوجہد نہ کیجئے۔ اپنا کاروبار شروع کیجئے اور اسے فروغ دیجئے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈارون نے اپنی خود نوشت اشاعت کیلئے نہیں اپنے بچوں کیلئے تحریر کی تھی
کتاب کی زبان سادہ، مکالماتی اور کہانیوں پر مبنی ہے۔ کیوساکی، پیچیدہ اصطلاحات کے بجائے روزمرہ کی مثالوں سے کام لیتے ہیں۔ یہ محض سرمایہ کاری یا کاروبار کی تکنیکی کتاب نہیں، بلکہ ذہن کی ساخت بدلنے کا منشور ہے۔ تنقیدی زاویے سے دیکھا جائے تو اس کتاب کا بڑا مسئلہ اس کی حکایتی ساخت ہے۔ کیوساکی نے جس امیر باپ کی شخصیت کو مرکزی استعارہ بنایا ہے وہ حقیقی نہیں بلکہ خیالات کی اُپج معلوم ہوتا ہے۔ کتاب میں پیش کردہ مثالیں اوور سمپلی فائڈ یعنی بہت زیادہ سادہ کاری پر مبنی محسوس ہوتی ہیں۔ روایتی تعلیم اور ملازمت کے متعلق بھی ان کا لہجہ زیادہ دوٹوک معلوم ہوتا ہے۔ حالانکہ معاشی استحکام کیلئے تنخواہ دار پیشے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کتاب میں اعداد و شمار، کیس اسٹڈیز اور قابلِ تصدیق حوالہ جات کی کمی نمایاں ہے۔ جس کے باعث یہ کتاب ایک علمی معاشی متن کے بجائے ترغیبی ادب کے زیادہ قریب دکھائی دیتی ہے۔
تحقیقی تناظر میں اس کتاب کی اصل قوت اس کے نظری مباحث سے زیادہ اس کے نفسیاتی اثر میں پوشیدہ ہے۔ کتاب نے مالیاتی مباحث کو عام فہم بیانیے میں منتقل کرکے متوسط طبقے کے ذہنی سانچے کو جھنجھوڑدیا تھا۔ یہی کیوساکی کی مقبولیت کا راز ہے۔ تاہم عملی سطح پر یہ سوال برقرار رہتا ہے کہ کیا ہر معاشی و سماجی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور کاروباری جوکھم یکساں مواقع فراہم کرتے ہیں؟ کیا ہر شخص کی ذہنی و جسمانی صحت و قابلیت فعال کاروبار کے لائق ہوتی ہے؟ البتہ چھوٹی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے روپیوں کو مہنگائی کی مار سے محفوظ کرنا اور اضافے کی راہ پر ڈالنا ضروری ہے۔ اس کتاب کو حتمٰی نسخۂ کیمیا نہ سمجھئے۔ اسے ایک فکری محرک کے طور پر پڑھیئے۔ فائدہ مند ثابت ہوگی۔