Inquilab Logo Happiest Places to Work

طرزِ عمل کا تعلق صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ ان کی مقدار سے بھی ہوتا ہے

Updated: July 31, 2026, 5:08 PM IST | Mohammad Aamin Afaque | Mumbai

زندگی کے سفر میں انسان بے شمار کتابیں پڑھتا ہے، ڈگریاں حاصل کرتا ہے، تجربات سمیٹتا ہے اور اپنی گفتگو کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔

In the age of social media, everyone wants to be heard! Photo: INN
سوشل میڈیا کے دور میں ہر شخص چاہتا ہے کہ صرف اسی کو سنا جائے! تصویر: آئی این این

زندگی کے سفر میں انسان بے شمار کتابیں پڑھتا ہے، ڈگریاں حاصل کرتا ہے، تجربات سمیٹتا ہے اور اپنی گفتگو کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔ مگر عمر کے کسی موڑ پر پہنچ کر اسے احساس ہوتا ہے کہ کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہو، بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ وہ جانتا ہو کہ کیا کہنا ہے، کیسے کہنا ہے، کتنا کہنا ہے، اور کب خاموش رہنا ہے۔ یہی احساس مجھے اُس خوب صورت قول سے ملا جو کلیم احمد صاحب (سابق لکچرر، قدوائی جونیر کالج، ناگپور) نے اپنی سبکدوشی کے موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرمایا تھا۔

’’علم یہ طے کرتا ہے کہ کیا کہنا ہے، تربیت یہ طے کرتی ہے کہ کیسے کہنا ہے، طرزِ عمل یہ طے کرتا ہے کہ کس قدر کہنا ہے، اور دانشمندی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کہا بھی جائے یا نہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: عزت، ذلت، زندگی اور معافی کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے

اگر اس ایک جملے کی گہرائی کو سمجھ لیا جائے تو شاید زندگی کے آدھے جھگڑے، آدھی غلط فہمیاں اور آدھے پچھتاوے خودبخود ختم ہو جائیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں علم کو اکثر معلومات کی فراوانی سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہم کتابیں پڑھ لیتے ہیں، اسناد حاصل کر لیتے ہیں، دلائل یاد کر لیتے ہیں، مگر یہ نہیں سیکھ پاتے کہ الفاظ کے بھی آداب ہوتے ہیں۔ علم انسان کو بولنا سکھاتا ہے، مگر تہذیب اسے سننا سکھاتی ہے۔ جو شخص صرف بولنا جانتا ہو، وہ ایک اچھا مقرر تو بن سکتا ہے، مگر دلوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔

اس حقیقت کو استاد اور شاگرد کے تعلق سے بھی بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک استاد اگر صرف کتابی معلومات منتقل کرے تو وہ محض معلم رہ جاتا ہے، لیکن اگر وہ اپنی گفتگو میں شفقت، نرمی اور برداشت شامل کر دے تو وہ شاگردوں کے دلوں میں ہمیشہ کیلئے جگہ بنا لیتا ہے۔ طلبہ کو اکثر اساتذہ کے لیکچر یاد نہیں رہتے، مگر ان کا لہجہ، ان کی مسکراہٹ اور ان کی حوصلہ افزائی زندگی بھر یاد رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مکمل کامیابی کا مفہوم جانئے!

تربیت دراصل علم کی روح ہے۔ یہی انسان کو سکھاتی ہے کہ اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، تنقید تذلیل نہیں ہوتی، اور نصیحت کا مقصد اپنی برتری جتانا نہیں بلکہ بہتری پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ایک مہذب انسان کی زبان میں سخت سے سخت بات بھی شائستگی کا لباس پہن لیتی ہے، جبکہ بدتہذیب شخص تعریف بھی اس انداز میں کرتا ہے کہ اس میں طنز کی جھلک محسوس ہونے لگتی ہے۔گھر کے ماحول کو ہی دیکھ لیجیے۔ ایک باپ اگر غصے میں اولاد کو ڈانٹ دے تو بچے وقتی طور پر خاموش ہو جاتے ہیں، مگر اگر وہی بات محبت، حکمت اور نرمی سے کہی جائے تو وہ ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہی فرق تربیت کا ہے۔ الفاظ ایک جیسے ہوتے ہیں، مگر انداز بدل جائے تو نتائج بھی بدل جاتے ہیں۔

طرزِ عمل کا تعلق صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ ان کی مقدار سے بھی ہے۔ بعض لوگ زیادہ بولنے کو اپنی قابلیت کا معیار سمجھتے ہیں، حالانکہ سمندر کبھی شور مچا کر اپنی گہرائی ثابت نہیں کرتا۔ دریا کا وقار اس کے بہاؤ میں ہوتا ہے، شور میں نہیں۔ اسی طرح صاحبِ کردار انسان بھی اپنی گفتگو کو ضرورت کی حد تک محدود رکھتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بے جا الفاظ اکثر اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں۔ہم روزمرہ زندگی میں بھی اس کی مثالیں دیکھتے ہیں۔ کسی محفل میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ہر موضوع پر بولتے ہیں، خواہ انہیں علم ہو یا نہ ہو۔ دوسرے وہ جو خاموشی سے سنتے ہیں، غور کرتے ہیں، اور جب بولتے ہیں تو چند جملے ہی پوری مجلس کا رخ بدل دیتے ہیں۔ وقت گزرنے کے بعد لوگ پہلے شخص کی لمبی تقریریں بھول جاتے ہیں، مگر دوسرے شخص کے مختصر مگر بامعنی الفاظ یاد رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: محاسبہ کیجئے، کس کی غلطی ہے؟

آج کا دور اظہار کا دور ہے۔ ہر شخص بولنا چاہتا ہے، ہر شخص سنا جانا چاہتا ہے اور ہر شخص آخری بات اپنے نام کرنا چاہتا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہمیں الفاظ تو بے شمار عطا کیے ہیں، مگر توقف، تحمل اور خاموشی کی نعمت ہم سے چھین لی ہے۔ اب لوگ سوچنے سے پہلے لکھ دیتے ہیں، سمجھنے سے پہلے فیصلہ کر لیتے ہیں اور سننے سے پہلے جواب تیار کر لیتے ہیں۔  یہی عجلت رشتوں کو کمزور، دلوں کو دور اور معاشرے کو بے سکون بنا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK