دنیا کی کامیابیاں آخرت سے کٹ جائیں تو وہ ادھوری ہیں اور اگر آخرت سے جڑ جائیں تو مکمل ہوجاتی ہیں۔ دنیا کی ہر کامیابی انسان کو اللہ کی رضا، جنت اور نجاتِ آخرت تک پہنچانے کا ذریعہ بن جائے۔ مکمل کامیابی کیلئے محنت اور منصوبہ بندی کافی نہیں، بلکہ کامیابی کی دعا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
بچپن سے لے کر بڑھاپے تک انسان کی تمام جدوجہد، منصوبہ بندی، محنت اور قربانیاں اسی ایک مقصد کے گرد گھومتی ہیں کہ وہ کامیاب ہو جائے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کامیابی ہے کیا؟ اور کامیابی کا صحیح معیار کیا ہے؟ اس سوال کا جواب ہر انسان اپنے مزاج، ماحول، نظریے اور خواہشات کے مطابق دیتا ہے۔ کسی کے نزدیک دولت کا حصول کامیابی ہے، کسی کے نزدیک شہرت، اقتدار، اعلیٰ عہدہ یا دنیاوی آسائشیں کامیابی کی علامت ہیں، جبکہ کچھ لوگ علم، عزت یا اثر و رسوخ کو کامیابی کا معیار سمجھتے ہیں۔ گویا ہر شخص نے اپنی خواہش کے مطابق کامیابی کی ایک تعریف گھڑ رکھی ہے۔ مگر اسلام اس معاملے میں ایک منفرد اور جامع تصور پیش کرتا ہے۔ اسلام کسی بھی دنیاوی کامیابی کا انکار نہیں کرتا، بلکہ اسے اس وقت حقیقی کامیابی قرار دیتا ہے جب وہ انسان کی ابدی زندگی، یعنی آخرت کی کامیابی سے جڑ جائے۔ اگر دنیا کی ہر کامیابی انسان کو اللہ کی رضا، جنت اور نجاتِ آخرت تک پہنچانے کا ذریعہ بن جائے تو وہی مکمل اور حقیقی کامیابی ہے، ورنہ وہ صرف ایک عارضی اور محدود کامیابی مانی جائے گی جو وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ادارے کیلئے محنت کرنے والے کی اُجرت
اسلام کے نزدیک کامیابی کی منزل نہ دولت ہے، نہ شہرت، نہ اقتدار اور نہ ہی دنیاوی مقام و مرتبہ، بلکہ اصل کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کی مغفرت اور جنت کا حصول ہے۔ قرآن مجید نے نہایت واضح الفاظ میں فرمایا: ’’جسے جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی حقیقت میں کامیاب ہوگیا۔‘‘ (آل عمران:۱۸۵) اس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو عقلمند قرار دیا ہے جس کی نظر آخرت کی کامیابی پر ہو: ’’عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لئے عمل کرے۔‘‘ (ترمذی) عقلی اعتبار سے بھی یہی تصور درست ہے، کیونکہ تجربے سے یہ بات ثابت ہے کہ دنیا کی ہر نعمت عارضی ہے۔ دولت ختم ہو سکتی ہے، شہرت ماند پڑ سکتی ہے، اقتدار چھن سکتا ہے اور جسمانی قوت زائل ہو سکتی ہے، لیکن آخرت کی کامیابی ایسی ابدی کامیابی ہے جس کے بعد نہ کوئی خوف ہے، نہ محرومی اور نہ زوال۔ اس لئے عقل بھی یہی تقاضا کرتی ہے کہ انسان وقتی فائدے کے ساتھ دائمی کامیابی کو اپنا اصل ہدف بنائے۔
درحقیقت کامیابی کو سمجھنا زندگی کے مقصد کو سمجھنے پر موقوف ہے۔ جب تک انسان یہ نہ جان لے کہ وہ اس دنیا میں کیوں آیا ہے، تب تک وہ کامیابی کی صحیح منزل بھی متعین نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی شخص ڈاکٹر بن کر صرف مریضوں کا علاج کرے، اچھی آمدنی اور وسیع شہرت حاصل کرے اور اسی کو اپنی کامیابی سمجھ لے تو یہ سوچ ادھوری ہے۔ لیکن اگر وہ یہ احساس بھی رکھے کہ مریضوں کی خدمت دراصل خدمت ِ خلق ہے اور خدمت ِ خلق اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ایک عظیم ذریعہ ہے، تو اس کی پیشہ ورانہ زندگی عبادت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ایک تاجر اگر صرف منافع کمانے کو کامیابی سمجھے تو اس کا تصور محدود ہے، لیکن اگر وہ دیانت داری، امانت، انصاف اور حلال رزق کے ذریعے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہے تو اس کی تجارت بھی عبادت بن جاتی ہے۔ ایک استاد اگر صرف تنخواہ کے لئے پڑھاتا ہے تو وہ ایک ملازم ہے، لیکن اگر وہ نئی نسل کی صحیح تربیت اور امت کی تعمیر کو اپنی ذمہ داری سمجھے تو وہ انبیاء کے مشن کا وارث بن جاتا ہے۔ گویا اسلام ہر جائز پیشے کو آخرت کی کامیابی سے جوڑ کر اسے عبادت کا درجہ عطا کرتا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگی کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ کیا ہماری دوڑ صرف دنیاوی کامیابی کے لئے ہے یا ہم دنیا کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بھی بنا رہے ہیں؟ کیا ہماری تعلیم، تجارت، ملازمت، سیاست، خدمت، عبادت اور معاشرت کا رخ اللہ کی رضا کی طرف ہے یا صرف دنیاوی مفادات کی طرف؟ اگر ہمارے تمام فیصلوں کا مرکز صرف دنیا ہے تو ہمیں اپنے تصورِ کامیابی پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر ہم ہر عمل میں اللہ کی خوشنودی، انسانیت کی بھلائی اور آخرت کی نجات کو سامنے رکھتے ہیں تو ہم صحیح راستے پر گامزن ہیں۔ اس لئے انسان کو وقتاً فوقتاً اپنے مقصد، اپنی نیت اور اپنی منزل کا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے کیونکہ راستہ وہی درست ہوتا ہے جس کی منزل بھی درست ہو۔
یہ بھی پڑھئے: محاسبہ کیجئے، کس کی غلطی ہے؟
اگر حقیقت ِ حال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا کے اکثر لوگ آدھی کامیابی کو ہی مکمل کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں۔ مگر اسلام کی نگاہ میں کامیابی کا ترازو کچھ اور ہے۔ اسلام یہ نہیں دیکھتا کہ انسان نے دنیا میں کتنا کمایا، بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ اس نے جو کچھ پایا، اسے کس مقصد کے لئے استعمال کیا۔ اگر دنیا کی کامیابیاں آخرت سے کٹ جائیں تو وہ ادھوری ہیں اور اگر آخرت سے جڑ جائیں تو وہی مکمل اور بابرکت کامیابیاں بن جاتی ہیں۔
یاد رکھیں! مکمل کامیابی حاصل کرنے کے لئے صرف محنت اور منصوبہ بندی کافی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ سے کامیابی کی دعا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ بندہ اپنی پوری طاقت لگا سکتا ہے، لیکن نتائج کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام ہر مرحلے پر دعا کا اہتمام کرتے تھے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی اسباب اختیار کرنے کے ساتھ مسلسل اللہ کے حضور جھکتے، دعائیں کرتے اور اسی پر بھروسہ رکھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ محنت انسان کا فرض ہے اور کامیابی عطا کرنا اللہ کا فضل ہے۔ جب یہ دونوں چیزیں جمع ہو جائیں تو کامیابی میں برکت، اطمینان اور دوام پیدا ہوتا ہے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان پوری محنت کرتا ہے، مسلسل دعائیں بھی مانگتا ہے، پھر بھی اسے اپنے مطلوبہ میدان میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ ایسے مواقع پر مومن کو مایوسی، شکوہ اور بددلی کا شکار نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے وہی فیصلہ فرماتا ہے جس میں ان کی حقیقی بھلائی ہوتی ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: ’’ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو، حالانکہ وہی تمہارے لئے بہتر ہو۔‘‘ (البقرہ:۲۱۶) اس لئے اگر ایک راستہ بند ہو جائے تو اسے زندگی کا اختتام نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے اللہ کی حکمت سمجھتے ہوئے نئے امکانات، متبادل راستوں اور بہتر مواقع پر غور کرنا چاہئے۔ بسا اوقات انسان جس ناکامی پر غمگین ہوتا ہے، وہی بعد میں اس کی سب سے بڑی کامیابی کا سبب بن جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا آپ نے قرآنی آیات کو تصوّر میں محسوس کیا ہے؟
بندگانِ خدا کو یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کامیابی حاصل کرنے کا ایک مؤثر راستہ ان لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کرنا ہے جنہوں نے حقیقی اور مکمل کامیابی حاصل کی۔ سب سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرت، پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ، صحابۂ کرامؓ، تابعین، ائمہ، مصلحین اور امت کے عظیم رہنماؤں کی زندگیاں ہمارے لئے روشن مینار ہیں۔ ان کی زندگیوں میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انہوں نے دنیا کو آخرت کی کھیتی بنایا اور ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھا۔ ایسے لوگوں کی سیرت کا مطالعہ نہ صرف انسان کے فکر و عمل کو درست کرتا ہے بلکہ اس کے اندر بلند حوصلہ، خالص نیت اور صحیح سمت میں آگے بڑھنے کا جذبہ بھی پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو ظاہری کامیابی کے ساتھ ساتھ حقیقی، دائمی اور کامل کامیابی تک پہنچاتا ہے۔