• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

انسان خود اپنا دشمن کب بن جاتا ہے؟

Updated: September 23, 2026, 3:37 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

وہ کون سا لمحہ ہوتا ہے جب انسان، جو زندگی سے محبت کرتا ہے، اپنی ہی زندگی کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے؟ وہ ہاتھ جو کبھی اپنے پیاروں کا ہاتھ تھامنے کے لیے اٹھتا تھا، ایک دن اپنی زندگی کا چراغ بجھانے کی طرف کیوں بڑھ جاتا ہے؟ وہ دل جو کل تک مستقبل کے خواب دیکھ رہا تھا، اچانک کیوں سمجھنے لگتا ہے کہ آگے صرف اندھیرا ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایسا انسان واقعی زندگی کا خاتمہ چاہتا ہے، یا وہ اس ناقابلِ برداشت تکلیف سے نجات چاہتا ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ اسے دکھائی نہ دیتا ہو؟

Picture: INN
تصویر: آئی این این۔

وہ کون سا لمحہ ہوتا ہے جب انسان، جو زندگی سے محبت کرتا ہے، اپنی ہی زندگی کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے؟ وہ ہاتھ جو کبھی اپنے پیاروں کا ہاتھ تھامنے کے لیے اٹھتا تھا، ایک دن اپنی زندگی کا چراغ بجھانے کی طرف کیوں بڑھ جاتا ہے؟ وہ دل جو کل تک مستقبل کے خواب دیکھ رہا تھا، اچانک کیوں سمجھنے لگتا ہے کہ آگے صرف اندھیرا ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایسا انسان واقعی زندگی کا خاتمہ چاہتا ہے، یا وہ اس ناقابلِ برداشت تکلیف سے نجات چاہتا ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ اسے دکھائی نہ دیتا ہو؟
خودکشی صرف ایک فرد کی موت کا واقعہ نہیں؛ یہ اس فرد کے گرد موجود خاندان، تعلقات، معاشرتی ماحول اور ذہنی کیفیت کا بھی ایک دردناک آئینہ ہے۔ اس کے پیچھے اکثر ایک ایسا بحران ہوتا ہے جو باہر سے دکھائی نہیں دیتا۔ شدید ناامیدی، مسلسل ذہنی دباؤ، تنہائی، رشتوں کی شکست، مالی مشکلات، تعلیمی یا پیشہ ورانہ ناکامی، ازدواجی مسائل، تشدد، سماجی تحقیر، نشہ، ذہنی بیماری اور اچانک پیش آنے والے شدید واقعات انسان کی برداشت کو اس مقام تک پہنچا سکتے ہیں جہاں اسے اپنی تکلیف سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ اسی لئے خودکشی کو محض بزدلی، کمزور ارادے یا ایمان کی کمی قرار دینا مسئلے کو سمجھنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ بعض اوقات ایک شخص کو نصیحت سے پہلے سماعت، فیصلے سے پہلے ہمدردی اور ملامت سے پہلے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عمدہ لباس پہننا منع نہیں، اس پرتکبر اور فخر وغرور کرنا منع ہے

دنیا میں خودکشی ایک اہم عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔ عالمی سطح پر ہر سال لاکھوں افراد خودکشی کے سبب اپنی جان سے محروم ہوتے ہیں، جب کہ اس سے کہیں زیادہ لوگ خودکشی کے خیالات یا کوششوں کے مرحلہ سے گزرتے ہیں۔ لیکن اعداد و شمار صرف مسئلے کا حجم بتاتے ہیں؛ وہ اس درد کی پوری کہانی نہیں بتاتے جس سے گزر کر کوئی شخص اس مقام تک پہنچتا ہے۔ 
بہت سے معاملات میں خودکشی کا خیال اچانک پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے کئی دنوں، مہینوں یا کبھی برسوں کی تکلیف جمع ہوتی رہتی ہے۔ کوئی  ناکامی، طلاق، قرض، امتحان یا رشتہ بظاہر آخری واقعہ محسوس ہوسکتا ہے، لیکن اکثر وہ پہلے سے موجود ذہنی اور جذباتی بوجھ پر پڑنے والا آخری دباؤ ہوتا ہے۔  ناامیدی انسان کے مستقبل کے تصور کو محدود کردیتی ہے۔ اسے آج کا درد مستقل دکھائی دینے لگتا ہے اور کل کے امکانات نظر آنا بند ہوجاتے ہیں۔  آج رابطے کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، مگر حقیقی تعلق کا بحران بھی بڑھتا رہتا  ہے۔ گھر میں لوگ موجود ہوں، دوست احباب موجود ہوں، سوشل میڈیا پر سیکڑوں رابطے ہوں، پھر بھی انسان اندر سے تنہا ہوسکتا ہے۔ کسی کا خاموش ہوجانا، لوگوں سے الگ رہنا،  اداس رہنا، اپنی قدر کے بارے میں منفی باتیں کرنا، احساس کمتری کا شکار ہونا یا بار بار یہ کہنا کہ ’’میری زندگی کا کوئی فائدہ نہیں‘‘ معمولی بات نہیں۔ ایسی باتوں کو  نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: ان امور میں موازنہ نہ کریں جن میں انسان کو کوئی اختیار حاصل نہیں

خاندان انسان کیلئے سب سے پہلا حفاظتی حصار ہوسکتا ہے، مگر یہی حصار جب مسلسل جھگڑے، تحقیر، تشدد، غیر ضروری موازنہ، سخت توقعات یا جذباتی بے اعتنائی سے کمزور ہوجائے تو فرد کا تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ بچے سے ہر وقت یہ کہنا کہ فلاں کے نمبر تم سے زیادہ ہیں، نوجوان کو مسلسل ناکام قرار دینا، بیٹی یا بیٹے کے جذبات کو محض ضد سمجھنا، شوہر یا بیوی کی ہر پریشانی کو شکایت کہہ کر رد کردینا، یہ سب بظاہر معمولی رویے ہیں، مگر مسلسل تکرار کے ساتھ کسی انسان کے اندر گہرا زخم پیدا کرسکتے ہیں۔ گھر صرف کھانے اور رہنے کی جگہ نہیں؛  وہ جگہ ہونا چاہئے جہاں انسان دنیا سے شکست کھا کر بھی واپس آ سکے۔
قرض، بے روزگاری، کاروباری نقصان، مسلسل مالی دباؤ اور خاندان کی ضروریات پوری نہ کر پانے کا احساس انسان کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کرسکتا ہے۔ خصوصاً ایسے معاشروں میں جہاں کامیابی کو دولت اور ناکامی کو مالی حیثیت سے ناپا جاتا ہو، معاشی بحران انسان کی خود اعتمادی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ لیکن معاشی ناکامی زندگی کی ناکامی نہیں ہے۔ پیسہ دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے، روزگار دوبارہ مل سکتا ہے، کاروبار دوبارہ شروع ہوسکتا ہے؛ زندگی واپس نہیں آتی جو رب العالمین کا عطا کردہ عظیم تحفہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK