مصیبتیں صرف حادثات نہیں، ایک پیغام بھی ہوتی ہیں۔ انسانی زندگی میں مصیبت، آزمائش، پریشانی، بیماری، تنگی، خوف اور اجتماعی بحران کا آنا انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 4:26 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai
مصیبتیں صرف حادثات نہیں، ایک پیغام بھی ہوتی ہیں۔ انسانی زندگی میں مصیبت، آزمائش، پریشانی، بیماری، تنگی، خوف اور اجتماعی بحران کا آنا انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔
مصیبتیں صرف حادثات نہیں، ایک پیغام بھی ہوتی ہیں۔ انسانی زندگی میں مصیبت، آزمائش، پریشانی، بیماری، تنگی، خوف اور اجتماعی بحران کا آنا انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔ اسلام ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتا کہ ہر مصیبت کو فوراً کسی ایک گناہ کا قطعی نتیجہ قرار دے دیا جائے، کیونکہ انبیاء علیہم السلام اور صالحین بھی آزمائشوں سے گزرے ہیں؛ لیکن قرآن و سنت یہ ضرور بتاتے ہیں کہ بعض مصائب انسانوں کے اپنے اعمال، گناہوں، ظلم اور اجتماعی بگاڑ کا نتیجہ بھی ہوتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور تمہیں جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب ہے، اور وہ بہت سی باتوں سے درگزر بھی فرماتا ہے۔‘‘ (سورۃ الشوریٰ:۳۰) اس آیت میں انسان کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دی گئی ہے۔ مصیبت آئے تو صرف حالات، زمانے، دشمنوں یا قسمت کو الزام دینے کے بجائے یہ سوال بھی ہونا چاہئے کہ کہیں ہماری زندگی میں اللہ کی نافرمانی، حقوق العباد کی پامالی، ظلم، بے انصافی، حرام کمائی، اخلاقی زوال یا اجتماعی بے حسی تو اس کا سبب نہیں بن رہی ہے؟
یہ بھی پڑھئے:بارش رک گئی، کہیں اس کے ذمے دار ہم ہی تو نہیں؟ محاسبہ ضروری ہے!
قرآنِ کریم نے انسانی اعمال اور اجتماعی حالات کے درمیان ایک واضح تعلق بیان کیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’خشکی اور سمندر میں لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب فساد ظاہر ہوگیا، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید کہ وہ باز آجائیں۔‘‘ (سورۃ الروم: ۴۱) غور کیجئے، قرآن نے صرف یہ نہیں کہا کہ مصیبت سزا ہے؛ بلکہ ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ بھٹکے ہوئے لوگ راہ راست پر آجائیں۔ گویا بعض مصیبتیں اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ ہوتی ہیں، ایک دروازہ ہوتی ہیں جس کے ذریعے بندہ توبہ کی طرف واپس آسکتا ہے۔ جب معاشرے میں گناہ معمول بن جائیں، حرام و حلال کی تمیز کمزور ہوجائے، جھوٹ، خیانت، ظلم، بددیانتی، فحاشی اور حقوق کی پامالی کو معمولی سمجھا جانے لگے تو انسان کو صرف خوش حالی کی خواہش نہیں کرنی چاہئے؛ اسے اپنے اعمال کی اصلاح بھی کرنی چاہئے۔ مصیبت کے وقت سوال یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ’’ہم پر یہ کیوں ہوا؟‘‘ بلکہ یہ ہونا چاہئے کہ ’’ہمیں اپنے اندر کیا بدلنا ہے؟‘‘
یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ ہر مصیبت کو صرف گناہ کی سزا سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ بہت سی آزمائشیں اللہ تعالیٰ بندے کے درجات بلند کرنے، اس کے صبر کو ظاہر کرنے اور اس کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بناتا ہے۔ حضورؐ نے فرمایا:’’مسلمان کو جو بھی تھکن، بیماری، غم، تکلیف یا پریشانی پہنچتی ہے، یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ اس کے ذریعے اس کے بعض گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری) مومن کا کام یہ ہے کہ مصیبت میں صبر کرے، اللہ سے حسنِ ظن رکھے، جائز اسباب اختیار کرے اور مایوسی کو اپنے دل میں جگہ نہ دے۔
ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ اگر ہم اپنی حالت بدلنے کیلئے صرف دعائیں کرتے رہیں مگر اپنے معاملات نہ بدلیں، حالات کا شکوہ کریں مگر کردار نہ بدلیں، دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرائیں مگر اپنی ذمہ داری قبول نہ کریں تو تبدیلی کیسے آئے گی؟ یاد رکھیں! مصیبت کے وقت صرف دعا نہیں، تدبیر بھی ضروری ہے۔ اسلام ہمیں نہ تو صرف مادی اسباب پر اعتماد سکھاتا ہے اور نہ ہی صرف ظاہری تدبیر چھوڑ کر دعا پر اکتفا کرنے کی تعلیم دیتا ہے؛ توکل کے ساتھ اسباب اختیار کرنا اسلامی مزاج ہے۔ وبا کے معاملے میں خود آپؐ نے احتیاط کی تعلیم دی کہ جب کسی علاقے میں طاعون پھیلنے کی خبر ہو تو وہاں داخل نہ ہو، اور جہاں طاعون موجود ہو وہاں سے بھاگ کر نہ نکلا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصیبت کے تدارک میں شرعی اسباب کے ساتھ انسانی تدبیر بھی ضروری ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے کی کمزوریوں کو پہچاننا ہوگا: تعلیم، صحت پر توجہ اور اخلاقی زوال، باہمی اختلاف، جبر اور ناانصافی کے خلاف نوجوانوں کی تربیت کیلئے عملی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ بلاشبہ اللہ سب ٹھیک کرتا ہے لیکن بندہ کا کام ہے کہ وہ اللہ پر بھروسہ کے ساتھ اپنی ذمہ داری بھی پوری کرے۔n
استغفار کا حکم
توبہ صرف زبان سے ’’استغفر اللہ‘‘ کہہ دینے کا نام نہیں، بلکہ گناہ کو چھوڑنے، ندامت محسوس کرنے، آئندہ نہ کرنے کا عزم کرنے اور جہاں کسی بندے کا حق وابستہ ہو وہاں حق ادا کرنے کا نام ہے۔ قرآنِ مجید میں حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کو دعوت دیتے ہوئے فرمایا: ’’پس میں نے کہا: اپنے رب سے بخشش مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے؛ وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا، اور تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا، اور تمہارے لیے باغات بنائے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کرے گا۔‘‘ (سورۃ نوح:۱۰۔۱۲) یہ آیات بتاتی ہیں کہ استغفار صرف آخرت کی بخشش کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیاوی حالات کی بہتری کا بھی ایک اہم روحانی سبب ہے۔