Inquilab Logo Happiest Places to Work

یونانی اور آیوروید ڈاکٹروں کو ’جعلی یا نیم حکیم‘ کہنا مہنگا پڑ سکتا ہے

Updated: August 06, 2026, 10:20 AM IST | Ali Imran | Nagpur

مرکزی حکومت کے فیصلے کے مطابق بی یو ایم ایس اور بی اے ایم ایس ڈاکٹروں کو بدنام کرنے پر کارروائی ہو گی۔

Herpetic has its own importance.
ہر پیتھی کی اپنی اہمیت ہے۔ تصویر: آئی این این

مرکزی حکومت کے نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن (این سی آئی ایس ایم) نے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بی اے ایم ایس، بی یو ایم ایس وغیرہ جیسے سرکاری طور پر تسلیم شدہ ٹائٹل رکھنے والے رجسٹرڈ ڈاکٹروں کو ’بوگس یا عطائی، نیم حکیم یا  جعلی ڈاکٹر‘ کہنےکو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا ہے۔  کمیشن کے ’بورڈ آف ایتھکس اینڈ رجسٹریشن‘ کے چیئرمین ڈاکٹر سُشروت کنوجیا کے دستخط کے تحت جاری کردہ سر کیولرمیں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ریاستی طبی کونسلوں کے ساتھ رجسٹرڈ ہر ڈاکٹر انڈین میڈیکل سسٹم سینٹرل کونسل ایکٹ، ۱۹۷۰ ءاور این سی آئی ۲۰۲۰ ءکے سیکشن ۳۴ ؍اور ۵۵ ؍کے مطابق مکمل طور پر ’قانونی اور تسلیم شدہ‘ طبی پیشہ ور ہے۔ بتادیں کہ حالیہ دنوں میں یوٹیوب، واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہندوستانی طبی نظام کے ڈاکٹروں کی جان بوجھ کر بدنامی میں کی جا رہی ہے۔ کچھ جگہوں پر، ان ڈاکٹروں کو پرنٹ شدہ پبلک نوٹس یا میڈیا رپورٹس میں ’بوگس‘ ( جعلی)بھی کہا گیا تھا۔ اس سے ریاست بھر کے ڈاکٹروں میں شدید غصہ پایا جارہا جس کا اب سنجیدگی سے نوٹس لیا گیا ہے۔ کسی اتھاریٹی یا میڈیا کو رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی ساکھ کو خراب کرنے کا حق نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایوت محل میں صرف ۶؍ ماہ میں ۱۵۲؍ کسانوں کی خود کشی، کئی کسان معاوضوں سے محروم

کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کسی بھی کوشش کو این سی آئی ایس ایم ایکٹ کی براہ راست خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلے سے لاکھوں آیوروید ڈاکٹروں کو بڑی  راحت ملی ہے جو برسوں سے سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ نیشنل انٹیگریٹیڈ میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر رویندر بوتھرا نے اس فیصلے پر میڈیا میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ این سی آئی ایس ایم کا یہ فیصلہ ہندوستانی طبی نظام میں ڈاکٹروں کے وقار کی حفاظت کیلئے ہے۔ بی اے ایم ایس یا بی یو ایم ایس ڈاکٹر ساڑھے ۵؍سال کی سخت تعلیم اور انٹرن شپ مکمل کرنے کے بعد سرکاری قواعد کے مطابق طبی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، ڈاکٹروں کو سوشل میڈیا پر صرف ایلوپیتھی بمقابلہ آیوروید جیسی بحثوں کی بنیاد پر یا جزوی معلومات کی بنیادپر بوگس کے طور پر بدنام کیا جا رہا تھا۔ لہٰذا یہ فیصلہ آیوش اور انڈین سسٹم آف میڈیسن کے مجاز ڈاکٹروں کی بدنامی کو روکنے کیلئے کارگر ثابت ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK