میڈیا رپورٹ پر یقین کریں تو ان تینوں ممالک نے ایران سے اس معاملے میں گفتگو کی تھی مگر ایران نے مسودے کی تیاری میں اس کی بھی حصہ داری ہونے کی شرط رکھ دی۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 9:01 AM IST | Inquilab Desk | Mumbai
میڈیا رپورٹ پر یقین کریں تو ان تینوں ممالک نے ایران سے اس معاملے میں گفتگو کی تھی مگر ایران نے مسودے کی تیاری میں اس کی بھی حصہ داری ہونے کی شرط رکھ دی۔
حال ہی میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے آپس میں ایک معاہدہ کیا ہے جس کی رو سے ایک ان تینوں میں سے کسی ایک ملک پر بھی حملہ کیا گیا تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یعنی ان میں سے کسی ایک پر حملہ ہوا تو باقی دونوں کو اس کی مدد کرنی ہوگی۔ چونکہ اس معاہدے پر مقدس شہر مکہ میں دستخط کئے گئے تھے اسے اس لئے ’مکہ دفاعی معاہدہ‘ نام دیا گیا ۔ عالم اسلام میں عام تاثر یہ تھا کہ کیا اس اتحاد میں ایران کو شامل نہیں کیا جا سکتا جو اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے عتاب کا شکار ہے؟ ماہرین کا کہنا تھا کہ مصر اور ایران بھی بہت جلد اس اتحاد میں شریک ہو سکتے ہیں۔ ایک رپورٹ کےمطابق ایران کا کہنا ہے کہ مکہ معاہدے میں شامل ممالک یعنی پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے اسے اِس معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت نہیں دی ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نےیک پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ ’ہمیں مکہ معاہدے میں شمولیت کی کوئی دعوت موصول نہیں ہوئی ہے، تاہم علاقائی سلامتی کے تعلق سے مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی تھی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: لندن: میئر صادق خان پر گاڑی کا ٹیکس ادا نہ کرنے پر جرمانہ، ٹیم کا ملکیت سے انکار
یاد رہے کہ اس سے خلیجی ممالک کے میڈیا میں یہ خبر آئی تھی کہ ’ایران کو مکہ معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے اور اس معاملے پر گفت وشنید جاری ہے۔ اس خبر کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی لیکن گزشتہ دنوں ایران کی نیشنل سیکوریٹی کونسل کے عہدیدار محسن رضائی کے بیان نے پھر ان خبروں کوتقویت دی۔ محسن رضائی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران صرف اسی صورت میں مکہ معاہدے کا حصہ حصہ بن سکتا ہے جب اُسے اس معاہدے کا ’شریک بانی‘ تسلیم کیا جائے اور اسے اس معاہدے کے بنیادی مسودے کی تیاری میں اسے بھی حصہ دار بنایا جائے۔محسن رضائی نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران اور مصر کو (مکہ معاہدے جیسے) علاقائی انتظامات سے باہر نہیں رکھا جانا چا ہئے۔ ’ایران اور مصر ایسے معاہدوں سے غائب نہیں ہو سکتے، البتہ اُن کی حیثیت بانی ممالک کی ہونی چاہئے۔یعنی ان فریقوں کے طور پر جن کے تصورات اور خیالات دستخط شدہ مسودے میں شامل کیا جائے۔‘انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ یہ قابل قبول نہیں ہےکہ ’یہ دوست ممالک‘ پہلے آپس میں معاہدہ طے کر لیں اور بعد میں ایران سے اس کی توثیق یا حمایت کا مطالبہ کریں۔ محسن رضائی کے اس بیان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ایران کو مکہ معاہدے میں شامل کرنے کی کسی نہ کسی سطح پر بات ضرور ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ محسن رضائی ایران کے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سینئر مشیر بھی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مکہ معاہدہ خطے میں امریکہ کی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کا نتیجہ ہے۔ ’پاکستان، ترکی اور سعودی عرب یعنی ہمارے دوست اور برادر ممالک نے ایک معاہدہ کیا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ امریکہ نے انھیں کہہ دیا ہے’’خداحافظ، ہم جا رہے ہیں۔‘‘محسن رضائی کے مطابق خطے میں امریکی موجودگی میں کمی سے پیدا ہونے والا خلا مختلف ممالک کو نئے انتظامات تشکیل دینے پر آمادہ کر رہا ہے، اور یہ صورتحال واشنگٹن کے ساتھ ایران کی طویل کشمکش کا نتیجہ ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس معاہدے کو خطے میں سیکوریٹی سے متعلق بدلتے ہوئے تصورات کا ثبوت قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اتھنال پالیسی میں چند بنیادی اصلاحات کی ضرورت
انھوں نے کہا تھا کہ ایران تینوں ممالک (پاکستان، ترکی اور سعودی عرب) کے ساتھ رابطے میں رہا ہے اور اسے اس تعلق سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاہدے میں تہران کی شمولیت کے امکان کو خارج نہیں کیا گیا تھا۔ایران کی جانب سے سامنے آنے والے ان بیانات کے بعد یہ اشارہ ضرور مل رہا ہےکہ ایران مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کر رہا ہے۔ یہ ایک الگ سوال ہے کہ وہ اس معاہدے میں خود کو ’شریک بانی‘ کے طور پر شامل کرنے کی بات کیوں کر رہا ہے؟ اور کیا سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کیلئے ایران کی یہ شرط قابلِ قبول ہو سکتی ہے؟ حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران بلا شرط اس معاہدے میں شامل ہونا چاہے تو شاید سعودی عرب ، پاکستان اور ترکی فوراً راضی ہوجائیں۔ محسن رضائی کے بیان سے لگتا ہے کہ ایران اس معاہدے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں چاہتا ہے جو شاید اِن تینوں ممالک کو قبول نہ ہو۔ غالباً ایران مکہ معاہدے کو امریکہ مخالف معاہدے میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ حالانکہ معاہدے میں شامل تینوں ممالک واضح کر چکے ہیں کہ یہ معاہدہ کسی ایک ملک کے خلاف نہیں ہے۔ ماہرین اس حقیقت سے انکار نہیں کرتے کہ امریکہ کی خطے میں موجودگی کچھ کم ہوئی ہے، مگر یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، امریکہ کی بھی مکہ معاہدے پر نظر ہوگی ۔ ایران اس معاہدے میں شامل ہو یا نہ ہو اُس کا ہدف امریکہ ہی ہے اور وہ معاہدے میں خطے میں امریکی تنصیبات اور اڈوں سے متعلق نکات شامل کروانا چاہتا ہے۔’اگر ایسا ہوا تو یہ معاہدہ کسی خاص ملک کے خلاف نظر آئے گا جو ان تینوں ممالک کیلئے قابلِ قبول نہیں ہو گا وہ بھی امریکہ کے خلاف۔