• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان : ٹھیکیداروں کا میونسپل کارپوریشن کےہیڈکوارٹر کے باہراحتجاج

Updated: September 03, 2026, 9:01 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) میں ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے باوجود ٹھیکیداروں کے کروڑوں روپے کے بل گزشتہ کئی برس سے زیر التوا ہونے کا معاملہ اب احتجاج تک پہنچ گیا ہے۔

Contractors can be seen protesting in the picture. Picture: INN
تصویر میں ٹھیکیدار احتجاج کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) میں ترقیاتی کاموں کی تکمیل کے باوجود ٹھیکیداروں کے کروڑوں روپے کے بل گزشتہ کئی برس سے زیر التوا ہونے کا معاملہ اب احتجاج تک پہنچ گیا ہے۔ ٹھیکیدار تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ تقریباً ۱۰۰ ؍سے ۱۵۰؍ٹھیکیداروں کے ۲۰۰؍کروڑ روپے کے واجبات گزشتہ ۳؍ سال سے ادا نہیں کئے گئے جس کے باعث ٹھیکیدار شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ بقایاجات کی فوری ادائیگی کے مطالبےکے تحت ٹھیکیداروں نے کے ڈی ایم سی صدر دفتر پر احتجاج کیا اور انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ترقیاتی کاموں کے زیر التوا بلوں کی ادائیگی اور بقایاجات فوری طور پر ادا کرنے کے مطالبے کے تحت ٹھیکیداروں کی تنظیم کی جانب سے  بدھ کے روز احتجاج کیا گیا۔ اس موقع پر تنظیم کے عہدیداران وجے بھوسلے، کالیداس کدم،  سمیت کے ڈی ایم سی میں ترقیاتی کام انجام دینے والے بڑی تعداد میں ٹھیکیدار شریک ہوئے۔ ٹھیکیداروں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے سڑکوں، نالوں اور دیگر مختلف ترقیاتی کاموں کے ٹھیکے دیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایم این ایس اور بی جے پی کارکنان میں مارپیٹ

ٹھیکیداروں نے مقررہ مدت میں کام مکمل بھی کیے لیکن کام مکمل ہونے کے باوجود متعلقہ بلوں کی ادائیگی نہیں کی گئی۔ گزشتہ تین برس سے رقم رکی ہونے کے باعث ٹھیکیداروں کے لیے نہ صرف نئے کام جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے بلکہ سابقہ کاموں سے وابستہ مالی ذمہ داریاں پوری کرنا بھی دشوار ہو رہا ہے۔احتجاج میں شامل مظاہرین نے بتایا کہ رقم کی عدم ادائیگی کا براہِ راست اثر ان کے ساتھ کام کرنے والے مزدوروں اور تعمیراتی سامان فراہم کرنے والے سپلائرز پر بھی پڑ رہا ہے۔ مزدور اپنی اجرت اور سپلائرز اپنی بقایا رقم کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ ٹھیکیداروں پر بینک قرض، مزدوروں کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کئی ٹھیکیداروں کیلئے  اپنے خاندان کا گزر بسر کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔مظاہرین نے کہا کہ ہم نے حکومت اور میونسپل کارپوریشن کے لیے کام کیا ہے ہماری محنت کی رقم ہمیں ملنی چاہیے۔حکومت اور میونسپل انتظامیہ کو ٹھیکیداروں کے مسائل کو محض مالی معاملہ سمجھنے کے بجائے انسانی اور معاشی مسئلے کے طور پر دیکھنا چاہیے اور طویل عرصے سے زیرِ التوا ادائیگیاں فوری طور پر کی جانی چاہئیں ٹھیکیدار تنظیم نے دعویٰ کیا کہ تقریباً ۲۰۰؍کروڑ روپے کی مجموعی رقم حکومت اور میونسپل کارپوریشن کے ذمے واجب الادا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK