• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملی تنظیموں کے نمائندوں اورعلماء پر مشتمل وفد کی ادھو ٹھاکرے سے ملاقات

Updated: September 03, 2026, 9:01 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Bandra

مختلف اہم مسائل پر شیوسینا سربراہ کے ہمراہ تبادلہ خیال، انہوںنے ایس آئی آر میں بڑی تعداد میںنام کٹنے پرکہا: یہ مسلمانوں کا ہی نہیں ہندوؤں کا بھی مسئلہ ہے ۔لال باغ کے تشدد پرافہام وتفہیم سے اسے حل کرنےکا مشورہ دیا۔

Uddhav Thackeray. Picture: INN
ادھو ٹھاکرے۔ تصویر: آئی این این

مختلف اہم مسائل پرشیوسینا سربراہ کے ہمراہ تبادلۂ خیال کیا گیا۔ملی تنظیموں اورعلماء پرمشتمل ایک وفد نےبدھ کی دوپہر کو ادھو ٹھاکرے اورآدتیہ ٹھاکرے سے ماتوشری میں ملاقات کی۔ نصف گھنٹے تک جاری رہنے والی گفتگو کے دوران انہوں نےایس آئی آر میں بڑی تعداد میں نام کٹنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کاہی نہیںہندوؤں کا بھی مسئلہ ہے۔ اسی طرح عید میلادالنبیؐ کے جلوس سے واپسی کے وقت لال باغ میں تشدد پرافہام وتفہیم سے اسے حل کرنےکا مشورہ دیا۔

ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کے دوران یکساں سول کوڈ، تبدیلیٔ مذہب قانون اور ایس آئی آر وغیرہ پر بات چیت کی گئی ۔  ادھو ٹھاکرے نےتمام باتیں بغور سننے کےبعد کہا کہ ایسا لگتا ہےکہ ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ سیاسی فائدہ حاصل ہوسکے اس لئے الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ اس تعلق سے انہوں نے یہ بھی یقین دلایاکہ میں اپنے کارکنان سے کہوں گا کہ چونکہ گنپتی کا تہوار آرہا ہے اور پوری ریاست میں یہ تہوار جوش وخروش سےمنایا جاتا ہے۔ ایسے میںہمیںزیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر اس دوران ماحول خراب کرنے کی کوشش کامیاب ہوئی تو بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’ابھے یوجنا‘ نافذ کرکے پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ

ادھو ٹھاکرے نےایس آئی آر کےتعلق سے بھی یہ بھی کہا کہ ’’ جس طرح زیراکس کی دکان پرایس آئی آرکےہزاروں فارم پائے گئے ہیں، اس سے تویہ پوری مہم ہی مشکوک ہوجاتی ہے۔ میںخود بھی اس تعلق سے کوشاں ہوں اوراپنی پارٹی کے عہدیداران سےبھی کہا ہے۔ ویسے یہ محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس سے ہندوبھی متاثر ہورہے ہیں اور ان کے بھی نام کٹے ہیں۔ ‘‘

ادھو ٹھاکرے نے عیدمیلادالنبی ؐ کے جلو س سے واپسی کےدوران لال باغ میں تشدد برپا کرنے اورمجگاؤں میںانڈا پھینکنے کےمعاملے کے تعلق سے کہا کہ ’’ اس سلسلے میں گنپتی منڈ ل والوں سے بھی آپ لوگ بات چیت کیجئے اور انہیں ساتھ لے کرپولیس کمشنر سے ملاقات کیجئے تاکہ یہ معاملہ طول پکڑنے کے بجائےختم ہوجائے ۔ ‘‘ دورانِ گفتگو شاکر شیخ نے بطو رخاص اس جانب توجہ مبذول کروائی اوریہ اندیشہ ظاہر کیا کہ ڈرافٹ لسٹ میںجو نام آگئے ہیں ان میںسے بھی بڑی تعداد میں نام حذف کرنے کا کام بڑے شاطرانہ انداز میں شروع ہوسکتا ہے۔بوتھ لیول ایجنٹ (بی ایل اے )کی مدد سے خاص طور پر ان کے نام کاٹے جانے کا اندیشہ ہے جو حکمراں محاذ کے حق میں ووٹ نہیںڈالتے ۔اس لئے سخت نگرانی کے لئے اپنی جانب سے ایک ٹاکس فورس تیار رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ طاقتیں اس میں کامیاب نہ ہوسکیں۔‘‘ ادھوٹھاکرے اور آدتیہ ٹھاکرے سے ملاقات کے دوران وفد میںمولانا مولانا امیر عالم قاسمی ، مولانا ظہیر عباس رضوی، ہمایوں شیخ، شاکر شیخ، حافظ اقبال چونا والا، سراج خان، سرفراز آرزو، سراج شیخ، اسلم خان، محفوظ صدیقی اور رکن پارلیمنٹ اروند ساونت وغیرہ شامل تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK