رزق عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی ’’عطا‘‘ ہے اور اس سے مراد اﷲ تعالیٰ کی ہر عطا کردہ نعمت ہے۔ اس میں مال، طاقت، علم، اناج اور وقت سب نعمتیں شامل ہیں۔ ان کی تقسیم کا اختیار اﷲ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 5:01 PM IST | Maulana Dr. Amjad Hussain | Mumbai
رزق عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی ’’عطا‘‘ ہے اور اس سے مراد اﷲ تعالیٰ کی ہر عطا کردہ نعمت ہے۔ اس میں مال، طاقت، علم، اناج اور وقت سب نعمتیں شامل ہیں۔ ان کی تقسیم کا اختیار اﷲ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے۔
رزق عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی ’’عطا‘‘ ہے اور اس سے مراد اﷲ تعالیٰ کی ہر عطا کردہ نعمت ہے۔ اس میں مال، طاقت، علم، اناج اور وقت سب نعمتیں شامل ہیں۔ ان کی تقسیم کا اختیار اﷲ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ’’بلاشبہ! اﷲ تعالیٰ خود رزاق ہے، مستحکم قوت والا ہے۔‘‘(سورہ الذاریات : ۵۸)
اﷲ تعالیٰ نے تمام نعمتیں عطا فرمانے کے بعد ان تمام چیزوں کو استعمال کرنے اور برتنے کی اجازت دی ہے۔ مگر ان میں اوّلین شرط حلال مقرر کی ہے۔ سورہ مائدہ (آیت:۴)میں اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’لوگ آپؐ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کون سی چیزیں حلال ہیں۔ لہٰذا آپؐ فرما دیجئے کہ ان کے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں۔‘‘ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کے لئے ہر نفع بخش چیز کو حلال قرار دیا گیا ہے اور جو چیز انسانی جسم، صحت اور عقل کے لئے نقصان دہ ہوسکتی ہے اس سے منع کیا گیا اور روکا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا: کیا گھنٹوں میں تبدیل ہونے والے دو منٹ واپس ملیں گے؟
اس میں دوسری شرط اعتدال اور میانہ روی کی مقرر کی ہے اور اس کی بنیاد بھی حفظ صحت و مال اور تمام بنی نوع انسان کی کھانے پینے کی بنیادی ضرورت کی تکمیل ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، بے شک! اﷲ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (سورہ الاعراف: ۳۱) اور فرمایا:’’اور کھاؤ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی کے طور پر دی ہیں اور اس میں زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا عذاب اترے اور جس پر میرا غضب اترا بے شک! وہ ہلاک ہوا۔‘‘ (سورہ طٰہٰ: ۸۱)
گویاکہ قرآن کریم نے کھانے پینے کا حکم دینے کے بعد اس میں اسراف اور غلو کی ممانعت بھی ذکر کی اور اس کے مقابلے میں اعتدال و میانہ روی کا حکم دیا اور اسراف و فضول خرچی سے منع کیا اور اس کے ارتکاب پر نعمتوں کے چھن جانے اور سلب ہونے کی وعید کے بارے میں فرمایا ہے ، جیسا کہ سورہ النحل (آیت:۱۱۲) میں ارشاد ہوا: ’’اﷲ تعالیٰ اس بستی کی مثال ذکر فرماتا ہے جو پورے اطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس ہر جگہ سے چلی آرہی تھی پھر اس نے اﷲ کی نعمتوں کا کفر کیا تو اس نے بھوک اور ڈر کا مزا چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا۔‘‘
اس میں نعمتوں کی ناقدری و ضیاع پر نہ صرف ان کے ہاتھ سے نکل جانے کا ذکر ہے بلکہ اس پر عذاب الٰہی کی بھی وعید سنائی گئی ہے۔ اس لئے آپؐ کی احادیث مبارکہ رزق کی قدردانی کا درس دیتی ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، نبی کریمؐ میرے گھر تشریف لائے، آپؐ نے دیکھا کہ روٹی کا ایک ٹکڑا زمین پر پڑا ہوا ہے۔ آپؐ نے اسے اُٹھایا، صاف کیا اور پھر کھا لیا اور فرمایا: عائشہؓ! اﷲ تعالیٰ کی جو نعمتیں تمہاری پڑوسی بن جائیں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آؤ۔ (حسن سلوک سے پیش نہ آؤگی تو یہ بھاگ جائیں گی) اور جس قوم سے یہ بھاگ جاتی ہیں اس کی طرف واپس لوٹ کر نہیں آتیں۔‘‘ (ابن ماجہ) اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قحط سالی، قلت رزق اور تنگ دستی کی ایک وجہ رزق کی ناقدری بھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عید ایک روشن صبح
سورہ التکاثر(آیت:۸) میں بھی ارشاد ہوا: ’’اُس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘ اس لئے اﷲ تعالیٰ کی ہر نعمت ہمارے پاس بہ طور امانت ہے جس کے بارے میں ہم جواب دہ ہیں۔ چنانچہ فقہاء نے اشیاء خور و نوش میں ہر اُس پہلو اور صورت کو ناجائز و قابل تنبیہ قرار دیا ہے جس میں رزق کی ناقدری و ضیاع یا اسراف کی صورت پائی جائے۔ چنانچہ عبادات اور اپنی ضروریات کیلئے درکار قوت کے حصول کے بہ قدر کھانا باعث اجر و ثواب ہے اور پیٹ بھرنے کی مقدار کھانا مباح (جس پر نہ اجر اور نہ ہی عتاب) ہے ۔
علامہ شامیؒ نے اس کی وجہ رزق کا ضیاع اور بیماریوں کا خدشہ کہا ہے۔ جب پیٹ بھرنے سے زائد مقدار کھانے کی ممانعت ہے تو برتنوں میں چھوڑ کر اور گرا کر ضائع کرنا کس قدر ناپسندیدہ ہوگا۔ اس کی تاکید آپؐ کی حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے جس میں ارشاد گرامی کا مفہوم ہے: ’’پیٹ سے بڑھ کر کسی برتن کا بھرنا بُرا نہیں۔ ابن آدم کے لئے اتنا کھانا کافی ہے جس سے وہ اپنی کمر سیدھی رکھ سکے۔ اگر اس پر قدرت نہ ہو تو پیٹ کے تہائی حصّہ میں کھائے ، تہائی پانی کے لئے رکھے اور تہائی اپنے لئے۔‘‘ (ابن ماجہ)
یہ بھی پڑھئے: ملازمت: امانت کا عہداور ذمہ داری کا بوجھ اٹھانا ہے
اس وقت ہمارے معاشرے میں نمود و نمائش اور چٹ پٹے کھانوں کے شوق اور زبان کے نئے ذائقوں کے فیشن کی وجہ سے جس نعمت کا سب سے زیادہ ضیاع اور ناقدری دیکھنے میں آرہی ہے وہ رزق ہے۔ ہمیں چاہئے کہ نعمتوں پر شکر کریں، فضول خرچی سے بچیں، رزق کی ناقدری نہ کریں اور رزق کی ناقدری پر آنے والے وبال (نعمتوں کے چھن جانے) سے اﷲ تعالیٰ کی پناہ مانگیں۔