اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’عنقریب دیگر اقوام تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے تھال پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ سائل نے عرض کیا: کیا ہم تعداد میں کم ہونگے؟ ارشاد ہوا: نہیں، بلکہ تم اس دن کثیر ہو گے لیکن سیلاب کے جھاگ کی طرح ہو گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا رعب نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں ’’وہن‘‘ ڈال دے گا۔ پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ!وہن کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: دنیا کی محبت اور موت سے بیزاری۔
تاریخِ عالم کا یہ ایک مسلمہ قانون ہے کہ اقوام و ملل کا عروج و زوال محض ہتھیاروں کی کمی یا بیشی کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے اقوام کا فکری، اخلاقی اور روحانی مزاج کارفرما ہوتا ہے۔ تاریخ کے جھروکوں میں جب ہم اُمت ِمسلمہ کے شاندار ماضی اور موجودہ زبوں حالی کا موازنہ کرتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ وہ قوم جو کبھی دنیا کی امامت و قیادت پر فائز تھی، آج عالمی سطح پر مغلوب اور بے بس کیوں دکھائی دیتی ہے؟ اس المیہ اور باطنی بیماری کا کامل اور جامع نبوی نسخہ و تشخیص آج سے چودہ سو سال قبل زبانِ رسالتمآبؐ سے صادر ہو چکی تھی۔
سیدنا ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’عنقریب دیگر اقوام تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے تھال پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ایک سائل نے پوچھا: کیا اس دن ہم تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ تم اس دن کثیر ہو گے، لیکن تم سیلاب کے جھاگ کی طرح ہو گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا رعب نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں ’وہن‘ ڈال دے گا۔ ایک کہنے والے نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ!وہن کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: دنیا کی محبت اور موت سے بیزاری۔(سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب فی تداعی الامم علی الاسلام)
حقیقت ِ دنیا: قرآنی اور نبویؐ نظر میں
کیا ہم نے کبھی اس بات پر فکر و تدبر سے کام لیا کہ یہ زندگی اصل میں کیا ہے؟ اور انسان کو کیوں عطا کی گئی ہے؟ قرآن اس کا یوں جواب دیتا ہے:
’’ جس نے موت اور زندگی کو (اِس لئے) پیدا فرمایا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے اور وہ غالب ہے، بڑا بخشنے والا ہے۔‘‘(الملک:۲)
عہد حاضر کے مسلمانوں نے قرآن کو سمجھنے کی بجائے اس کے من مانے مفاہیم ومطالب اخذ کرکے دنیا کو ہمیشگی کا گھر اور دارالعیش سمجھ لیا ہے۔ اسی وجہ سے مسلم امت پوری دنیا میں پریشان و رسوا ہورہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ان امور میں موازنہ نہ کریں جن میں انسان کو کوئی اختیار حاصل نہیں
تربیتِ صحابہؓ اور حبِ دنیا سے پاک زندگی
نبی اکرمؐ کی خصوصی تربیت نے جماعت صحابہ کے دلوں سے حبِ دنیا کے عنصر کو کھرچ کر نکال دیا تھا۔ ان کے دل دنیا میں رہتے ہوئے بھی حبِ دنیا سے خالی اور آخرت سے جڑے ہوئے تھے ۔ حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں:
’’قسم خدا کی! میں نے ۷۰؍ بدری صحابہ کرامؓ کو پایا ہے، ان کے اکثر کپڑے اون (سادہ صوف) کے ہوا کرتے تھے۔ اگر تم انہیں دیکھ لیتے تو کہتے کہ یہ دیوانے و مجنون ہیں اور اگر وہ تمہارے بہترین لوگوں کو دیکھ لیتے تو کہتے کہ ان کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں اور اگر وہ تمہارے برے لوگوں کو دیکھ لیتے تو کہتے کہ یہ لوگ روزِ حساب (قیامت) پر ایمان ہی نہیں رکھتے۔‘‘(ابو نعيم الاصبہانی، حلیۃ الاولياء وطبقات الاصفياء)
حضرت حسن بصری ؒاپنے دور (تابعین کے دور) کے لوگوں کو مخاطب کر رہے تھے۔ حالانکہ یہ تابعین کا دور تھا اور ان کے بہترین لوگ بھی بڑی عبادت گزار اور متقی شخصیات تھیں، لیکن صحابہ کرامؓ کا دنیا سے تعلق ختم اور آخرت کی فکر اس قدر شدید تھی کہ وہ تابعین کی معمولی سی دنیاوی آسائش یا غفلت کو بھی آخرت کے نقصان کا سبب سمجھتے تھے۔
سیدنا قتادہ ؓسے روایت ہے کہ آقا کریمؐ نے فرمایا:
’’جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے مریض کو (ضرر رساں) پانی سے بچاتا ہے۔‘‘ (جامع الترمذی، أبواب الطب، باب ما جاء فی حمیۃ المریض)
گویا دنیا سے بچاؤ حب اللہ کی دلیل ہے۔ وہ اپنے خاص بندوں کو دنیاوی جھمیلوں میں نہیں الجھاتا۔ صحابہ کرامؓ دنیا ملنے پر غمزدہ ہوجاتے جبکہ ہماراحال یہ ہے کہ ہم دنیا کے چلے جانے پر غمزدہ ہوجاتے ہیں۔
سیدنا سعید بن عامرؓشام کے صوبہ حمص کے گورنر تھے۔ فقیرانہ طرز حیات، مزاج میں نرمی اور قناعت پسند طبیعت۔ ایک دفعہ خلیفۃ المسلمین حضرت عمر فاروق ؓنے بیت المال سے کچھ رقم ان کو بھجوائی۔ جیسے ہی یہ رقم ان کو ملی تو بے ساختہ ان کی زبان بول اٹھی: انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ سن کر زوجہ نے پوچھا :کیا امیر المومنین وفات پاگئے؟ جواب دیا: نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑا حادثہ ہوگیا۔ پوچھا: کیا قیامت آ گئی ہے؟ فرمایا: نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑا حادثہ ہوگیا۔ دنیا میرے پاس آ پہنچی ہے تاکہ میری آخرت خراب کر دے۔(ابن الجوزي، سیرۃ عمر بن الخطاب)
اللہ اکبر! یہ تھا صحابہ کی زندگی کا ایک عکس اور دنیا سے فرار کی ایک جھلک۔صحابہ کرامؓ کے نزدیک دنیا محض ایک مسافر خانے کی حیثیت رکھتی تھی، جہاں انسان سفر کے دوران چند لمحے ٹھہرتا ہے اور پھر اپنی اصل منزل کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔ نبوی بصیرت نے ان کے قلب و نظر کا زاویہ یوں بدل دیا تھا کہ وہ مال و اسباب کے ہوتے ہوئے بھی اس کے اسیر نہ بنے۔حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبیؐ نےمیرا شانہ پکڑ کر فرمایا:
’’دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم کوئی اجنبی ہو یا راستے سے گزرنے والے مسافر۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق)
اسی فکر کا نتیجہ تھا کہ صحابہؓ کی راتیں مصلے پر روتے ہوئے اور دن میدانِ کارزار یا خدمتِ خلق میں گزرتے تھے۔ سیدنا شدادؓ روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو جہاں، پیغمبر آخر الزماںؐ کا ارشاد گرامی ہے: ’’اللہ کی قسم! آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال بس اتنی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی اس انگلی کو سمندر میں ڈبوئے، پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأہلہا، باب فناء الدنیا وبيان الحشر)
اب لمحہ ٔ فکریہ یہ ہے کہ وہ دنیا جس کی مقدار انگلی پر لگے پانی کے برابرہے، اسے حاصل کرنے کے لئے ہماری شب و روز کوششیں اورجائز و ناجائز طریقوں پر خود کو غرق کر دینا بھلا کہاں کی دانشمندی ہے؟ رسول کریمؐ نے فرمایا:
’’اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قیمت مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی، تو وہ کسی کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا۔(سنن الترمذي،کتاب الزہد)
یہ بھی پڑھئے:بچوں کو صرف مستقبل کا وارث نہ سمجھیں انہیں مستقبل کا معمار بنانے کی جہد کریں
ایک مرتبہ آپﷺ نے راستہ میں بکری کا مردہ بچہ دیکھا تو صحابہ کرامؓ سے فرمایا کہ تم میں کون ہے جو بکری کے اس مردہ بچے کو ایک درہم میں خریدے؟ صحابہ کرامؓ نے حیرانگی سے عرض کیا: اے اللہ کے نبیؐ بکری کا یہ ایک مردہ بچہ ہم میں سے کوئی مفت بھی خریدنے پر راضی نہیں۔ آپؐ نے فرمایا:’’اللہ کی قسم! دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ بے وقعت ہے جتنا یہ (مردار بکری کا بچہ) تمہارے نزدیک بے قیمت ہے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقائق)
یہ ہے دُنیا کی حقیقت دین اسلام میں، جسے آج کے دور کے مسلمان جاننے کے باوجود سمجھنے اور دُنیا سے اپنا دامن بچانے کے نہ تو روادار ہیں نہ ہی اس کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں۔ ہم، دنیا پر فریفتہ ہوکر رہ گئے ہیں۔ جماعت صحابہ کے نزدیک دنیا کسی بھی قدرو منزلت کی حامل نہ تھی۔
کراہیۃ الموت: فکری و عملی غفلت کا نتیجہ
وھنکی تشریح میں جو نکتہ ثانی حضور نبی اکرمؐ نے بیان فرمایا، وہ کراھیۃ الموۃ (موت سے کراہت اور بیزاری ) ہے۔ یہ کیفیت اسی وقت ہوتی ہے جب انسان کو یہ دنیا اچھی لگے اس کی رنگینیاں، لذتیں اور دلفریبی دل کو خوش کرے اور بندہ اس میں غرق ہوکر جہانِ آخرت سے بے خبر ہوجائے۔ ایسی صورت میں وہ اس دنیاوی میلے کو کسی قیمت پر چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ وہ دنیا کے مال و دولت کو سدا اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔ اسی لئے موت کا خوف اُسے موت سے بیزاری میں مبتلا کردیتا ہے، اس کے دل میں موت سے کراہت پیدا ہوجاتی ہے اور حب دنیا مکمل طور پر اس کو مغلوب کردیتی ہے۔
ناقص اور غیر منفعت وبیکار اعمال کن لوگوں کے ہیں؟ اللہ اپنے کلام میں اس حقیقت کو بیان فرماتا ہے:
’’فرما دیجئے: کیا ہم تمہیں ایسے لوگوں سے خبردار کردیں جو اعمال کے حساب سے سخت خسارہ پانے والے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری جدوجہد دنیا کی زندگی میں ہی برباد ہوگئی اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم بڑے اچھے کام انجام دے رہے ہیں۔‘‘ (الکہف:۱۰۳۔۱۰۴)
یہ کثرتِ مال کی ہوس اور حرص و طمع ہی ہے جس نے انسان کو اخلاقی زوال کے اس گھاٹے میں دھکیل دیا ہے جہاں انسانی رشتے، سچائی اور ایثار سب قربان ہو رہے ہیں۔ قرآنِ مجید نے اس نفسیاتی مرض کی نشاندہی ان الفاظ میں فرمائی ہے:’’ تمہیں کثرتِ مال کی ہوس اور فخر نے (آخرت سے) غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔‘‘ (التکاثر:۱۔۲)۔ جب تک انسان اس دھوکے کی دنیا سے باہر نکل کر اپنے حقیقی مقصدِ حیات کو نہیں پہچانتا، اس کی پیاس کبھی بجھ نہیں سکتی۔
’’وہن‘‘ صرف ایک انفرادی اخلاقی عیب نہیں، بلکہ امتوں کی تباہی کا اجتماعی پیش خیمہ ہے۔ آج اگر مسلم امت دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام اور وقار بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے فتح و نصرت کے غیر اسلامی تصورات کے بجائے اپنے باطنی امراض کا علاج کرنا ہوگا۔ ہمیں دنیا کو ترک نہیں کرنا، بلکہ دنیا کی بندگی کو ترک کرنا ہے۔ اس فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ترک ِ دُنیا کیا ہے اور دنیا کی بندگی کا ترک کیا۔ جب دلوں سے دنیا کا خوف اور مال کی محبت نکل جائے گی اور عقبیٰ کی فکر زندہ ہو جائے گی، تو وہی نصرتِ الٰہی دوبارہ متوجہ ہوگی جو بدر اور حنین میں مسلمانوں کا مقدر بنی تھی۔