• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: دلالی کی اجرت، وتر میں سہو، حرام آمد سے تنخواہ دینا

Updated: February 27, 2026, 10:50 AM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)دلالی کی اجرت۔ (۲)وتر میں سہو۔ (۳)حرام آمد سے تنخواہ دینا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دلالی کی اجرت 

ایک آدمی نے کسی دوسرے آدمی کے لئے کسی سے پلاٹ دلوایا  یا کسی دوسرے آدمی کا پلاٹ   فروخت کروایا  اور دونوں ہی طرف سے اس کی اجرت لی تو کیا یہ درست ہے؟عقیل احمد 

باسمہ تعالیٰ ۔ھوالموفق:  یہ دلالی کی اجرت کا مسئلہ  ہے۔ اُصولاً دلالی کسی شرعی ضابطے میں شامل نہیں لیکن عوامی حاجت کے مدنظر متاخرین نے اسکی اجازت دی ہے۔ اس موقعہ پر واضح ہدایات ہیں کہ معاملات صاف صاف ہوں، کسی جانب سے کسی نوعیت کا فریب اور دھوکہ نہ ہو، اجرت اور ذمے داریوں کی تعیین میں کوئی  ابہام نہ رہے (جو بعد میں تنازعات کا سبب بن سکے)، اجرت یکطرفہ ہو یا دوطرفہ جو بھی ہو طے شدہ اور تمام لوگوں کے علم میں ہو۔ دوطرفہ اجرت کی جو صورت عام طور سے رائج ہے اس کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ ایک شخص یا گروپ بیچنے والے کی طرف سے اور ایک شخص یا گروپ خریدنے والے کی طرف سے ہوتا ہے، سودا ہونے کے بعد ہر ایک اپنے موکل سے اجرت وصول کرلیتا ہے یا پھر دونوں طرف والے سب کو یکجا کرکے آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ اس صورت میں تو بایع اور خریدار ہر ایک کی طرف سے سودا کرانے والے الگ الگ ہیں لیکن ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایک شخص بایع کی طرف سے بھی ہو اور وہی خریدار کی طرف سے بھی ہو یعنی دونوں کا وکیل ہو۔ علماء نے اسکی بھی اس شرط سے اجازت دی ہے کہ کوئی  غلط بیانی یا غلط فہمی نہ پائی  جائے مثلاً فریقین کو اس دھوکے میں نہ رکھے کہ مجھے دوسرے فریق سے کچھ نہیں ملےگا  وغیرہ ، واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: عمرہ میں دم، نماز میں غلطی اور سجدۂ سہو، ناراضگی اور دعوت

وتر میں سہو 

امام صاحب وتر پڑھا رہے تھے، تیسری رکعت کا رکوع کر لیا مکمل پھر لقمہ دیا گیا  تو وہ کھڑے ہو گئے تو کیا سجدۂ سہو واجب ہوگا یا نہیں ؟ عبداللہ، ممبئی

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: غالباً صورت مسئولہ  میں امام صاحب نے دعائے  قنوت پڑھے بغیر ہی رکوع کردیا ہوگا جس کی وجہ سے لقمہ دیاگیا اور وہ دعائے قنوت کے لئے رکوع چھوڑ کر دوبارہ کھڑے ہوگئے۔شرعاً  دُعائے  قنوت واجب ہے جس کے سہواً ترک سے سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے۔ اس مسئلے  میں علماء کاایک قول تو یہ ہے کہ دعائے قنوت واجب اور رکوع فرض ہے۔ صورت مسئولہ  میں چونکہ اس نے واجب کے فرض کو درمیان سے چھوڑدیا ہے اس لئے  نماز فاسد ہو جانی چاہئے  اور ان حضرات نے اسی کے مطابق فتوے بھی دیئے  ہیں جبکہ علماء کے دوسرے گروہ کا یہ نظریہ ہے کہ اس نے فرض کو اصلاح نماز کے لئے  چھوڑا ہے اس لئے  نماز  فاسد نہ ہونی چاہئے اور اسی کے مطابق فتویٰ دیتے ہوئے  وہ کہتے ہیں کہ اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا، سجدہ سہو کرلیا تو نماز ہوجائیگی اور یہی راجح بھی ہے تاہم ایسی صورت حال پیش آنے پر امام کو چاہئے کہ بجائے  واپس کھڑے ہونے کے نماز پوری کرکے آخر میں سجدۂ سہو کرلے، سجدہ ٔ سہو واپس کھڑے ہونے میں بھی کرنا پڑےگا اس لئے  بہتر  یہی ہے نماز مکمل کرکے سجدہ سہو کرلے تاکہ اختلافی صورت سے بھی محفوظ رہے ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: زکوٰۃ کیلئے شریعت نے اصل معیار سونے چاندی کو قرار دیا ہے

حرام آمد سے تنخواہ دینا

 اگر کسی گاؤں والوں کی آمدنی مکمل حرام ہے یا اکثر حرام ہے  اور امام مسجد کو گاؤں والے اسی آمدنی میں سے تنخواہ دیتے ہیں تو امامت کرنا کیسا ہے ؟شجاعت حسین ایم پی 

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق:عام وخاص ہر مسلمان کے لئے خود بھی رزق حلال کے لئے  جد وجہد ضروری ہے اس لئے  جہاں امام کی کفالت کے لئے حلال ذرائع سے رقم حاصل کرنے کی ضرورت ہے وہیں گاؤں  والے جو ناجائز  آمدنی میں مبتلا ہیں ان کو اپنے ذرائع آمدنی پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ اس غرض سے انہیں ایسے علماء سے رجوع کرنا چاہئے جو صحیح رہنمائی  کرسکیں۔ ان حالات میں امام کی بھی ذمے داری یہ ہے کہ حتی الامکان حرام سے بچے، خود کے لئے  حلال ذرائع سے رزق کی جد وجہد کرے اور اگر وہاں کےلوگوں کی اصلاح ممکن نظر آئے تو ان پر محنت کرتا رہے ورنہ کسی اور جگہ جاکر دین کی خدمت کرے یا پھر خود کفیل ہونے کی کوشش کرے اور فی سبیل اللہ امامت کرتا رہے اور ان کے لئے  ہدایت کی دعا اور اصلاح کی کوشش کرتا رہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK