• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: جمعہ کی نمازِ فجر میں سورہ الم سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت، استفتاء بابت وکیلِ نکاح

Updated: October 07, 2026, 4:29 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

روایات کے مطابق آپ ؐ کا جمعہ کے روز فجر کی نماز میں سورہ الم سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت کا عمومی معمول تھا لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ ان کے سوا دوسری کوئی سورہ کبھی نہیں پڑھی یا یہ کہ ان کے علاوہ کا پڑھنا منع ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

مفتی صاحب، ہم نے پڑھا ہے کہ نبی کریمؐ جمعہ کے دن فجر کی نماز  میں سورہ الم سجدہ اور سورۃ الدھر کی تلاوت فرماتے تھے مگر ہمارے شہر کی مساجد اس سنت سے محروم ہیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ متواتر نہیں پڑھنا چاہئے کبھی ترک بھی کر دینا چاہئے مگر یہاں تو کوئی اس کے قریب نہیں آتا۔ بہت ہوا تو دونوں رکعتوں میں سورۃ الدھر کی تلاوت کرلی۔ میں نے سنا ہے کہ آپؐ اس سنت میں مداومت فرماتے تھے تو کیا ہم سب اس اجتماعی ترک ِسنت کے گناہ گار ہونگے؟ عمران قاسمی ،ممبئی 

باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: یہ صحیح ہے کہ اس سلسلے کی روایات کے مطابق  جمعہ کے روز فجر کی نماز میں سورہ الم سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت کا عمومی معمول تھا لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ ان کے سوا دوسری کوئی سورہ کبھی نہیں پڑھی یا یہ کہ ان کے علاوہ کا پڑھنا منع ہے۔ چونکہ عام معمول انہی سورتوں کی تلاوت کا تھا، راوی نے ایک یا ایک سے زیادہ مرتبہ سنا اور اسی کو بیان کردیا تاہم یہ اس کا ثبوت نہیں کہ ان کو لازماً پڑھا جائے جبکہ بعض روایات میں دوسری سورتوں کی تلاوت کا ذکر بھی موجود ہے جیسے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت میں الم سجدہ اور تبارک الذی (سورہ ملک) پڑھنا مروی ہے نیز حضرت علیؓ سے سورہ جمعہ اور حشر کے علاوہ ابراہیم نخعی ؒسے سورہ مریم کی روایت بھی ملتی ہے۔ اس سے ظاہر یہ ہے کہ ان سورتوں کا پڑھنا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اس لئے ترک سنت کا مصداق تو نہ کہا جائےگا مگر جو عام معمول ثابت ہورہا ہے اس کو یکسر ترک کردینا بھی بڑی محرومی ہے  لہٰذا مناسب طریقہ یہ ہے کہ بغیر ضروری سمجھے کبھی یہ سورتیں پڑھ لی جائیں کبھی کہیں اور سے پڑھ لیں ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: نصیحت کا سب سے مؤثر ذریعہ زبان نہیں، کردار ہے

چار رکعت والی فرض نماز میں قرأت 

چار رکعت والی فرض نماز تنہا پڑھیں تو کیا یہ صحیح ہے کہ آخر کی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھیں گے مزیددوسری کوئی سورہ نہیں ؟عبد اللہ ،بہار 

باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق:  تین یا چار رکعتوں والی نمازوں میں شروع کی دو رکعتوں میں مطلق قرات فرض ہے جبکہ سورہ فاتحہ اور ضم سورہ (یعنی کوئی دوسری سورہ یا ایک بڑی یا تین چھوٹی آیتوں کا پڑھنا) واجب ہے،  اسکے بعد والی (تیسری اور چوتھی)رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا مسنون ہے فرض اور واجب نہیں۔ ان رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ مسنون ہے،  ساتھ میں دوسری کوئی سورہ مسنون نہیں۔ آخر کی رکعتوں میں سورہ فاتحہ صرف مسنون ہے واجب نہیں اس لئے اگر کوئی خاموش کھڑا رہا یا تسبیح وغیرہ پر کفایت کی تو نماز ادا ہوجائیگی، سجدہ سہو بھی واجب نہ ہوگا لیکن یہ عمل خلاف سنت کہلائے گا،  مقدار قیام کی تحدید نہیں اس لئے اگر کسی نے ان رکعتوں میں بھی سورہ فاتحہ کے ساتھ مزید کوئی سورہ پڑھ لی تب بھی نماز ہوجائیگی لیکن یہ عمل بھی خلاف سنت ہوگا۔  واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے:سیرتِ نبویؐ میں معیشت کے حوالے سے جامع معلومات اور رہنمائی ملتی ہے

استفتاء بابت وکیلِ نکاح

آج کل بیرونِ ملک سے نکاح کا رواج ہے۔ مثلاً لڑکا انگلینڈ یا سعودی میں ہے اور لڑکی ہندوستان میں۔ ایسی صورت میں لڑکے کی طرف سے نکاح کیلئے ایک وکیل بنایا جاتا ہے جو ہندوستان میں لڑکے کی طرف سے قبول کرتا ہے۔ دریافت طلب بات یہ ہے کہ: (۱)کیا لڑکے کی طرف کا وکیل، لڑکی کے والد کو بنایا جا سکتا ہے؟ (۲)کیا لڑکی کے بھائی کو لڑکے کا وکیل بنایا جا سکتا ہے؟ (۳) کیا ایک ہی شخص ایک نکاح میں بیک وقت ولی اور وکیل دونوں بن سکتا ہے؟ اس میں شرعاً کیا قباحت ہے؟ (۴)بہتر اور افضل طریقہ کیا ہے کہ وکیل کس کو بنایا جائے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ محمد وسیم ،یمنا نگر

باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: ولی ولایت سے ماخوذ ہے ،ولایت سرپرستی کو کہتے ہیں۔ شریعت نے درجہ بدرجہ ان رشتہ داروں کو ولی تسلیم کیا ہے جو عصبہ بنفسہ کہلاتے ہیں جن کی ترتیب یہ ہے : بیٹا،پوتا، باپ،دادا،حقیقی بھائی،باپ شریک بھائی ،حقیقی بھائی کا بیٹا، باپ شریک بھائی کا بیٹا، چچا، چچا کا بیٹا الخ احناف کے نزدیک نابالغ کے نکاح میں ان کی ولایت اجباری ہے۔ وکیل وکالت سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں نمائندگی۔ لڑکا مجلس عقد میں موجود ہے تو وہ خود ایجاب یا قبول کرسکتا ہے جبکہ لڑکی عام طور سے مجلس میں نہیں ہوتی۔ اسی طرح لڑکا مجلس میں موجود نہ ہو تو دوسرا کوئی اس کا وکیل ہوگا، اس کی قید نہیں کہ وکیل کس کا رشتہ دار ہو اور کس کا نہ ہو۔ وکیل کا عاقل بالغ ہونا کافی ہے۔ لڑکا یا لڑکی جو مجلس میں نہیں وہ کسی کو اپنی طرف سے نکاح کا ذمے دار بنادے کہ میرا نکاح کردو۔ جس تفصیل کے ساتھ وکیل کو ذمے دار بنایا گیاہو اسی کے مطابق وہ بحیثیت وکیل ایجاب یا قبول کی ذمے داری نبھائےگا۔ لڑکا بیرون ملک ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ یہاں کسی کو اپنے نکاح کا وکیل بنادے۔ وہ لڑکی کے باپ یا بھائی کو بھی وکیل بناسکتاہے اور یہ بھی درست ہے کہ ایک شخص بیک وقت کسی کا وکیل بھی ہو اور ولی بھی یاایک کا ولی ہو اور دوسرے کا وکیل۔ وکالت میں کسی نوع کا اشتباہ نہ رہے اور جملہ تفصیلات تحریری طور پر محفوظ ہوں مع شہادتوں کے ۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK