کتابِ ہدایت قرآنِ مجید نے انسانی زندگی کے ایک نہایت بنیادی اصول کو بالکل واضح الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب خود دینا ہوگا اور کوئی شخص دوسرے کا بوجھ اپنے سر نہیں اٹھائے گا۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 4:22 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai
کتابِ ہدایت قرآنِ مجید نے انسانی زندگی کے ایک نہایت بنیادی اصول کو بالکل واضح الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب خود دینا ہوگا اور کوئی شخص دوسرے کا بوجھ اپنے سر نہیں اٹھائے گا۔
کتابِ ہدایت قرآنِ مجید نے انسانی زندگی کے ایک نہایت بنیادی اصول کو بالکل واضح الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب خود دینا ہوگا اور کوئی شخص دوسرے کا بوجھ اپنے سر نہیں اٹھائے گا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ (سورہ فاطر:۱۸) اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو ہر انسان کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دوسروں کی اصلاح کی فکر کرنے سے پہلے اپنی اصلاح کی فکر کرے، اپنے دل کا جائزہ لے، اپنے کردار کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالے اور صراطِ مستقیم پر چلنے کو اپنی زندگی کا بنیادی مقصد بنائے۔ دوسروں کو راستہ دکھانا یقیناً خیر خواہی ہے، لیکن اس سے پہلے خود اس راستے پر چلنا ضروری ہے؛ کیونکہ جو شخص خود منزل سے ناواقف ہو، اس کی رہنمائی دوسروں کو کہاں تک اور کیونکر منزل تک پہنچا سکتی ہے؟
اس دور کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ انسانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنے آپ کو بھول کر دوسروں کی کمیوں پر نگاہ رکھنے میں غیر معمولی دلچسپی لیتا ہے۔ اسے اپنے اعمال کی خامیاں دکھائی نہیں دیتیں، مگر دوسرے کی معمولی لغزش بھی اس کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہوتی۔ گویا وہ اپنے لئے پاکیزگی اور دوسروں کیلئے احتساب کا ایک الگ معیار قائم کرچکا ہے۔ حالانکہ اللہ رب العزت نے قرآنِ مجید میں اس روش کی نہایت پرزور تردید فرمائی ہے: ’’پس تم اپنے آپ کو بڑا پاک و صاف مت جتایا کرو، وہ (اللہ) خوب جانتا ہے کہ (اصل) پرہیزگار کون ہے۔‘‘ (سورہ النجم:۳۲) انسان کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ دوسروں کے عیب کتنی مہارت سے تلاش کرتا ہے، بلکہ اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے ان عیوب کو کس قدر پہچانتا اور دور کرتا ہے جنہیں دنیا کی نگاہ نہیں دیکھ سکتی۔ اس لئے دوسروں کے کردار کا پوسٹ مارٹم کرنے سے پہلے اپنے دل کا معائنہ ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سورۂ یوسف سے ملنے والی نصیحتیں
عقلی اعتبار سے بھی یہ بات بالکل صاف سمجھ میں آتی ہے کہ اگر اصلاحِ نفس کے اسلامی اصول کو ہر فرد اپنی زندگی کا اصول بنا لے تو پورے معاشرہ کی اصلاح کسی بڑی مہم کے بغیر خود بخود شروع ہوجائے گی۔المیہ یہ ہے کہ ہم نے اصلاح کا رخ اپنے اندر سے نکال کر دوسروں کی طرف موڑ دیا ہے۔ ہر شخص دوسرے کی خامیوں پر نظر رکھتا ہے، ہر زبان کسی نہ کسی کے کردار پر تبصرہ کرنے کے لئے بے تاب ہے، مگر اپنے نفس کے احتساب کی باری آتی ہے تو ہم خاموش ہوجاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ فرد اپنی کمزوریوں سے نکل پاتا ہے اور نہ معاشرہ اجتماعی طور پر سنور پاتا ہے۔ اس طرح جب ہر شخص دوسرے کو بدلنے کی کوشش کرے اور خود بدلنے کیلئے تیار نہ ہو تو اصلاح کا سفر ایک دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔
غور کرنے سے ایک اور دلچسپ اور کسی حد تک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیاوی مفادات کے معاملے میں انسان عموماً اپنی فکر میں مبتلا رہتا ہے۔ مال چاہئے تو اپنے لئے، مقام چاہئے تو اپنے لئے، سہولت چاہئے تو اپنے لئے، کامیابی چاہئے تو اپنے لئے؛ دوسروں کے حصے کی فکر کرنے والے بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔ لیکن جب کسی کی دینی کمزوری تلاش کرنے، اس کے عمل پر اعتراض کرنے یا اس کی خامی کو نمایاں کرنے کا موقع ملتا ہے تو بہت سے لوگ غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ کیفیت دراصل انسانی نفس کی ایک پیچیدہ خود غرضی کو ظاہر کرتی ہے: اپنے دنیاوی مفاد میں ہم دوسروں سے آگے نکلنا چاہتے ہیں اور دوسروں کی دینی لغزشوں میں خود کو ان سے بلند سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ کسی کی ایک لغزش دیکھ کر اپنے دل میں برتری کا احساس پیدا کرنا خود ایک خطرناک اخلاقی لغزش ہوسکتی ہے۔ ممکن ہے جس شخص کو ہم گناہ گار سمجھ رہے ہوں، وہ اللہ کے نزدیک ہم سے زیادہ محبوب ہو، اور ممکن ہے جس نیکی پر ہمیں ناز ہو، وہ اخلاص کی کمی کی وجہ سے ہمارے لئے وبال بن جائے۔
دینی معاملات میں دوسروں کی اصلاح اور ان کی خیر خواہی یقیناً ایک اہم ذمہ داری ہے، لیکن اس ذمہ داری کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ اصلاح کرنے والا حتی الامکان اپنے عمل کو بھی درست کرنے کی کوشش کرے۔ نصیحت کا سب سے مؤثر ذریعہ زبان نہیں بلکہ کردار ہے۔ انسان کا عمل اس کی گفتگو کو وزن عطا کرتا ہے اور اس کا کردار اس کی نصیحت کو تاثیر بخشتا ہے۔ اسی لئے قرآنِ مجید نے اہلِ ایمان کو نہایت سخت انداز میں متنبہ فرمایا:’’اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو تم خود نہیں کرتے۔‘‘ (سورۃ الصف:۲۔۳) اس آیت کا مقصد اصلاح و نصیحت کا دروازہ بند کرنا نہیں، بلکہ انسان کو اپنے قول و عمل کے تضاد سے بچانا ہے۔ جو شخص دوسروں کو نماز کی پابندی کی دعوت دیتا ہے، اسے خود نماز کی فکر ہونی چاہئے؛ جو اخلاص کی بات کرتا ہے، اسے اپنے دل میں اخلاص تلاش کرنا چاہئے؛ جو اخلاق کا درس دیتا ہے، اسے اپنے کردار میں اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: یاد رکھئے، صرف حصولِ مال ہی ہمارا مقصدِ حیات نہیں ہے
آخر میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ معاشرہ میں کتنے لوگ غلط ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ میں خود کہاں کھڑا ہوں؟ ہمیں دوسروں کی اصلاح سے دست بردار ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ اصلاح کے قرآنی مزاج اور ترتیب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیں! دوسروں کے عیب گننے سے نہ تو ہماری نیکی بڑھتی ہے اور نہ ہی معاشرہ بدلتا ہے؛ لیکن جب ایک انسان اپنے نفس کے خلاف جہاد شروع کرتا ہے تو اس کی خاموش تبدیلی بھی اپنے اردگرد روشنی پیدا کرنے لگتی ہے۔ اس لئے ہم دوسروں کی آنکھ کا تنکا دیکھنے سے پہلے اپنی آنکھ کا شہتیر دیکھنے کی فکر کریں، اسی میں بھلائی ہے۔
یہ کام چند منٹوں میں ممکن ہے!
دینی اعتبار سے اپنی فکر کو اولیت دینے کا سب سے آسان اور مؤثر راستہ محاسبۂ نفس ہے۔ انسان روزانہ کچھ وقت اپنے لئے نکالے اور خود سے سوال کرے: آج میں نے کیا کیا؟ کس کا دل دکھایا؟ کہاں زبان سے زیادتی ہوئی؟ کہاں غیبت میں مبتلا ہوا؟ کہاں اپنے نفس کو حق سے بڑا سمجھا؟ کون سی نیکی اخلاص کے ساتھ کی اور کون سی نیکی صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے؟ کیا میری نماز میں وہ کیفیت ہے جو ہونی چاہئے؟ کیا میرے گھر والے میرے اخلاق سے دین سیکھ رہے ہیں؟ کیا میری زبان اور میرا کردار ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں؟ جو شخص روزانہ اپنے نفس کا جائزہ اور حساب لیتا ہے، اسے دوسروں کے حساب میں دلچسپی لینے کی فرصت یا تو کم ملتی ہے یا بالکل نہیں ملتی۔ اپنے عیوب کی تلاش انسان کو عاجزی عطا کرتی ہے اور عاجزی انسان کو دوسروں کیلئے خیر خواہی کے قابل بناتی ہے۔n