• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میاں بیوی کی زندگی میں پرائیویسی اور پردہ پوشی رہنی چاہئے

Updated: October 09, 2026, 3:32 PM IST | Dr. Mufti Nadeem Ahmed Ansari | Mumbai

اسلام انسانی رشتوں کو امن، احترام، اعتماد اور محبت پر قائم کرنے کی بہترین تعلیم دیتا ہے۔ بالخصوص میاں بیوی کا رشتہ؛ جو معاشرے کی بنیادی اکائی اور خاندانی نظام کا محور ہے، اس کی بنیاد باہمی راز داری، اعتماد اور عزت پر رکھی گئی ہے۔

In describing the beautiful relationship between husband and wife, Allah (SWT) has referred to them as garments for one another. Photo: INN
میاں بیوی کے خوبصورت تعلق کی تعریف کرتے ہوئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انہیں ایک دوسرے کا لباس کہا ہے۔ تصویر: آئی این این

اسلام انسانی رشتوں کو امن، احترام، اعتماد اور محبت پر قائم کرنے کی بہترین تعلیم دیتا ہے۔ بالخصوص میاں بیوی کا رشتہ؛ جو معاشرے کی بنیادی اکائی اور خاندانی نظام کا محور ہے، اس کی بنیاد باہمی راز داری، اعتماد اور عزت پر رکھی گئی ہے۔ جدید دور میں جہاں سوشل میڈیا اور موبائل فون کا استعمال عام ہو چکا ہے وہاں ایک دوسرے کی پرائیویسی میں بلاوجہ گھسنے، موبائل چیک کرنے اور تجسّس کرنے کو اپنا حق سمجھنے کی منفی روِش چل پڑی ہے۔ اس رویے سے میاں بیوی کے باہمی اعتماد کی فضا مجروح ہوتی ہے، اُلجھنیں در آتی ہیں  اور ہنستے بستے گھر اجڑ جاتے ہیں۔ 

 میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں

میاں بیوی کے خوبصورت تعلق کی تعریف کرتے ہوئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وہ تمہارے لئے لباس ہیں، اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ (البقرۃ) لباس کے تین بنیادی اوصاف ازدواجی زندگی کا فریم ورک متعین کرتے ہیں: (۱)ستر پوشی؍عیب چھپانا:جس طرح لباس انسان کے جسم کے داغ، دھبّے اور عیوب کو دنیا سے ڈھانپتا ہے، اسی طرح میاں بیوی کا کام ایک دوسرے کے عیوب اور خامیوں کو ڈھانپنا ہے، نہ کہ  دنیا کے سامنے لانا (۲)حفاظت: لباس انسان کو موسم کے سرد و گرم اثرات سے بچاتا ہے، اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کی عزت، آبرو اور ساکھ کی اچھے اور برے دونوں حالات میں حفاظت کرتے ہیں (۳)زیبائش: لباس سے انسان کی شخصیت نکھرتی ہے، اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے زینت اور سکون کا باعث بنتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:سورۂ اخلاص: مختصر سورہ، عظیم پیغام

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تم میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت کے جذبات رکھ دیئے، یقیناً اس میں ان لوگوں  کیلئے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ (سورہ الروم)

بدگمانی، تجسس، عیب جوئی

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسانوں کے عیوب تلاش کرنے اور تجسس کرنے (ٹوہ لینے) سے سخت الفاظ میں منع فرمایا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور کسی کی ٹوہ میں نہ لگو، اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ (الحجرات) حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، نبیؐ کریم نے فرمایا:بدگمانی سے بچتے رہو، کیوں کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، اور کسی کے عیوب کی ٹوہ مت لگواؤ اور نہ خود کسی کی ٹوہ میں لگو۔(ابوداؤد)

 خفیہ احوال کی ٹوہ لینے پر رسوائی کی وعید

اسلام نے میاں بیوی کے درمیان بھی ذاتی حالات اور پرائیویسی کا لحاظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ سفر سے واپسی پر اچانک بغیر بتائے گھر میں داخل نہ ہوا جائے۔حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں، حضورؐ رات کو (اچانک) گھر میں سفر سے واپس آنا ناپسند فرماتے تھے۔ (بخاری) ایک روایت میں حضرت جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے، آپؐ نے فرمایا: جب تمہیں گھر سے جا کر ایک مدت گزر گئی ہو تو اچانک رات کو گھر میں نہ آیا کرو۔ (بخاری) حکمت یہ ہے کہ عورت کو سنبھلنے،سنورنے اور خود کو تیار کرنے کا موقع مل سکے، اور شوہر کے سامنے اس کی کوئی ایسی حالت یا خامی نہ آئے جو ناگواری کا باعث بنے۔ 

جب سفر سے واپسی پر سرپرائز یا اچانک ’’چھاپہ مارنے‘‘ کی نیت سے روکا گیا ہے، تو عام زندگی میں بھی ایک دوسرے پر حاکمانہ انداز میں نظر رکھنا، اسٹاک کرنا، جاسوسی کرنا اور پکڑنے کے چکر میں رہنا اسلامی مزاج کے موافق نہیںکہا  جا سکتا۔

 عیوب چھپانے اور رازوں کی حفاظت کی فضیلت

اگر کسی موڑ پر شریکِ حیات کی کوئی خامی یا غلطی سامنے آ بھی جائے تو اسلام کا حکم یہ ہے کہ اسے سرِعام رُسوا کرنے کے بجائے چھپایا جائے اور تنہائی میں اس کی اصلاح کی جائے۔  

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: جمعہ کی نمازِ فجر میں سورہ الم سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت، استفتاء بابت وکیلِ نکاح

  عملی نکات اور موجودہ دور کے تقاضے

قرآن و حدیث کی مذکورہ بالا واضح ہدایات سے ہم درجِ ذیل اصلاحی اور عملی نکات اخذ کر سکتے ہیں: جدید دور میں بغیر کسی شرعی و معقول وجہ کے ایک دوسرے کے فون، چیٹس اور میسجز کو چیک کرنا ’تجسس‘ کے زمرے میں آتا ہے، اور یہ عمل رشتوں سے اعتماد کو ختم کر دیتا ہے۔اگر دل میں کوئی وسوسہ یا شک پیدا ہو جائے تو چھان بین کرنے کے بجائےنرمی کے ساتھ آپسی گفتگو سے معاملے کو صاف کرلینا چاہئے، کیوںکہ شک کی بنیاد پر کی جانے والی چھان بین تباہی لاتی ہے۔ ازدواجی تعلق میں یکجائیت کے باوجود ہر انسان کی ایک مستقل ذات اور عزتِ نفس ہوتی ہے، اور ایک دوسرے پر ہر وقت نظر رکھنے سے گھٹن پیدا ہو سکتی ہے، اسلئے ایسا نہ کیا جائے۔آپس کے اختلافات، غلطیوں یا خامیوں کا تذکرہ والدین، سسرال یا دوستوں کے سامنے کرنا رشتے کی بنیادیں کھوکھلی کر سکتا ہے، لباس کی طرح اندر کی بات کو اندر ہی رہنے دینا چاہئے، اگر کوئی خامی یا غلطی سامنے آ بھی جائے تو طعنے دینے اور ذلیل کرنے کے بجائے پیار، حکمت اور تنہائی میں نصیحت کے ذریعے اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔ اسلامی تعلیمات کا مقصد گھر کو امن، سکون اور تحفظ کا گہوارہ بنانا ہے، میاں بیوی کا ایک دوسرے کی پرائیویسی میں دخل انداز ہونا، تجسس کرنا اور عیوب کی تلاش میں رہنا شیطانی وسوسوں کو دعوت دیتا ہے، انہیں ایک دوسرے کا محافظ، رازدار اور پردہ پوش بن کر رہنا چاہیے تاکہ ازدواجی زندگی میں شک کی جگہ محبت، سکون اور اللہ کی رحمت نازل ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK