Inquilab Logo Happiest Places to Work

عورت کے ۴؍ رشتے اور اسلامی تعلیمات

Updated: August 21, 2026, 4:38 PM IST | Tahira Khatoon | Mumbai

زمانۂ جاہلیت میں جب اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا تھا، لوگ بیٹی کی پیدائش کو اپنے لئے اتنی بڑی ذلت سمجھتے تھے کہ غصے سے ان کے چہرے سیاہ پڑ جاتے تھے اور اس معصوم جان کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بحیثیت بیٹی: عزت و وقار کا استعارہ

زمانۂ جاہلیت میں جب اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا تھا، لوگ بیٹی کی پیدائش کو اپنے لئے اتنی بڑی ذلت سمجھتے تھے کہ غصے سے ان کے چہرے سیاہ پڑ جاتے تھے اور اس معصوم جان کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ قرآنِ کریم نے ان کے اس گھناؤنے فعل کی عکاسی ان الفاظ میں کی ہے کہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی ولادت کی خبر دی جاتی ہے تو وہ غم و غصے میں گھٹ جاتا ہے، قوم سے چھپتا پھرتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس ’بری خبر‘ کو ذلت کے ساتھ اٹھائے پھرتا رہے یا زمین میں دفن کر دے۔ کتنا برا اور ظالمانہ خیال تھا ان کا! اسلام نے اس ظالمانہ رسم کا قلع قمع کیا اور بیٹی کو احترام کی ایسی چوٹی پر پہنچا دیا جہاں اس کی پیدائش کو رحمت اور خوش نصیبی سمجھا جانے لگا۔ پیارے نبیؐ نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی پرورش کرے، ان کے لباس اور ضروریات کا خیال رکھے تو یہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم کی آگ سے ڈھال اور پردہ بن جاتی ہیں۔ بلکہ یہاں تک ارشاد ہوا کہ جس نے تین یا دو بیٹیوں کی اچھی دیکھ بھال کی اور ان کے ساتھ شفقت کا معاملہ کیا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ یہی نہیں بلکہ تاریخ میں پہلی بار اسلام نے ہی بیٹی کو وراثت میں باقاعدہ قانونی حق عطا کیا تاکہ وہ کسی کی محتاج نہ رہے۔ 

 بحیثیت بہن: محبت اور الفت کا سایہ

اسلام نے صرف بیٹی یا ماں ہی نہیں بلکہ بحیثیت بہن بھی عورت کے حقوق کا بھرپور پاس رکھا ہے۔ بھائی اور بہن کا رشتہ بچپن کی یادوں اور ایک انمول محبت کا نام ہے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رشتے کی تقدیس کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئے وہ بلاشبہ جنت کا حقدار بن جاتا ہے۔ شریعت نے وراثت کے معاملات میں بھی بہن کا حق نہایت خوبصورتی اور انصاف کے ساتھ متعین کیا ہے تاکہ خاندان کے کسی بھی موڑ پر عورت تنہا یا بے سہارا محسوس نہ کرے۔ 

یہ بھی پڑھئے:حج بدل کا ذکر تو کتابوں میں ہے مگر عمرہ بدل دَور حاضر کی اصطلاح ہے

بحیثیت بیوی: سکونِ قلب اور شریکِ حیات

قرآنِ کریم کہتا ہے کہ اللہ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم ہی میں سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس جا کر دلی سکون پاؤ اور آپس میں محبت و مودت پروان چڑھے۔ نکاح کوئی معمولی معاہدہ نہیں بلکہ ایک پختہ اور مقدس عہد ہے جو دو انسانوں کو اس طرح جوڑ دیتا ہے کہ قرآن انہیں ایک دوسرے کا ’لباس‘ قرار دیتا ہے۔ یہ تشبیہ اتنی گہری اور دل کو چھونے والی ہے کہ اس کے معنی میں پوری کائنات سمٹ آتی ہے۔ جس طرح لباس انسان کے جسم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، میاں بیوی بھی ایک دوسرے کے رازداں اور قریب ترین ہوتے ہیں۔ لباس جس طرح بدن کے عیوب چھپاتا ہے اور اسے خوبصورت بناتا ہے، بالکل اسی طرح ایک اچھے شوہر اور بیوی کو بھی ایک دوسرے کی کمزوریوں اور عیبوں کی پردہ پوشی کرنی چاہئے۔ 

میاں بیوی کے حقوق ایک دوسرے پر مساوی ہیں، البتہ مرد کو ذمّےداریوں کی نوعیت کے اعتبار سے سرپرستی کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس فضیلت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عورت کوئی محکوم ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد پر عورت کے حقوق کی حفاظت اور اس کے نان ونفقے کی ذمّےداری ڈالی گئی ہے۔ اسلام نے سخت تاکید کی ہے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ ہمیشہ اچھے طریقے سے رہو، یہاں تک کہ اگر کسی بات پر ناپسندیدگی بھی ہو تو صبر کرو، کیا عجب کہ اللہ نے اسی ناپسندیدہ چیز میں تمہارے لیے بہت سی خیر اور بھلائی چھپا رکھی ہو۔ 

یہ بھی پڑھئے:منافقین کی اقسام اور وہ علامات جو قرآن مجید میں بیان ہوئی ہیں

 بحیثیت ماں : عظمت کا تاج اور جنت کی ضمانت

جب بات ماں کی آتی ہے تو قلم خود بخود عقیدت سے جھک جاتا ہے۔ اس دنیا میں اگر کسی کی محبت بے لوث، لازوال اور سراپا خلوص ہے تو وہ ماں ہے۔ آپؐ نے اس رشتے کے تقدس کا اعلان ان الفاظ میں کیا کہ ’جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے‘۔ ایک صحابی نے جب بارگاہِ رسالت میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ! میرے حسنِ سلوک اور اچھے برتاؤ کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے دوسری اور تیسری بار یہی سوال دہرایا اور آپؐ نے ہر بار ’ماں ‘ ہی ارشاد فرمایا۔ چوتھی بار پوچھنے پر آپؐ نے فرمایا: تمہارے والد۔ اس حدیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام نے ماں کے قدموں میں اولاد کی دنیا و آخرت کی کامیابی کتنی خوبصورتی سے رکھ دی ہے۔ حمل کی صعوبتیں، ولادت کی غیر معمولی تکلیف اور پھر راتوں کو جاگ کر دودھ پلانے کی مشقت یہ وہ قربانیاں ہیں جن کا بدلہ اولاد کبھی چکا نہیں سکتی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK