Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیر کوئی چھپانے والی شئے نہیں، اس کی خوشبو کھانے والوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے

Updated: February 22, 2026, 10:00 AM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

آج سے کوئی تیس سال قبل رمضان جنوری اور فروری کی سردیوں میں پڑا تھا۔ اُس وقت سحری میں اُٹھنا بڑا مشکل ہوا کرتا تھا۔ ۱۹۹۶ء اور ۱۹۹۷ءکا موسم سرماکہرے کی دھند کی طرح آج بھی ذہن میں محفوظ ہے۔

Village youth and children also enjoy plucking plums from trees and picking up fallen plums on the ground. Photo: INN
درخت سے بیر توڑنے اور زمین پر گرے ہوئے بیر کو چننے میں بھی گاؤں کے نوجوانوں اور بچوں کو مزہ آتا ہے۔ تصویر: آئی این این

آج سے کوئی تیس سال قبل رمضان جنوری اور فروری کی سردیوں میں پڑا تھا۔ اُس وقت سحری میں اُٹھنا بڑا مشکل ہوا کرتا تھا۔ ۱۹۹۶ء اور ۱۹۹۷ءکا موسم سرماکہرے کی دھند کی طرح آج بھی ذہن میں محفوظ ہے۔ یہ وہ کڑاکے جاڑا تھا کہ جب کئی کئی روز سورج کے دیدار نہیں ہوا کرتے تھے۔ ایسی سخت سردی میں روزہ بڑی آسانی سے کٹ جاتا تھا، دن بھر الائو کے پاس بیٹھے بیٹھے وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔ روزے کی حالت میں بچے کرکٹ کھیلتے اِدھر اُدھر بھاگ دوڑ کرتے لیکن انہیں پیاس کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ گویا کمسن روزہ داروں کیلئے موسم بڑا موافق تھا۔ مکاتب میں رمضان کے پیش نظر ظہر سے قبل چھٹی ہو جاتی تھی۔ اُس وقت گائوں کے بچے اِنہیں مکاتب سے اپنی ابتدائی تعلیم شروع کرتے تھے۔ آج کی طرح انگلش میڈیم اسکولوں کی تعداد بہت کم تھی، جو اِکا دُکا تھے بھی، وہ گائوں سے بہت دور تھے۔

یہ بھی پڑھئے: گاؤں میں آج بھی ایسے کئی گھر ہیں جہاں ’اُپلوں‘ کی مدد سے کھانے پکتے ہیں

عام دنوں میں یہ مکاتب دونوں شفٹوں میں چلتے تھے۔ دوپہر کو مکتب کی چھٹی ہوتے ہی بچے گھر نہ جا کر کھیتوں اور باغوں کی طرف نکل پڑتے تھے۔ ہمارے یہاں پرتاپ گڑھ میں آنولے کی تو افراط ہے، ہر جگہ مل جاتا تھا۔ چنانچہ آنولہ کھا کھا کر بچوں کی طبیعت بھر جاتی تھی۔ رمضان میں کھٹی میٹھی شے کی تلاش میں وہ بیری کا پیڑ ڈھونڈتے ہوئے گائوں کے کنارے کی طرف نکل جاتے تھے۔دور کہیں بیری کا پیڑ نظر آتا تو اس کے پاس تک پہنچنا بھی بڑا مشکل مرحلہ ہوتا تھا، جگہ جگہ کانٹے اور خار دار جھاڑیاں راستہ روک لیتی تھیں۔ ننھے ننھے ہاتھ اُس میں الجھتے بچتے بچاتے بالآخر بیری کے درخت تک پہنچ ہی جاتے تھے۔ لمبی سی لگّی سے وہ درخت کی شاخ کو اس میں پھنسا کر سارے ساتھی ’زورلگاکے‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے شاخ کو پوری طاقت کھینچتے، اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے زمین پر بیری کے ڈھیر لگ جاتے تھے۔ ساتھ میں لائے اسکول کے بیگ اور جیبوںمیں بڑی تعداد میں بیری بھر لیتے تھے۔اتنی ڈھیر ساری بیر جب اُن کے ہاتھ لگ جاتی تو بچوں کا جی اسے کھانے کیلئے للچا اُٹھتا تھا۔ روزے کی حالت میں بے قابو ہونے والی زبان کو بڑی مشکل سے قابو کر پاتے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جب تک ’بَرہا‘ تیار نہیں ہو جاتا، تب تک دادا کا پھاوڑا رُکتا نہیں تھا

ایک بار گائوں کے بچوں نے ڈھیر ساری بیر توڑی۔ باغ کے باہر آکر آپس میں بٹوارہ کیا۔ سب اپنے اپنے حصے کی بیرلے کر گھر گئے۔ ایک بچے نے گھرکے ایک کمرے میں بیر چھپا کر رکھ دی۔ دوسرے روز اسکول جانے سے پہلے بیرتلاش کرنے لگا تاکہ وہاں اپنے دوستوں میں بھی بیر تقسیم کر سکے لیکن بیر مقررہ جگہ سے غائب تھی۔ کمرےسے نکل کر دادی سے شکایت کی ...دیکھئے رات کو یہاں ڈھیر ساری بیری رکھا تھا کون لے گیا...دادی نے اِدھر اُدھر دیکھا ...اور اس کے کان میں دھیر ے سے کہا...بیٹا رات میں بیر باہری کمرےمیں نہیں رکھتے ...ہو نہ ہو وہ پرانی باغ والی چڑیل لے گئی ہوگی...کیادادی...واقعی وہ پرانی باغ والی چڑیل... اس نے ڈرتے ہوئے جملے کو دہرایا ...کوئی بات نہیں اب آئندہ میں آپ کے پاس رکھوں گا ...یہ کہتے ہوئےوہ تیزقدموں سے اسکول کی طرف نکل گیا...یہ ہوتی تھی دادیوں کی حکمت، اسے کیا معلوم کہ بھیا اور اپی نے رات ہی میں بیری پر ہاتھ صاف کر دیئے تھے۔ ویسے بیر بھلا کوئی چھپانے کی شے ہے، اس کی خوشبو خود کھانے والوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے۔ اُس وقت بچے بیری کو بڑے مزےسے کھاتے تھے، اس کاذائقہ زبان پر ایسا چڑھ جاتا کہ آخری بیر کی گٹھلی دیر تک منھ میں ٹٹولتے رہتے تھے۔ 

اُس وقت بیر سے زیادہ ’جھر بیری‘ پسند کی جاتی تھی۔ اس کے ننھے سے پیڑ میں موتیوں کی طرح ’جھر بیری‘ گچھی ہوتی تھی۔اسے خواتین زیادہ پسند کرتی تھیں۔ ایسے علاقے جہاں ’جھر بیری‘ زیادہ پیدا ہوتی تھی، وہاں موسم میں رشتہ دار خاص طور سے جھر بیری کھانے آیا کرتے تھے، لیکن وہ علاقے اب چٹیل میدان یا کھیت میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ جھر بیری کب کی کٹ چکی، اب بچے وہاں بیری چننے نہیں آتے بلکہ بڑی مشینوں سے گیہوں کاٹے جاتے ہیں۔اسی طرح اِملی، آم اور مہوے کے درخت کےپھل ساتھ رشتوں میں بھی مٹھاس پیدا کرتے تھے۔موسم میں پیداوار کے مطابق چھوٹی بڑی رشتہ داریوں میں بھیجے جاتے تھے۔ اب رفتہ رفتہ پرانی روایتیں ختم ہو رہی ہیں۔ رشتے داریوں میں بھیجنے کے بجائے اب بیوپاریوں کو بیچے جارہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’اوس‘ کی وجہ سے صبح ہوتے ہوتے چار پائی اکڑ جاتی اور ایک طرف اُونچی اُٹھ جاتی تھی

ہاں تو بات بیری کے درخت کی ہو رہی تھی، اس تعلق سے بتاتا چلوں کہ گھر کے سامنے اس کا پیڑ لگانے پرپرانے لوگوں میں اختلاف ہے۔ کچھ اس کو عیب بتاتے ہیں اور کچھ اسے مباک اور مفید قرار دیتے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ گھر کے سامنے بیری کا پیڑ ہونے سے ہر وقت کانٹا چبھنے کا خطرہ رہتا ہے۔ہمارے علاقے میں اس درخت کی اہمیت اسلئے بھی ہے کہ مردے کو غسل دینے والے پانی میں اس کی پتیوںکااستعمال ہوتا ہے۔ عام طور سے قبر کے اندر بانس کی لکڑی لگائی جاتی ہے لیکن اس میں ایک ٹہنی بیری کی خاص طور سے رکھ دی جاتی ہے۔اب اس کی شرعی حیثیت کیا ہے یہ تو نہیں معلوم لیکن بزرگوں کی قائم کردہ روایت آج بھی برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK