Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان: ایندھن کا بحران شدید، ہنگامی اقدامات کا اعلان

Updated: June 03, 2026, 8:03 PM IST | Islamabad

پاکستان میں ایندھن کے بحران کے درمیان حکومت نے متعدد ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے، اس میں دکانوں کو رات آٹھ بجے بند کرنا شامل ہے۔

Pakistan`s Prime Minister Shahbaz Sharif. Photo: INN
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف۔ تصویر: آئی این این

مغربی ایشیا میں جاری تنازع نے پاکستان کو ایندھن کی راشننگ اور متعدد ہنگامی اقدامات اپنانے پر مجبور کر دیا ہے، جہاں گھریلو ایندھن کی قیمتیں ایک ماہ میں۴۰؍ فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ اسلام آباد میں کاروباری اوقات کو محدود کر دیا گیا ہے اور ہفتے بھر کے لیے لازمی طور پر بندش نافذ کر دی گئی ہے۔ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے جاری بچت اقدامات کے تحت کاروباری اوقات میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے جو ایک جون سے نافذ العمل ہے۔ بازار، دکانیں اور شاپنگ مال رات آٹھ بجے بند ہوں گے، جبکہ ریسٹورنٹ، گروسری اسٹور، بیکریاں اور دیگر فوڈ آؤٹ لیٹ رات دس بجے تک کھلے رہیں گے۔اس کے علاوہ دارالحکومت میں ہونے والے پروگرام بھی نئی پابندیوں سے متاثر ہوں گے۔ یہ پابندیاں عوامی کاروبار کے ساتھ نجیجگہوں پر ہونے والی تقریبات پر بھی عائد ہوں گی۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان: پاکستانیوں کے ذریعے بغیراجازت تعمیر مسجد غیر قانونی قرار، انہدام کا خطرہ

ڈپٹی کمشنر عرفان میمن کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ شادی ہال، اور دیگر تقریبات کے مقامات بھی رات دس بجے بند ہوں گے۔ تاہم ضروری خدمات بشمول فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپ، دودھ کی دکانیں،کھیل کی سہولیات ، کال سینٹرز اور بین الاقوامی صارفین کو خدمات فراہم کرنے والی آئی ٹی کمپنیاں ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان اسرائیلی فوجی ایتان گلبوع کے خلاف کارروائی کرے: ہند رجب فاؤنڈیشن

واضح رہے کہ یہ اعلان مارچ میںایران پر امریکی حملے کےنتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے حکومت کو بجلی بچانے کے لیے دکانیں جلدی بند کرنے جیسے اقدامات کرنے پڑے۔بعد ازاں عید کے موقع پر کاروباریوں نے نرمی کا مطالبہ کیا تھا، جس پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے عارضی طور پر رات دیر تک کاروبار کی اجازت دے دی تھی۔جبکہ کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پانی کی سپلائی تیسرےدن بھی متاثر رہی، جس سے شدید گرمی میں شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔لوگوں کو مہنگے پانی کے ٹینکراور غیر منظم سپلائرکا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ ایک بالٹی پانی حاصل کرنا بھی بہت سے شہریوں کے لیے روزانہ کی تھکا دینے والی جنگ بن گیا ہے۔ ساتھ ہی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بیک اپ بیٹریاں جلدی ختم ہو رہی ہیں اور جنریٹر کا استعمال بڑھ گیا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان میں قدرتی آفات اور سیاسی وجوہات کی بنا پر انٹرنیٹ کی بندش معمول ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK