• Mon, 09 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جب تک ’بَرہا‘ تیار نہیں ہو جاتا، تب تک دادا کا پھاوڑا رُکتا نہیں تھا

Updated: February 08, 2026, 11:26 AM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

اُس روز کھیتوں کی طرف گھومتے ہوئے اچانک قد م رُک گئے۔ ایک نوجوان سینچائی کیلئے ’بَرَہا‘ (سینچائی کی نالی)کا مینڈ درست کررہا تھا۔ قریب پہنچنے پر نوجوان سے پوچھا کہ’’بھئی یہ تو پائپ سے سینچائی کا زمانہ ہے آپ ابھی تک وہی پرانا طریقہ استعمال کررہے ہیں۔‘‘

Making and monitoring Rill in the fields during the cold season is a very difficult task. Photo: INN
سردی کے موسم میں کھیتوں میں برہا بنانا اور اس کی نگرانی کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این

اُس روز کھیتوں کی طرف گھومتے ہوئے اچانک قد م رُک گئے۔ ایک نوجوان سینچائی کیلئے ’بَرَہا‘ (سینچائی کی نالی)کا مینڈ درست کررہا تھا۔ قریب پہنچنے پر نوجوان سے پوچھا کہ’’بھئی یہ تو پائپ سے سینچائی کا زمانہ ہے آپ ابھی تک وہی پرانا طریقہ استعمال کررہے ہیں۔‘‘نوجون نے جواب دیا کہ’’بھیا جی... ہم بھی پائپ خرید سکتے ہیں ، لیکن یہ ’بَرَہا‘ ہماری غریبی کا ساتھی ہے، اُ س وقت حالت یہ تھی ہم بڑی مشکل سے اپنے کھیت کی بوائی کر پاتے تھے۔اُس غربت میں کھیتوں کی سینچائی کیلئے اسی ’برہا‘ سے پانی لے جاتے تھے ۔اس سے لگائو کی ایک وجہ اور بھی ہے ۔ یہ ہمارے دادا کی نشانی ہے ۔ مئی،جون کی تپتی دوپہر اور دسمبر، جنوری کی کڑاکے کی سردی بھی دادا کے عزم و حوصلے کو روک نہیں پائی تھی۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب تک ’برہا‘ تیار نہیں ہو جاتا، تب تک دادا کا پھاوڑا رُکتا نہیں تھا۔ سخت گرمی میں لوٗ کی پروا کئے بغیروہ دوپہر میں بھی کم ہی آرام کرتے تھے ۔ اُ س وقت ہم بچے تھے، اتنی سمجھ نہیں تھی، بڑے ہونے پر معلوم ہوا کہ اگردادا نے اپنی انتھک محنت سے ’برہا‘ نہ تیار کیا ہوتا تو ہم بھوکوں مر جاتے کیونکہ اُس وقت فصلوں تک پانی پہنچانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ کھیتوں کو ہرا بھرا رکھنے میں اِس کی مدد شامل ہے۔ وہ تعاون بھلا ہم کیسے بھلا سکتے ہیں۔ اُس وقت جب ٹیوب ویل چلتا تو ہماری ڈیوٹی ’برہا‘ کے کنارے کنارے اُس کی نگرانی کی تھی کہ کہیں سوراخ سے پانی تو نہیں بہہ رہا ہے ۔ پہلی سینچائی کے دوران اکثر جگہ جگہ سے پانی بہنے لگتا تھاکیونکہ یہ حرکت چوہوں کی ہوتی تھی وہ سوراخ کرنے سے باز نہیںآتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ’اوس‘ کی وجہ سے صبح ہوتے ہوتے چار پائی اکڑ جاتی اور ایک طرف اُونچی اُٹھ جاتی تھی

نشیب و فراز والے علاقوںکی سینچائی کیلئے’ دُھرا‘ بنایا جاتا تھا۔ اِس کو دُھرا باندھنا بھی کہتے ہیں۔ نشیبی زمین کو پاٹ کر اُس کو برابر کیا جاتا تھا تاکہ زمین  لیول ہو اور پانی آسانی سے بہہ سکے۔ چنانچہ اُس وقت بڑے اونچے اونچے دُھرے باندھے جاتے تھے ۔ اُس وقت سینچائی کا کام آسان نہیں تھا۔ سینچائی سے پہلے ’بَرہا‘ اور ’دُھرا‘ کی مرمت ہوتی۔ مزدور لگا کر صفائی کرائی جاتی تھی۔ تب کہیں جاکر پانی کھیتوں تک پہنچتا تھا۔ہمارے علاقے میں سینچائی کی اُن نالیوں کی لمبائی ۸۰۰-۹۰۰؍ تک میٹر ہوا کرتی تھی اور کہیں کہیں تو اُس کی لمبائی ایک کلو میٹر سے بھی تجاوز کر جاتی ۔ اِ ن لمبی نالیوں یعنی ’بَرہا‘ کے ذریعے کھیتوں میں پانی پہنچنے میں ایک گھنٹہ سے زائد کا وقت لگ جاتا تھا ۔ خدا نخواستہ اگر کہیں راستے  میںنالی کٹ گئی تو کھیتوں تک پانی پہنچنے میں مزید تاخیر ہو جاتی تھی ۔ اِسلئے ’بَرہا ‘ کی لمبائی زیادہ ہونے کی صورت میں اس کی نگرانی کیلئے گھر کے کئی افراد کو ذمہ داری دی جاتی تھی ۔ فلاں پیڑ سے فلاں کے کھیت تک نگرانی کی ذمہ داری ایک بچے کی ہوتی تھی اور ٹوٹی پُلیا سے بجلی کے کھمبے تک کی ذمہ داری کسی اور کی ہوتی تھی۔ اس طرح سینچائی کے کام میں پورا گھر لگا رہتا تھا ۔ سردیوں میں گیہوں کی سینچائی کا کام بڑا مشکل ہوتا تھا ۔ کڑاکے کی سردی میں پانی بھرے کھیتوں میں اُتر کر سینچائی کرنا آسان کام نہیں تھا ۔ خاص طورسے گیہوں کے کھیت کی پہلی سینچائی بڑی محنت بھری ہوتی تھی کیونکہ پورے کھیت کی سینچائی کیلئے۶-۶؍ فٹ کے ’پٹرے‘  یعنی کیاری بنائی جاتی تھی ۔(کیاری بنانے کا کام ابھی بھی ایسے ہی ہوتا ہے) اس میں جب پہلا  پانی پڑتا تھا تو اِن کیاریوں کو درست کرنے کا کام بڑامشکل ہوتاتھا ۔ سخت سردی میں تھر تھر کانپتے ہاتھوں سے یہ کام مکمل کیا جاتا تھا ۔اُس وقت سردی سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ تھا الائو ۔ سینچائی ختم ہونے تک کھیت کے باہرالائو جلا دیا جاتا تھا ، اُس کی آگ ایسی دہک رہی ہوتی تھی کہ بس پندرہ منٹ میں سردی غائب ہو جاتی اور جسم میں حرارت کا احساس ہونے لگتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: کھیتوں میں پیلے پیلے سرسوں کے پھول، ایسا لگتا ہے جیسے سنہری چادر تنی ہو

’بَرہا ‘کی گہرائی اتنی تھی کہ اکثر گھر میں شرارت کرنے والے بچے اِسی میں جاکر چھپ جاتے تھے ۔ پکڑے جانے پر مار کا ڈر ہوتا تو اوپر سے پُوال ڈال لیتے ،اس طرح تلاش کرنے والوں کو چکمہ دیتے۔ سینچائی کے دوران نالی کی نگرانی کرنے والا ذرا سا غافل ہوتا ، یہ بچے وہاں پہنچ جاتے اور نالی کو کٹ کرکے خود ہی دوڑ لگا دیتے.....بھیا پانی بہہ رہا ہے جلدی چلئے۔

یہ بھی پڑھئے: دسمبر میں کیلنڈر اُتار کر رکھ لیا جاتا، بعد میں اس کے صفحات سے پتنگ بنائے جاتے

سینچائی کے دوران نالی کے پاس واقع گھر کی خواتین وہیں بیٹھ کر برتن صاف کرتیں۔ گھر کے ڈھیر سارے بستردھل دیئے جاتے۔ خواتین کو تو جیسے اس دِن کا انتظار رہتا تھا ۔گائوں کے کسان خود تو نہاتے ہی ،نالی کے پاس لاکر اپنی بھینسوں کو بھی نہلا کر چمکا دیتے تھے۔ پانی سوکھ جانے پر بھینس کی سینگ میں سرسوں کا تیل لگا تے ۔ نہلانے کیلئے لائی جانے والی گائیں اکثر پانی دیکھ کر بدک کر بھاگ جاتی تھیں ۔ گویا کھیتوں کی سینچائی کے ساتھ اُس روز بہت سارےگھریلو کام بھی ہو جایا کرتے تھے ۔ اب سینچائی کی وہ روایتی نالیاں تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔پلاسٹک کی پائپ نے کام آسان کر دیا ہے ۔اب سینچائی سے پہلے نالی کی صفائی اور اُسے درست کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ لمبی سی پائپ بچھائیے اور سینچائی کے بعد سمیٹ کر گھر میں رکھ دیجئے، گھنٹوں کا کام منٹوںمیں ختم۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK