• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گاؤں میں آج بھی ایسے کئی گھر ہیں جہاں ’اُپلوں‘ کی مدد سے کھانے پکتے ہیں

Updated: February 15, 2026, 10:48 AM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

فروری میں جب کڑاکے سردی ختم ہو جاتی تو ایسے موسم میں ایک کام پر خواتین کی خاص توجہ ہوتی تھی۔ وہ کام اُپلے ’پاتھنے‘ کا تھا۔ یہ موسم اُپلےپاتھنے کیلئے بڑا موزوں ہوتا تھا۔

Women prepare the dung by mixing a lot of horse manure with it to make it into porridge. Photo: INN
گوبر میں ڈھیر سارے کھر پتوار ملا کر خواتین اسے اُپلےبنانے کیلئے تیار کرتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

فروری میں جب کڑاکے سردی ختم ہو جاتی تو ایسے موسم میں ایک کام پر خواتین کی خاص توجہ ہوتی تھی۔ وہ کام اُپلے ’پاتھنے‘ کا تھا۔ یہ موسم اُپلےپاتھنے کیلئے بڑا موزوں ہوتا تھا۔ اسلئے کہ دسمبر جنوری میں سردی کے ساتھ کہرا بھی پڑتا ہے اور کئی کئی روز سورج نہیں نکلتا، ایسے موسم میں اگر کسی طرح اُپلےپاتھ بھی لئے جائیں تو اسے سکھایا کہاں جا تا۔ فروری کے مہینےمیں باغ میں کسی اونچی جگہ منتخب کرکے گائوں کی خواتین یہیں جمع ہوتیں اور گوبر میں ڈھیر سارے کھر پتوار ملا کر اسے اُپلےبنانے کیلئے تیار کرتی تھیں۔ کھیتوں سے نکلنے والے فضلات اور بھوسے کا استعمال اسی اُپلےمیں ہوا کرتا تھا۔ اس سے اُپلےمیں آسانی سے آگ پکڑتی تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ اب اُپلےتیار نہیں ہوتے ، اب بھی بنائے جاتے ہیں لیکن ان کی تعداد پہلے کے مقابلے کافی کم ہو گئی ہے۔ مشرقی یوپی کی مشہور ڈِش باٹی چوکھا اُپلوں پر ہی تیار ہوتی ہے۔کہتے ہیں اُپلےپر تیار کی جانے والی باٹی کا ذائقہ سوندھا ہوتا ہے۔ لکھنؤ میں باٹی بنانےوالے گائوں سے اُپلےخرید کر لاتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’اوس‘ کی وجہ سے صبح ہوتے ہوتے چار پائی اکڑ جاتی اور ایک طرف اُونچی اُٹھ جاتی تھی

آج بھی گائوں کے غریب طبقے اُپلےپر ہی کھانا پکاتے ہیں۔لکڑی اور گیس سلنڈر کے اخراجات مفت کے اُپلےسے بچ جاتے ہیں۔ ایسے غریب جن کے پاس مویشی نہیں ہیں وہ باغوں اور چرا گاہوں سے گوبر جمع کرتے ہیں۔ غربت کے مارے یہ لوگ اپنے گھر کے کسی ایک بچے کو گوبر جمع کرنے کی ذمہ داری دیتے ہیں۔ وہ دن بھر باغوں اور چرا گاہوں میں ٹہل ٹہل کر گوبر جمع کرتا ہے۔پیڑوں سے سوکھ کر زمین پر گرنے والی لکڑیوں کو بھی اپنے ساتھ چُن کر لاتا ہے اس طرح شام تک چولہے کا ایندھن جمع ہو جاتا ہے۔اُپلے تیار کرنے کا یہ سلسلہ فروری سے شروع ہوتا ہے تو گیہوں کٹنے سے پہلے یعنی اپریل تک چلتاہے۔ اس درمیان روزانہ تیار ہونے والے اُپلےکا ڈھیر لگ جا تا ہے، اس ڈھیر کو بھٹہور کہتے ہیں۔ یہ کام گھر کی بزرگ خواتین کرتی ہیں۔ نئی نسل انہیں سے یہ کام سیکھتی تھی۔ اس کام میں دلچسپی لینے والوں کی تعداد اب کم ہو گئی ہے۔ صابن اور شیمپو سے نہانے والی یہ نسل گوبر کو بھلا ہاتھ کیسے لگائے،اُسے گوبر سے بدبو آتی ہے۔ ورنہ ایک وقت تک نئی نویلی دلہنیں گھونٹ میں اُپلےپاتھنے جایا کرتی تھیں۔اب گائوں میں آنے والی دلہنیں جہیز میں گیس سلنڈر اور چولہا لے کر آرہی ہیں تو وہ بھلا کیسے اُپلےپاتھ سکتی ہیں۔ پہلے یہ سب کام اجتماعی ہوا کرتا تھا۔ گائوں کی سب عورتیں ایک جگہ جمع ہوجاتیں اور سب مل کر اُپلےتیار کرتی تھیں۔ ایک دوسرے کو اُپلےبنانے میں مدد کرتی تھیں۔ وہ صبحیں بھی کیا خوب تھیں جب باغوں کے پاس سے اُپلےپاتھنے کی تھاپ کے ساتھ چوڑی کھنکنے کی آواز بھی آتی تھی، جو ایسی مسحور کن ہوتی کہ کھیتوں کی طرف نکلنے والوں کے قدم کچھ دیر کیلئے رُک جاتے تھے۔ اُپلےپاتھنے کے ساتھ ہی اس کو سکھانے کیلئے بھی بڑا جتن کرنا پڑتا تھا۔ تازہ اُپلےزمین پر ہی سکھائے جاتے۔ ایک دو دن بعد انہیں اُٹھا کر ڈھیر سارے اُپلوں کو ساتھ میں ملا کر ایک ساتھ کھڑا کر دیا جاتا ، روزانہ اس کی سمت بدلی جاتی تاکہ یہ ہر طرف سے سوکھ جائیں۔بارش سے پہلے سوکھے ہوئے اُپلےکو بھٹہور(اُپلے رکھنے کی جگہ کو کہتے ہیں) سے ہٹا کر اسے چھپر یا کسی دیگر محفوظ مقام پر رکھ دیا جاتا تھا۔ بارش کے دنوں میں جب لکڑیاں بھیگ جاتیں تو اسی اُپلےکی آگ سے گھر کا کھانا تیار ہوتا تھا۔ اُپلےجلنےسے پہلے اس میں دھواں خوب نکلتا ہے۔ بارش میں جب مچھروں کے سبب گھر میں سونا مشکل ہو جاتا ہے تو اس وقت یہی اُپلےکام آتے ہیں۔ اس کے دھوئیں سے مچھر کوسوں دور بھاگ جاتے ہیں۔ گویا یہ گائوں کا ’آل آئوٹ‘ ہے۔اسی اُپلےسے مٹی کےبڑے برتن میں دودھ گرم کیا جاتا تھا جسے ہمارے یہاںکچھری کہتے ہیں۔یہ دودھ صبح سے دھیمی آنچ پر پکتے پکتےسرخ مائل ہو جاتا اور اس میں موٹی بالائی پڑ جاتی۔ اس تازہ اور خالص دودھ کو پینےکا اپنا ہی مزہ تھا۔اس دودھ سے تیار ہونے والے مٹھے(چھاچھ) اور دہی کا جواب نہیں صاحب۔ 

یہ بھی پڑھئے: دسمبر میں کیلنڈر اُتار کر رکھ لیا جاتا، بعد میں اس کے صفحات سے پتنگ بنائے جاتے

گائوں میں اُس وقت مٹی کا چولہا ہی سہا را تھا۔ بعد میں اسٹو آیا تو لوگ بارش اور ایمرجنسی کی صورت میں اس کی مدد لینے لگے۔ اچانک مہمان آنے پر بھی اسٹو پر کھانا تیار کیا جاتا تھا۔ گائوں میں ایک وقت گوبر گیس کا بھی خوب استعمال ہوا تھا۔ اس کیلئے انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ چھوٹا سا پلانٹ بنایا جاتا تھا۔ اس میں بڑی مقدار میں گوبر جمع کرنے کے بعد گیس تیارہو تی تھی ،جس سے گھر میں اِسی گیس سے چولہا جلتا تھا۔ ۹۰ء کی دہائی میں ہمارےعلاقے میں بڑی تعداد میں پلانٹ بنے۔اُس وقت صورت حال یہ تھی گائوں میں گوبر کی قلت پڑ گئی تھی ، جس کو دیکھو وہی پورے گائوں میں گوبر ڈھونڈتاپھر تا تھا۔ سرکاری اسکیم کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے لوگوں نے پلانٹ تو بنوا لئے لیکن کم ہی لوگوں کو کامیابی ہاتھ لگی۔ زیادہ تر کے پلانٹ چند مہینے میں ہی بند ہو گئے۔ اُپلےکے مختلف علاقوں میں الگ الگ نام ہیں۔ کہیں کنڈا اور کہیں چپڑی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK