مسجد کے لائوڈ اسپیکر اور مرغ کی بانگ کا تو ایک وقت مقرر ہے جس کی آواز سے گائوں کے لوگ بیدار ہوتے ہیں، لیکن موبائل کے الارم کا تو کوئی وقت مقرر نہیں۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 7:20 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai
مسجد کے لائوڈ اسپیکر اور مرغ کی بانگ کا تو ایک وقت مقرر ہے جس کی آواز سے گائوں کے لوگ بیدار ہوتے ہیں، لیکن موبائل کے الارم کا تو کوئی وقت مقرر نہیں۔
گاؤں میں گرمی کی شدت جاری ہے۔ آئے دن آندھی آرہی ہے۔ اب تو آ ندھی آنے سے پہلے موبائل میں بھی ایک شور اُٹھتا ہے، یعنی محکمہ موسمیات کا الرٹ جاری ہوتا ہے۔ شروع شروع میں تو گائوں والوں کو لگا کہ ان کے موبائل میں کوئی تکنیکی خرابی آگئی ہے یا کوئی وائرس موبائل میں داخل ہو گیا ہے جو اندر سے شور مچا رہا ہے۔ رواں ماہ موسم میں ہونے والے اتار چڑھائو کے سبب اکثر موبائل بج اُٹھتا ہے۔ نوجوانوں میں تو نہیں لیکن گائوں کے بزرگوں میں یہ الارم کچھ یوں موضوع گفتگو ہے۔ ارے بھائی یہ موبائل ہے یا تھانے کا سائرن...لگتا ہے بادل اب فون کرکے بتاتے ہیں کہ ہم آرہے ہیں، ہمارے بچپن میں تو کوئل بولتی تھی، چیونٹیاں انڈے اُٹھاتی تھیں تو ہم اندازہ لگاتے تھے کہ اب بارش ہو سکتی ہے یا موسم خراب ہونے والا ہے۔ مور کے ناچنے کو بھی بارش ہونے کا اشارہ سمجھا جاتا تھا۔ اب تو فون چیختا ہے تو پتہ چلتا ہے بادل آنے والا ہے۔ محکمہ موسمیات سے جس زور سے تیز بارش اور آندھی طوفان کا الرٹ جاری ہونے کا پیغام نشر ہوتا ہے۔ اگر واقعی اتنی بارش ہو جائے تو نہریں دریا بن جائیں اور گائوں سیلاب میں ڈوب جائیں۔ بزرگوں کی ٹولی میں بیٹھا ایک نوجوان یوں گویا ہوا...چچا اب زمانہ بدل گیا ہے، بادل بھی وہاٹس ایپ اور موبائل کے ذریعے خبر بھیجنے لگے ہیں۔ گاؤں کے بزرگ اس الارم سے خاصے پریشان ہونے لگے ہیں۔ ایک دادی ماں نے اپنے پوتے سےکہا...بیٹا یہ فون سے کیسی آواز آرہی ہے، کہیں پھر تو لاک ڈائون نہیں لگنے والا ہے۔ بعض اوقات الرٹ آنے پر جب بارش نہیں ہوتی تو اُس وقت گائوں والوں کی باتیں سنیں ... محکمۂ موسمیات کی پیش گوئی اور ہمارے گاؤں کے نائی کے وعدے میں بڑا مقابلہ ہے، دونوں کبھی کبھار ہی اپنے وعدے پر پورے اُترتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: گرمیوں کی دوپہر، تالاب، بھینسیں، بچوں کا شور اور ہنسی آج بھی ذہن میں تازہ ہیں
ایک بزرگ کہنے لگے کہ بیٹا ...پہلے بادل گرجتےچمکتے تھے۔ اب موبائل چمک کے ساتھ گرجنے لگا ہے۔ بارش آئی نہیں ...ڈھول پہلے ہی بجنے لگتا ہے۔ گائوں کے کسان الارم کی آواز سن کر آسمان کی طرف ایسے دیکھتے ہیں جیسے امتحان کا نتیجہ آنے والا ہو۔ آسمان میں دور دور تک کہیں پتہ نہیں ...اِدھر یہ شور مچ گیا کہ بادل آنے والا ہے ...بارش ہونے والی ہے۔ یہ موبائل بھی کیا شئے ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ الارم بجتے ہی چرواہے اپنی بکریاں ہانکنے لگتے ہیں ...بارش اور آندھی کے ڈر سے انہیں محفوظ مقام کی طرف لے جاتے ہیں۔ گھر کے باہر پھیلے مویشیوں کے چارے کو اندر رکھا جانے لگتا ہے۔ چھت پر سوکھنے کیلئے پھیلائے گئے کپڑے جلدی جلدی نیچے اُتارے جاتے ہیں۔ اس کام میں گھر کے بچے بھی مدد کرتے ہیں۔ گویامحکمہ موسمیات کا الارم بجنے کے بعد پورا گھر کام پر لگ جاتا ہے۔
مسجد کے لائوڈ اسپیکر اور مرغ کی بانگ کا تو ایک وقت مقرر ہے جس کی آواز سے گائوں کے لوگ بیدار ہوتے ہیں، لیکن موبائل کے الارم کا تو کوئی وقت مقرر نہیں۔ گائوں کے لوگ دن بھر کے کام سے تھکے ہارے جب بستر پر جاتے ہیں اور گرمی میں کسی طرح جب ان کو نیند آتی ہے کہ آدھی رات کے بعد موبائل کا الارم بج اُٹھتا ہے۔ پھر جلدی جلدی گھر کے باہر بچھی چارپائیاں اندر کی جانے لگتی ہیں۔ گرمی کے سبب درختوں کے نیچے بندھے ہوئے مویشی باڑےلے جائے جاتے ہیں۔ اس طرح کسانوں کو دن بھر کے محنت بھرے کام کے بعد رات کو بھی سکون نہیں ملتا ہے۔ ابتدائی دنوں میں جب یہ الارم بجا تو گائوں میں افرا تفری سی مچ گئی۔ بہت سے لوگوں کو لگا کہ ان کا موبائل خراب ہو گیا۔ کچھ لوگ تو الارم سُن کر اچھل پڑے اور ڈر سے موبائل چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ بڑوں کی یہ حالت دیکھ کر بچے بھی گھبرا گئے۔ پورے گائوں میں خوف اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ بعد میں جب اُنہیں اطلاع ملی کہ یہ الارم کسی ممکنہ طوفان، شدید بارش یا دیگر موسمی خطرے سے آگاہ کرنے کیلئے بجایا گیا ہے، تو آہستہ آہستہ لوگوں کی گھبراہٹ کم ہونے لگی۔ پھر وہ احتیاطی تدابیر اختیارکرنےلگے۔
یہ بھی پڑھئے: جس مٹی میں کھیل کود کر بچے، بڑے ہوتے ہیں، وہ اُسے کیسے بھول سکتے ہیں؟
اِس وقت گائوں میں محکمہ موسمیات کا الارم موضوع بحث ہے۔ چوپالوں اور چائے خانوں پر جمع ہونے والےکسان اور نوجوان اس پر خوب چرچا کرتے ہیں ۔ اس پر لطیفے بن رہے ہیں اور تبصرے بھی ہور ہے ہیں۔ ایک بزرگ کہنے لگے کہ کاش یہ الارم فصلوں کو بھی سنائی دیتا تو شاید وہ بھی بارش کے انتظار میں سیدھی کھڑی ہو جاتیں۔ اب تو بادل آنےسے پہلے چٹھی بھیجنے لگے ہیں۔ اُس روز مغرب سے ذرا دیر پہلے پرتاپ گڑھ کے دیواسہ گائوں میں الارم بجا ...ممبئی سے اپنے گائوں تشریف لائے مولانا محمد یحییٰ صاحب قاسمی نقشبندی کہنے لگے لو بھئی ...یہ الارم مراد آباد سے پیچھا کرتے ہوئے پرتاپ گڑھ تک پہنچ گیا۔ اللہ خیر کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ الارم لوگوں کی حفاظت کیلئے ہوتا ہے، مگر گاؤں کی سادہ زندگی میں ہر نئی چیز پر تبصرہ ہونا لازمی ہے۔ چنانچہ محکمۂ موسمیات کا ایک چھوٹا سا موبائل الرٹ بھی گاؤں کے چوپال، چائے کی دکان اور کھیتوں کی مینڈ پر کئی گھنٹوں کی دلچسپ گفتگو کا موضوع بن جاتا ہے۔