اعظم خان کے اس ’ڈریم پروجیکٹ‘ کی بعض عمارتوں میں امریکی کیپٹل، وہائٹ ہاؤس اور ہمارے راشٹرپتی بھون، نارتھ بلاک، ساؤتھ بلاک اور پارلیمنٹ کی عمارت کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور یہ سب یوں ہی نہیں ہے بلکہ ان کے پیچھے ایک ویژن ہے۔
EPAPER
Updated: August 02, 2026, 6:34 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai
اعظم خان کے اس ’ڈریم پروجیکٹ‘ کی بعض عمارتوں میں امریکی کیپٹل، وہائٹ ہاؤس اور ہمارے راشٹرپتی بھون، نارتھ بلاک، ساؤتھ بلاک اور پارلیمنٹ کی عمارت کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور یہ سب یوں ہی نہیں ہے بلکہ ان کے پیچھے ایک ویژن ہے۔
اترپردیش کے شہر رام پور کو ہمیشہ سے وی آئی پی کا درجہ حاصل رہا ہے۔ کبھی مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور بی اماں کی وجہ سے، تو کبھی مولانا ابو الکلام آزاد کے انتخابی حلقہ کی وجہ سے تو کبھی رام پوری چاقو کی بین الاقوامی شہرت اور کبھی اعظم خان کی اپنی طرز سیاست کی وجہ سے۔ اس بار یہ شہرموضوع بحث مولا نا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی وجہ سے ہے جو اعظم خان کا ڈریم پروجیکٹ ہے اور جو اپنی انفرادیت اور معیاری تعلیم کی وجہ سے بہت کم عرصے میں ملک کی اہم یونیورسٹیوں میں شمار ہونے لگا ہے۔ سیاسی انتقام کی وجہ سے ضابطے کا بہا نہ بنا کر یوگی آدتیہ ناتھ کی سربراہی میں اترپردیش کی انتظامیہ نے اس یونیورسٹی کو تہس نہس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک ہفتہ قبل رام پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (آر ڈی اے) نے یونیورسٹی کی ۴۰؍ میں سے ۳۸؍ عمارتوں کی مسماری کا فرمان جاری کیا ہے۔ آر ڈی اے جس کا کام شہرکو ترقی یافتہ بنانا ہے، وہ شہر کی ان تعلیمی عمارتوں کو جو صرف رام پور نہیں بلکہ اترپردیش اور پورے ملک کی شان ہیں، زمین بوس کرکے شہر کو کھنڈر بنا دینا چاہتا ہے۔ صرف اسلئے کہ یہ ادارہ اعظم خان کا ڈریم پروجیکٹ ہے جو انہوں نے اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے شہر، اپنے ضلع اور اپنی ریاست کے طلبہ کیلئے بنایا ہے۔
محمد علی جوہر یونیورسٹی کا قیام اس تصور کے تحت عمل میں آیا ہے کہ غریب، دیہی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کو ایک ایسا جامع تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے جہاں اسکول سے لے کر پیشہ ورانہ تعلیم تک کے مواقع ایک ہی کیمپس میں میسر ہوں۔ اس ادارے کی بنیاد۲۰۰۶ء میں پڑی لیکن اگلے ہی سال ۲۰۰۷ء میں مایاوتی کے اقتدار میں آنے کے بعد ریاستی سیاست کا نقشہ تبدیل ہوجانے کی وجہ سے اس کی تعمیر میں تاخیر ہوئی۔ ۲۰۱۲ء میں اترپردیش میں ایک بار پھر سماجوادی پارٹی کی حکومت بنی تو ادارے کی تعمیر کے کام میں تیزی آئی اور ریاستی قانون کے تحت یونیورسٹی کی حیثیت حاصل ہوئی۔ تقریباً ۵۰۰؍ ایکڑ پر مشتمل کیمپس، اس کی مرکزی شاہراہیں، وسیع سبزہ زار، رہائشی ہاسٹل، تدریسی عمارتیں اور شاہکار لائبریری اسے ملک کی نمایاں نجی تعلیمی منصوبوں میں شمار کرتے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اس کی تعمیر مرحلہ وار ہوئی اور اس میں مختلف شعبوں کیلئے علاحدہ عمارتیں قائم کی گئیں۔ دستیاب سرکاری و ادارہ جاتی معلومات کے مطابق یہاں متعدد فیکلٹیز اور کالجز قائم کیے گئے، جن میں نمایاں طور پر درج ذیل شامل ہیں :
فیکلٹی آف میڈیسن (میڈیکل کالج)
فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی
فیکلٹی آف ایجوکیشن
فیکلٹی آف آرٹس
فیکلٹی آف سوشل سائنسز
فیکلٹی آف کامرس اینڈ مینجمنٹ
فیکلٹی آف لاء
فیکلٹی آف ایگریکلچر
فیکلٹی آف یونانی/طبی علوم (متعلقہ کورسز)
اس کے علاوہ بی اے، بی ایس سی، بی کام، ایم اے، ایم ایس سی، بی ایڈ، ایم ایڈ، ایل ایل بی، بی ٹیک اور دیگر پیشہ ورانہ کورسز بھی مختلف ادوار میں شروع کئے گئے ہیں۔ ایک بڑے میڈیکل کیمپس کی موجودگی اس منصوبے کو خاص اہمیت دیتی ہے، کیونکہ رام پور اور آس پاس کے اضلاع میں اعلیٰ طبی تعلیم اور تربیت کے مواقع محدود رہے ہیں۔
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کواعظم خان کا ڈریم پروجیکٹ یوں نہیں قرار دیا جاتا۔ اس کیلئے اعظم خان نے دن رات اور خون پسینہ ایک کیا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کو بین الاقوامی معیار عطا کرنے کیلئے عمارتوں کی تعمیر کے ساتھ ہی تعلیم کے تئیں ہر چھوٹی بڑی بات کا خاص خیال رکھا ہے اور ہر عمارت کے پیچھے ان کا کچھ نہ کچھ ویژن ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسکولوں کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کیلئے اچھی پہل
گزشتہ دنوں مشہور صحافی رویش کمار نے جوہر یونیورسٹی پر ایک خصوصی پروگرام کیا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ یونیورسٹی کے مختلف حصوں کی تعمیر میں دنیا اور ہندوستان کی بعض معروف سرکاری و تاریخی عمارتوں کے طرزِ تعمیر سے اثر لیا گیا ہے۔ بعض عمارتوں میں امریکی وائٹ ہاؤس اور امریکی کیپیٹل (کانگریس) کی جھلک دکھائی دیتی ہے جبکہ بعض حصے نئی دہلی کے راشٹرپتی بھون، نارتھ بلاک، ساؤتھ بلاک اور پارلیمنٹ کی عمارت کی یاد دلاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ خواہ ان مشابہتوں پر کوئی بھی رائے رکھی جائے، لیکن ان کا مقصد محض نقل کرنا نہیں تھا بلکہ ایک علامتی پیغام دینا تھا۔ بین الاقوامی اہمیت کے حامل ان عمارتوں کی طرز پر یونیورسٹی میں عمارتیں تعمیر کرکے اعظم خان دراصل طلبہ کو یہ پیغام د ینا چاہتے تھے کہ وہ بھی بڑے خواب دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا کی عظیم عمارتیں صرف واشنگٹن، لندن یا دہلی کے پاش علاقوں تک محدود نہیں ہیں۔ ان عمارتوں کے ذریعہ وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ اگر ارادہ ہو تو ایک نسبتاً پسماندہ ضلع میں بھی ایسا تعلیمی ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے جو طلبہ میں خود اعتمادی اور وسعتِ نظر پیدا کرے۔ ۲۰۲۲ء میں لوک سبھا کیلئے منتخب ہونے کے بعد پارلیمنٹ میں ایک خطاب کے دوران اعظم خان نے یونیورسٹی اور اس کے مقاصد کے بارے میں جانکاری فراہم کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ میرے جیسا ایک فرد ایک یونیورسٹی تعمیر کرتا ہےجس میں کچھ عمارتیں ایسی بنی ہیں جنہیں دیکھیں تو آپ کو شاید راشٹرپتی بھون بھی اچھا نہ لگے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس کے پس پشت میرا تصور یہ رہا ہے کہ وہاں پڑھنے والے طلبہ، جہاں وزیراعظم بیٹھے ہیں، اس عہدے کے جیسا بنے۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ یہ تعلیمی ادارہ ایشیا کی خوبصورت یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ عوامی نمائندوں کے سامنے انہوں نے یہ بات بھی کہی تھی کہ اس یونیورسٹی کیلئے میں نے ہاتھ اور دامن دونوں پھیلایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اسے تکنیکی طور پر بھلے ہی پرائیویٹ یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہے لیکن یہاں پر ہر ضرورت مند طلبہ کی بھرپور مدد کی جاتی ہے اور ان کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی انہوں نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ اس کے باوجود اس آزاد ملک میں میرے جیسے فرد کے ساتھ جو برتاؤ کیا جارہا ہے، اس نے آزادی کی سانسوں کو بہت محدود کردیا ہے۔
دراصل ہمارے یہاں گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائی سے کچھ اس قسم کی سیاست چل رہی ہے جس میں ہر مسئلے کو ہندو مسلمان کی عینک سے دیکھنے اور عوام کو دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں پر خوشبوؤں کو قید، ہواؤں پر پہرہ اور آوازوں کوباندھنے کی کوشش کی جاتی ہے.... لیکن وہ نہیں جانتے کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ یوگی حکومت اقتدار کے زعم میں بھلے ہی جوہر یونیورسٹی کی ۳۸؍ شاہکار عمارتوں کو گرادے لیکن یہ بات تاریخ میں درج ہوکر رہے گی کہ ایک شخص نے یونیورسٹی تعمیر کی تھی اور ایک نے اسے گرایا تھا۔ جوہر یونیورسٹی سے اعظم خان کا تعلق بس اتنا ہی ہے کہ وہ ان کےخوابوں کی تعبیر ہے اور اس کیلئے انہوں نے انتھک محنت کی ہے لیکن اس سے استفادہ کرنے والوں میں رام پور ا ور اطراف کے وہ لوگ ہیں جو وہاں سے باہر نکل کراعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور اس میں ہندومسلمان دونوں ہیں۔ آج اگر اس یونیورسٹی پر تالا لگا دیا گیا تو اعظم خان کا کم، اس کے علاقے کی آبادی کا زیادہ نقصان ہوگا جن کے بچے وہاں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یہ بات انہیں کون سمجھائے جن کی سیاست کا محور و مرکز فرقہ پرستی ہی ہے کہ کوئی بھی تعلیمی کیمپس صرف اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کا نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ہزاروں طلبہ کی امیدیں، اساتذہ کی محنت، ملازمین کا روزگار اور پورے علاقے کی تعلیمی ترقی وابستہ ہوتی ہے۔ اگر ایسی جگہوں کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کا اثر صرف ایک عمارت تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے سماج کو پہنچتا ہے۔
ایک موقع پر اعظم خان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے یہاں زیرتعلیم طلبہ کیلئے پلیسمنٹ کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جوہر یونیورسٹی کے فارغین ملک اور بیرون ملک اہم عہدوں پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسی موقع پر انہوں نے انجینئرنگ کالج کے انفراسٹرکچر کی بات کرتے ہوئے کہا تھاکہ ہم نے اسے ملک کے موقر تعلیمی اداروں اور آئی آئی ٹیز کے مماثل بنانے کی کوشش کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جوہر یونیورسٹی میں قائم ممتاز لائبریری جس کی عمارت امریکی کانگریس اور وہائٹ ہاؤس کی طرز پر ہوئی ہے، اس میں ۳۵؍ ہزار سے زائدکتب، دستاویزات اور جلدیں موجود ہیں۔ اسی طرح نایاب مشرقی کتب اور خطوط (مانو اسکرپٹس) کی تعداد تقریباً پانچ تا چھ ہزار ہے جہاں مطالعہ کیلئےتین بڑے ریڈنگ ہال بنائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی طلبہ کی سہولت کیلئے DELNET(یعنی ڈیولپنگ لائبریری نیٹ ورک جو ملک کا ایک بڑا اور مشہور تعلیمی لائبریری نیٹ ورک ہے جو نئی دہلی کے جے این یو کیمپس میں واقع ہے۔ اس کا آغاز۱۹۸۸ء میں ہوا تھا)کے ذریعے ای-بکس اور ای-جرنلز کی سہولت بھی میسر ہے۔ طلبہ کو مسابقتی امتحانات اور ریسرچ کی تیاری اس لائبریری کے ذریعہ کتابوں پر آج بھی ہر ماہ ایک خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے۔
ان ساری عمارتوں پر اور ان سارے تصورات پر بلڈوزر چلانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ قومی سطح پر اس کی مخالفت بھی شاید اس طرح سے نہ ہو، جس طرح سے ہونی چاہئے کیونکہ بات تعلیمی ادارے کی نہیں، اعظم خان کی ہے جنہیں مسلم چہرہ بناکر مخالفت کی ہوا تیار کی جارہی ہے۔ ورنہ عمارت کی تعمیر میں اگر کوئی قانونی یا تکنیکی مسئلہ ہے بھی تو ان کا حل قانون کے مطابق نکالا جانا چاہئے۔ گزشتہ دنوں سماجوادی پارٹی کے ایک وفد نےاس تعلق سے احتجاج کرتے ہوئے اسے سیاسی رقابت کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ اسی طرح رام پور کے وکلاء نے بھی اس تعلق سے احتجاج کیا ہے۔ بار اسوسی ایشن کے سابق صدر ستنام سنگھ اور۱۰۰؍ سے زیادہ وکلاء گزشتہ دنوں کلکٹریٹ پہنچے اور سٹی مجسٹریٹ کے ذریعے گورنر کو میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں جوہر یونیورسٹی کے خلاف کی جا نےوالی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پرستنام سنگھ نے کہا کہ جس اسکول میں رام پور کے ڈی ایم اجے کمار دویدی کے بچے پڑھتے ہیں، اس کا نقشہ بھی منظور نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی بیشتر بڑی یونیورسٹیوں میں جن میں الہ آباد یونیورسٹی، لکھنؤ یونیورسٹی اور بنارس ہندو یونیورسٹی شامل ہیں کانقشہ پاس نہیں ہے... اور صرف اتنا ہی نہیں ڈی ایم کی رہائش گاہ سمیت کئی اداروں کے نقشے کی بھی منظوری نہیں ہے۔ اس سے بات سمجھ میں آتی ہے کہ بات ضابطے کی نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ ایک بار اعظم خان نے ملک کے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ جوہر یونیورسٹی کے تعلق سے سنی سنائی باتوں پر یقین مت کیجئے۔ ایک بار یہاں آئیے اور خود دیکھئے کہ یونیورسٹی کیسی ہے اور یہاں کا معیار کیا ہے؟آخر میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ ادارہ آپ کا ہے، اگر آپ ہی اسے نہیں سنبھالیں گے تو شاید اینٹ اور گارے کی اس کی بنیادیں اسے سنبھالنے میں ناکام رہیں گی۔