Inquilab Logo Happiest Places to Work

گرمیوں کی دوپہر، تالاب، بھینسیں، بچوں کا شور اور ہنسی آج بھی ذہن میں تازہ ہیں

Updated: June 07, 2026, 6:14 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

گرمی میں ہونے والی فصلوں کو زائد کی فصل کہتے ہیں جو ربیع اور خریف کے درمیان پیداہوتی ہے۔ زائد کی فصل مختلف علاقوں میں الگ الگ ہوتی ہے۔

As a child, I was afraid of being beaten if I went home in soaked clothes after taking a long bath in the pond. Photo: INN
بچپن میں  تالاب میں دیر تک نہانے کے بعد بھیگے ہوئے کپڑوں میں گھر جانے پر مار کھانے کا ڈرہوتا تھا۔ تصویر: آئی این این

گرمی شباب پر ہے۔ لُو کے تھپیڑے چل رہے ہیں۔ اس درمیان کبھی کبھی آندھی اور بارش سے تھوڑی راحت ضروری مل جارہی ہے۔ گائوں میں دن گرم ہے لیکن راتیں قدرے ٹھنڈی ہیں۔ رات میں نیم کے درخت کے نیچے ٹھنڈی ہوا میں بڑی سکون کی نیند آتی ہے۔ دھیرے دھیرے یہاں بھی گرمی سے مقابلے کیلئے گھروں میں ایئر کنڈیشن لگنے لگے ہیں۔ کولر تو پہلے سے ہی تھا لیکن اب اے سی کی تعداد رفتہ رفتہ بڑھ رہی ہے۔ گائوں میں آج بھی گرمی سے راحت پانے کیلئے گھنے درختوں کا سایہ، ٹھنڈے گھڑے کا پانی اور تالابوں کاسہارا لیا جارہا ہے۔ حالانکہ اب مٹی کے گھڑے کم نظر آتے ہیں، فریج کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ 
گرمی میں ہونے والی فصلوں کو زائد کی فصل کہتے ہیں جو ربیع اور خریف کے درمیان پیداہوتی ہے۔ زائد کی فصل مختلف علاقوں میں الگ الگ ہوتی ہے۔ کہیں اُڑد، مونگ اور چارے کی فصلیں اُگائی جاتی ہیں تو کچھ علاقوں خاص طور سے گنگا کے کچھار میں تربوز، خربوز اور ککڑی اورکھیرےکی فصلیں تیار ہوتی ہیں۔ یہ فصل بہت کم وقت یعنی دو سے تین مہینے میں ہی تیار ہو جاتی ہے۔ اِس فصل سے ربیع اور خریف کے درمیان خالی پڑے کھیتوں کا استعمال ہوجاتا ہے جو کسانوں کی اضافی آمدنی کا ذریعہ بنتا ہے ۔ اسی لئے اسےزائد کی فصل کہتے ہیں۔ سخت گرمی میں اِس فصل کو اُگانا بڑی محنت کا کام ہوتا ہے۔ گرمیوں کی دوپہر میں جب زمین تپنے لگتی ہے تو کسان اپنے کام سمیٹ کر کسی برگد، پیپل یا نیم کے درخت کے نیچے سستانے بیٹھ جاتے ہیں۔ بارش سے پہلے پڑنے والی یہ گرمی ایسی ہوتی ہے کہ جسم کا پسینہ خشک ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ بچے آم کے باغوں کی طرف بھاگتے ہیں۔ کوئی پنکھا جھلتا ہے۔ کوئی نہر اور تالاب کا رخ کرتا ہے۔ شام کوجب گرمی کا اثر کچھ کم ہوتا ہے تو گائوں کی گلیوں میں چہل پہل بڑھ جاتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بقرعید کا تہوار گاؤں میں بکریاں پالنے والوں کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں

سخت گرمی میں مویشی بھی بے چین ہو جاتے ہیں۔ بھینسوں پر اس کا اثر کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ بھینس کو ویسے بھی پانی سے خاص لگاؤ ہوتا ہے۔ دوپہر کو جب سورج سر پر آتا ہےتو وہ بھی بے چین ہو کر پانی کی طرف بھاگنے لگتی ہیں۔ ایسے میں گاؤں کے چرواہے اور بچے بھینسوں کو ہانکتے ہوئے تالاب، ندی یا نہر کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ منظر بڑا دلچسپ ہوتا ہے۔ بھینسیں پانی دیکھتے ہی اپنی رفتار تیز کر دیتی ہیں۔ بعض تو ایسی جلدی میں ہوتی ہیں کہ چرواہے کی آواز بھی نہیں سنتیں اور سیدھی پانی تک پہنچ جاتی ہیں۔ پھر آدھا جسم بلکہ کبھی کبھی صرف ناک اور سینگ ہی پانی سے باہر نظر آتی ہے تو یوں لگتا جیسے تالاب میں سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے ٹیلے اُبھر آئے ہوں۔ گرمی کی چھٹیوں میں بھینسوں کے ساتھ بچے بھی تالاب یا ندی تک پہنچ جاتے... گھر والوں کو بتائے بغیر چپکے سےنکل پڑتے ہیں تو کوئی کسی اور بہانے سے وہاں تک پہنچتا ہے۔ پھر پانی میں شروع ہونے والی دھما چوکڑی دیر تک جاری رہتی ہے۔ کوئی بھینسوں کی پیٹھ پر سوار ہو جاتا ہے، کوئی پانی میں چھلانگیں لگاتا اور ایک دوسرے پر چھینٹے اُڑاتا ہے۔ کئی بار کوئی شرارتی لڑکا بھینس کی دم پکڑ کر تیرنے کی کوشش کرتا ہے تو ساتھی قہقہے لگاتے ہیں۔ بعض بھینسیں اتنی سیدھی ہوتی ہیں کہ بچوں کو اپنی پیٹھ پر بٹھائے آرام سے پانی میں کھڑی رہتی ہیں، بچہ پانی میں نہ گر جائے شاید اس لئے کوئی حرکت نہیں کرتیں۔ بچپن میں  ان تالابوں میں دیر تک نہانے کے بعد بھیگے ہوئے کپڑوں میں گھر جانے پر مار کھانے کا ڈربھی ہوتا تھا۔ چنانچہ کپڑے سوکھ جانے کے بعد ہی گھر جاتے تھے۔ دوپہر میں جب گرمی بڑھ جاتی تھی تو گائوں کے یہ بچے ایسی ہی جگہ کی تلاش میں نکل پڑتے تھے۔ کبھی وہ تالاب پر پہنچتے، کبھی نہر میں نہاتے اور کبھی ندی میں تیرتے۔ اب تو گائوں میں بجلی ہے، بچوں کے ہاتھوں میں موبائل ہے وہ گھر کے کسی کونے کھدرے میں دُپکے رہتے ہیں۔ وہ اِس طرح کی سیر و تفریح سے بہت دور ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: جس مٹی میں کھیل کود کر بچے، بڑے ہوتے ہیں، وہ اُسے کیسے بھول سکتے ہیں؟

ایک وقت تھا جب تالاب صرف بھینسوں ہی کا نہیں بلکہ پورے گاؤں کا مرکز بن جاتا تھا۔ کوئی کپڑے دھو رہا ہوتا، کوئی مویشیوں کو پانی پلاتا اور بچے کھیل کود میں مصروف ہوتے۔ یوں گرمی میں اِدھر اُدھر بھٹکنےوالے ایک ہی جگہ پر جمع ہو جاتے اور پھر گپ شپ کا دور شروع ہوجاتا جو شام ڈھلنے تک جاری رہتا۔ نہانے کے بعد بھینسیں تر و تازہ ہو جاتیں اور ان کے دودھ کی مقداربھی بڑھ جاتی تھی۔ اب گائوں کے زیادہ تر گھروں میں سبمر سیبل لگ گیا ہے۔ چنانچہ نوجوان اب تالابوں کی طرف جانا کم پسند کرتے ہیں۔ وہ شام کو سبمر سیبل چلا کر پائپ سےہی بھینسوں کو نہلا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ گائوں میں اب پہلے کی طرح تالاب بھی نہیں رہے۔ منریگا مزدوروں سے گائوں میں خالی پڑی سرکاری زمینوں پر بڑی تعداد میں تالاب تو کھدوائے گئے لیکن زیادہ تر خشک پڑے ہیں۔ گرمی کے دنوں میں وہاں دھول اُڑتی ہے۔ گائوں سے گزرنے والی نہریں سکڑ گئی ہیں اور مویشیوں کے نہلانے کے پرانے منظربھی اب کم ہی دکھائی دیتے ہیں، لیکن جن لوگوں نے وہ دن دیکھے ہیں ان کے دل میں اب بھی گرمیوں کی دوپہر، پانی میں بیٹھی بھینسیں، شور مچاتے بچے اور تالاب کے کنارے گونجتی ہنسی کی آوازیں تازہ ہیں۔ یہ یادیں گاؤں کی مٹی کی خوشبو کی طرح ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK