نئی نسل اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے گائوں چھوڑ رہی ہے یا جو نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرچکے ہیں وہ گائوں سے رخصت ہو رہے ہیں۔ چونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس کھیت کھلیہان سے انہیں وہ حاصل نہیں ہو سکتا جس کی اُنہیں آرزوہے۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 6:22 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai
نئی نسل اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے گائوں چھوڑ رہی ہے یا جو نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرچکے ہیں وہ گائوں سے رخصت ہو رہے ہیں۔ چونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس کھیت کھلیہان سے انہیں وہ حاصل نہیں ہو سکتا جس کی اُنہیں آرزوہے۔
گائوں کی وہ بکھری(بڑا مکان، حویلی نما) جہاں کبھی قہقہے گونجتے تھے۔ محفلیں سجتی تھیں۔ حقے کی چلم چڑھائی جاتی تھی۔ شام کو دیر تک بیٹھک ہوا کرتی تھی۔ کھیتوں میں دیرتک محنت بھرے کام سے فارغ ہوکر جب کسان اُس نشست میں بیٹھتے تھے تو ان کی تھکن مٹ جاتی تھی اور کسان اپنے گھر پر چین کی نیند سوتے تھے۔ اب وہ گائوں کی کچی عمارتیں ویران پڑی ہیں۔ بوسیدہ ہو کر جگہ جگہ سے ٹوٹ رہی ہیں۔ اُن کے چوکھٹ کمزور ہو کر جھک گئے ہیں ، جیسے کوئی ضعیف بڑھتی عمر کے ساتھ جھک جاتا ہے اور چھڑی کے سہارے چلتا ہے۔ اُن میں لگے تالوں میں زنگ لگ چکاہے۔ دروازے کی زنجیر پکڑ کر نہ کوئی دستک دینے والا ہے اور نہ صدائیں بلند کرنے والا۔ مٹی کےیہ پرانے گھر گویا اب مٹی میں مل رہے ہیں۔
نئی نسل اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے گائوں چھوڑ رہی ہے یا جو نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرچکے ہیں وہ گائوں سے رخصت ہو رہے ہیں۔ چونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس کھیت کھلیہان سے انہیں وہ حاصل نہیں ہو سکتا جس کی اُنہیں آرزوہے۔ کھیت کھلیہان کی کمائی سے بیل گاڑی تو بنائی جاسکتی ہے لیکن لمبی کاریں نہیں خریدی جا سکتیں، کیونکہ اب پہلے کی طرح ایکڑ میں کسی کے پاس زمین نہیں ہے، آپسی بٹوارے میں بٹتےبٹتے زمین ایکڑ سے بیگھے اور بِسوے تک محدود ہو گئی ہے۔ اس میں گزر بسر اب مشکل ہو گیا ہے۔ ایک وہ دور تھا جب کسان اناج بیچ کردلہن لاتا تھا۔ انہیں کھیتوں کی کمائی سے لڑکیوں کے ہاتھ پیلے ہوتے تھے۔ اب حالات بدل گئے ہیں ۔ اب تو بعض کھیتوں کے مالک بھی اناج خرید کر کھاتے ہیں۔ اُنہیں کھیتی کسانی میں دلچسپی نہیں، وہ اِس کام کو فضول سمجھتے ہیں۔
گائوں سے تعلق رکھنے والا ایک طبقہ وہ بھی ہے جو شہر جانے اور وہاں بسنے کے بعد بھی یہاں کی مٹی سے اپنا رشتہ قائم رکھتا ہے۔ اُن کی گرمیوں کی چھٹیاں یہیں گزرتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہمار جسم بھلے ہی شہروں میں ہو لیکن روح گائوں میں ہی بستی ہے۔ واقعی جس مٹی میں کھیل کر وہ بڑے ہوئے ہوں ِ، اُسے وہ کیسے بھول سکتے ہیں۔ جہاں کی دھوپ میں ماں کی آنچل کا سایہ نصیب ہوا، وہ منظر ذہن سے کیسے نکل سکتا ہے۔ واقعی اُس مٹی میں ایسی سوندھی خوشبو تھی کہ لوگوں کو گائوں چھوڑنے نہیں دیتی تھی۔ پہلے بھی لوگوں کے پاس شہروں میں بڑے بڑے مواقع تھے لیکن وہ اپنی چوکھٹ نہیں چھوڑنا چاہتے تھے، اُن کو یہاں کی روکھی سوکھی شہر کے حلوے سےبہتر معلوم ہوتی تھی۔ وہ اپنی مٹی سے ہر حال میں جڑے رہنا چاہتے تھے۔ تمام تکالیف برداشت تھیں لیکن اپنی مٹی سے جدائی انہیں منطور نہیں تھی۔ اُس روز اپنے گائوں کو یاد کرتے ہوئے ایک صاحب کہنے لگے... واقعی انسان دنیا کا سفر کرلے لیکن اُس کے دل کے ایک گوشے میں گائوں بستا ہے۔ جہاں اسے پیپل کے نیچے بیٹھ کر گزارے اپنے بچپن کے دن یاد آتے ہیں۔ وہ نیم کی چھائوں میں بیٹھ کر کنویں کا ٹھنڈا ٹھنڈا پانی پینا کبھی نہیں بھول پاتا۔
گائوں کے بزرگوں کے پاس بیٹھ کر سنی جانے والی وہ دلچسپ کہانیاں ...جس میں ایسی منظر کشی ہوتی تھی کہ سارے مناظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے تھے۔ آج کے موبائل اور ٹیلی ویژن میں دیکھنے کا وہ مزہ نہیں جو لطف ان کہانی قصوں میں تھا۔ ’گنوار‘ اور ’اَن پڑھ‘ کہے جانے والے لوگ بڑے تجربے کی باتیں کیا کرتے تھے۔ وہ اسکول تو نہیں گئے تھے، ریاضی کی کوئی کتاب بھی نہیں پڑھی تھی لیکن وہ انگلیوں پر حساب جوڑ کر بتا دیتے تھے کہ ایک گھنٹہ کھیت کی جوتائی پر ٹریکٹر والےکا کتنا روپیہ ہوا۔ بعض تو ایسے تھے کہ فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو کون سا دن پڑے گا... چند لمحوں میں جوڑ گھٹا کرکے بتا دیتے تھے۔ وہ لکھنا نہیں جانتے تھے لیکن جو ایک بار سُن لیتے تھے اُن کے ذہن میں محفوظ رہتا تھا۔ اُس وقت بہت سارے وعدے معاہدے آپس میں گواہ بنا کر کئے جاتے تھے، پھر کبھی جب کوئی وعدہ خلافی ہوتی کوئی معاہدہ ٹوٹتا توگواہ بلائے جاتے ...وہ وعدہ یاد دلاتے ...اُن کی یاد داشت ایسی تھی کہ وہ بتاتے... فلاں سن اور فلاں تاریخ اور مہینہ کو فلاں پیڑ کے نیچے اتنے بجے مذکورہ باتیں طے ہوئی تھیں۔ ایسے لوگوں کو جب محسوس ہوتا کہ اب میرا آخری وقت ہے تو... اپنے بچوں کو ایک ایک بات بتاتے اور اگر کسی کی امانت اُن کے پاس رکھی ہوتی تو... کہتے بیٹا یہ فلاں چیز فلاں گائوں کے اُن صاحب کی ہے، اِسے اُن تک پہنچا دینا... شاید اب میری زندگی مجھے مزید مہلت نہ دے۔ یہ سب روایات اور پرانی قدریں اُن بزرگوں کے ساتھ دفن ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھئے : یہ خیال رہے کہ ہمیں درسگاہوں کو فرقہ پرستوں کی تجربہ گاہ بننے نہیں دینا ہے
پہلے گائوں کے لوگوں کے پاس بینک اکائونٹ نہیں تھا وہ اپنے نقدی اور زیورات لوگوں کے پاس بطور امانت رکھا کرتے تھےکیونکہ اُن کو اپنے گھر رکھنے سے چوری ڈکیتی کا خطرہ تھا۔ پرانے وقت کے لوگ ایسے امانتدار تھے کہ وہ لوگوں کو وہی نوٹیں اور سکے واپس کرتے تھے جو اُن کوبطور امانت دیئے جاتے تھے۔ وہ اُس پیسے کو خرچ کرنا نا مناسب سمجھتے تھے..... چاہتے تو وہ خرچ کرکے اُن کو دوسرے نوٹ اور سکے واپس کر دیتے لیکن اُن کے اندر خوف خدا کچھ ایسا ہوتا تھا کہ وہ اِسے امانت میں خیانت تصور کرتے تھے۔ اب گائوں کی پرانی روایات بدل گئی ہیں۔ لوگوں کے پاس بینک بیلنس ہے اوررہنے کیلئےپکی عمارتیں ...اور سب اپنے اپنے میں مست ہیں۔