صبح کے دس بجے ہیں۔ شہر کی ایک مرکزی سڑک پر چند سو افراد جمع ہونا شروع ہوتے ہیں۔ دوپہر تک ہجوم ہزاروں میں بدل جاتا ہے۔ پلے کارڈ بلند ہیں، نعرے گونج رہے ہیں اور موبائل فون لائیو نشریات کر رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 02, 2026, 6:34 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
صبح کے دس بجے ہیں۔ شہر کی ایک مرکزی سڑک پر چند سو افراد جمع ہونا شروع ہوتے ہیں۔ دوپہر تک ہجوم ہزاروں میں بدل جاتا ہے۔ پلے کارڈ بلند ہیں، نعرے گونج رہے ہیں اور موبائل فون لائیو نشریات کر رہے ہیں۔
صبح کے دس بجے ہیں۔ شہر کی ایک مرکزی سڑک پر چند سو افراد جمع ہونا شروع ہوتے ہیں۔ دوپہر تک ہجوم ہزاروں میں بدل جاتا ہے۔ پلے کارڈ بلند ہیں، نعرے گونج رہے ہیں اور موبائل فون لائیو نشریات کر رہے ہیں۔ کچھ دیر میں پولیس کی اضافی نفری پہنچ جاتی ہے، بیریکیڈ نصب ہو جاتے ہیں، ٹریفک کا رخ موڑ دیا جاتا ہے، ایمبولینس تیار کھڑی ہیں اور میڈیا کی او بی وینیں ایک کے بعد ایک آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگلے دن منظر مزید بدل جاتا ہے۔ پانی کے ٹینکر آتے ہیں، کھانے کے اسٹال لگتے ہیں، عارضی بیت الخلا نصب ہوتے ہیں، موبائل چارجنگ پوائنٹس بنتے ہیں، خیمے کھڑے کئے جاتے ہیں، رضاکار ڈیوٹیاں سنبھالتے ہیں، طبی امداد کے مراکز قائم ہوتے ہیں اور چندہ جمع کرنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ اب یہ یہ جگہ محض احتجاج گاہ نہیں رہی، یہاں عارضی شہر بن چکا ہے۔ اور ہر عارضی شہر کی طرح اسے بھی خوراک، پانی، بجلی، صفائی، ٹرانسپورٹ، مواصلات، سیکوریٹی اور سب سے بڑھ کر پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں احتجاج سیاست سے نکل کر معاشیات کے دائرے میں داخل ہوتا ہے۔ عام طور پر احتجاج کا جائزہ سیاسی نعروں، عوامی حمایت یا حکومتی ردِعمل کی بنیاد پر لیاجاتا ہے، لیکن علمِ معاشیات مختلف سوال پوچھتا ہے۔
اس پورے منظرنامے کا بل کون ادا کرتا ہے؟
اس کا جواب حیرت انگیز حد تک پیچیدہ ہے کیونکہ کسی بھی بڑے احتجاج کی قیمت صرف حکومت نہیں چکاتی، صرف مظاہرین نہیں اٹھاتے اور نہ ہی صرف کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔ اس کی مالی گونج ٹیکس دہندگان، مزدوروں، سرمایہ کاروں، دکانداروں، ٹرانسپورٹ اور انشورنس کمپنیوں اور عام شہریوں تک پہنچتی ہے۔ دراصل ہر احتجاج کی بیلنس شیٹ ہوتی ہے۔ ایک طرف اخراجات ہوتے ہیں، دوسری طرف ممکنہ فوائد۔ کسی بھی طویل احتجاج کیلئے روزانہ ہزاروں افراد کی خوراک، پینے کا پانی، خیمے، کمبل، صفائی، طبی امداد، رضاکار، قانونی معاونت، ساؤنڈ سسٹم، ٹرانسپورٹ، سوشل میڈیا ٹیمیں، پرنٹنگ، رابطہ کاری اور مالی نظم و نسق درکار ہوتا ہے۔ یہ سب مفت نہیں ہوتا۔ ہر پانی کی بوتل، ہر چائے کا کپ، ہر بینر، ہر پلے کارڈ، ہر لاؤڈ اسپیکر، ہر بس کا کرایہ کوئی نہ کوئی ادا کرتا ہے اور ہر خیمے کے پیچھے کسی نہ کسی کا سرمایہ لگتا ہے۔ ماہرین معاشیات طویل احتجاج کو سیاسی سرگرمی نہیں ایک Temporary Economic Ecosystem یعنی عارضی معاشی نظام کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ احتجاج صرف وسائل خرچ نہیں کرتا بلکہ نئی معاشی سرگرمیاں بھی پیدا کرتا ہے۔ جیسے ہی کسی مقام پر ہزاروں افراد کئی دن کیلئے موجود ہوں، اشیاء و خدمات کی مانگ بڑھنے لگتی ہے۔ چائے فروش کی فروخت بڑھ جاتی ہے۔ کھانے کے اسٹال مسلسل مصروف رہتے ہیں۔ پانی سپلائر کے آرڈر بڑھ جاتے ہیں۔ پرنٹنگ پریس بینر اور پمفلٹ چھاپتے ہیں۔ ٹینٹ ہاؤس خیمے فراہم کرتے ہیں۔ ساؤنڈ سسٹم کرائے پر دیئے جاتے ہیں۔ مقامی ٹرانسپورٹ زیادہ مصروف ہو جاتا ہے۔ موبائل فون چارج کرنے کی عارضی سہولتیں قائم ہو جاتی ہیں۔ بعض علاقوں میں قریبی ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسیز تک کی بکنگ بڑھ سکتی ہے۔ گویا احتجاج ایک طرف کچھ کاروباروں کیلئے رکاوٹ بنتا ہے تو دوسری طرف بعض شعبوں کیلئے عارضی معاشی مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: Namenomics: کیا ایک نام اربوں ڈالر کا ہوسکتا ہے؟ یہ ہے’’برانڈ نیم‘‘ کی دُنیا!
ہر بڑے احتجاج کا سب سے دلچسپ معاشی سوال ہے کہ پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ بہت سی تحریکیں عوامی چندے پر چلتی ہیں۔ کہیں مقامی برادریاں کھانا پانی فراہم کرتی ہیں۔ بعض جگہ سماجی تنظیمیں طبی سہولیات یا قانونی معاونت مہیا کرتی ہیں۔ جدید دور میں آن لائن کراؤڈ فنڈنگ، ڈجیٹل ادائیگیوں اور چھوٹے چھوٹے عوامی عطیات نے بھی احتجاجی تحریکوں کی مالی ساخت کو بدل دیا ہے۔ کچھ تحریکوں کو سیاسی جماعتوں، مزدور یونینوں یا دیگر اداروں کی مدد بھی حاصل ہوتی ہے۔ یعنی ہر احتجاج کے ساتھ ایک مالیاتی انتظام بھی ہوتا ہے، خواہ وہ رسمی ہو یا غیر رسمی۔
احتجاج کی سب سے قیمتی کرنسی پیسہ ہی نہیں وقت بھی ہے۔ احتجاج میں شریک ہر فرد اپنا وقت، اپنی آمدنی، اپنی توانائی اور بعض اوقات اپنے مستقبل کی کمائی پر بھی سرمایہ لگاتا ہے۔ جب ہزاروں افراد اپنی جیب، اپنا وقت اور اپنی روزی داؤ پر لگا رہے ہوں تو اگلا سوال پیدا ہوتا ہے کہ احتجاج کا بوجھ کون اٹھاتا ہے؟ اگر احتجاج ایک عارضی شہر ہے تو حکومت وہ انتظامیہ ہے جسے ہر صورت امن و امان برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ احتجاج کا اعلان ہوتے ہی حکومت کے اخراجات کا نیا باب کھل جاتا ہے۔ ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کئے جاتے ہیں، اضافی شفٹیں لگتی ہیں، بیریکیڈ نصب ہوتے ہیں، ٹریفک کے متبادل راستے بنائے جاتے ہیں، واٹر کینن، آنسو گیس، حفاظتی سازوسامان، ایمبولینس، فائر بریگیڈ، کنٹرول روم، ڈرون اور نگرانی کے دیگر نظام فعال کئے جاتے ہیں۔ اگر احتجاج کئی دن جاری رہے تو اخراجات مسلسل بڑھتے رہتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ حکومت کو پیسہ کون دیتا ہے؟ حکومت کے بیشتر انتظامی اخراجات کی طرح اس کا بڑا حصہ بھی بالآخر عوام کے ادا کئے گئے ٹیکس سے پورا ہوتا ہے۔ یعنی ہر اضافی پولیس ڈیوٹی، ہر بیریکیڈ، ہر واٹر کینن، ہر آنسو گیس کا شیل، ہر عارضی کنٹرول روم اور سرکاری املاک کی ہر مرمت کا مالی بوجھ بالآخر کسی نہ کسی شکل میں عوامی خزانے پر آتا ہے۔
معیشت میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ احتجاج کے درمیان کون سے کام نہیں ہوسکے۔ سپلائی چین کی اگر ایک کڑی بھی متاثر ہو تو اس کے دیرپا اثرات پڑتے ہیں۔ یہ نقصان بھی بیلنس شیٹ پر تحریر کیا جاتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ احتجاج خرچ ہے یا سرمایہ کاری؟ اگر احتجاج کا نتیجہ برآمد نہ ہو تو یہ صرف نقصان ہے۔ لیکن اگر اس کے نتیجے میں بہتر قوانین، زیادہ شفاف حکمرانی، مزدوروں کے بہتر حقوق، منصفانہ پالیسیاں یا ایسی اصلاحات ہوں جو برسوں تک معیشت اور معاشرے کو فائدہ پہنچائیں، تو ابتدائی لاگت کو ایک طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر احتجاج کی بیلنس شیٹ بنے تو اس میں جلی حرفوں میں ان سوالوں کے جواب ہونے چاہئیں : سرمایہ کس نے لگایا؟ قیمت کس نے ادا کی؟ منافع کسے ہوا؟ مستقبل میں اس کا کیا فائدہ ملے گا؟