مدنپورہ کے ۸۲؍سالہ عبدالوہاب انصاری نے ۱۲؍سال کی عمر میں اسپرے پینٹنگ کا کام سیکھا۔ تقریباً ۱۰؍سال تک گاڑیوں کی پینٹنگ کا کام کرنے کےبعد سعودی عرب گئے، دو سال بعد واپس آکر یہاں ٹیکسی ڈرائیونگ شروع کی اور ۵۲؍ سال تک ٹیکسی چلائی ۔
EPAPER
Updated: July 13, 2026, 9:35 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
مدنپورہ کے ۸۲؍سالہ عبدالوہاب انصاری نے ۱۲؍سال کی عمر میں اسپرے پینٹنگ کا کام سیکھا۔ تقریباً ۱۰؍سال تک گاڑیوں کی پینٹنگ کا کام کرنے کےبعد سعودی عرب گئے، دو سال بعد واپس آکر یہاں ٹیکسی ڈرائیونگ شروع کی اور ۵۲؍ سال تک ٹیکسی چلائی ۔
مدنپورہ کے ۸۲؍ سالہ عبدالوہاب عبدالواحد انصاری کی پیدائش یکم جنوری۱۹۴۴ء کو کرلا کھاڑی( جہاں آج کرلا کورٹ واقع ہے ) کے علاقے میں ہوئی تھی ۔ملک کی آزادی کے دوران کرلا میں پھوٹ پڑنے والے فسادکے دوران والدین کرلا سے مدنپورہ منتقل ہوئے،اُس وقت سے مدنپورہ کےمحمد عمررجب روڈ پر واقع رضیہ بلڈنگ میں مقیم ہیں۔ مدنپورہ آنے کے بعد والدین نے ان کانام محمدعمررجب اسکول میں لکھوایا۔ دلچسپی نہ ہونے سے زیادہ پڑھائی نہیں کی ۔ ۱۲؍سال کی عمر میں اسپرے پینٹنگ کا کام سیکھا۔ تقریباً ۱۰؍سال تک موٹرگاڑیوں کی پینٹنگ کا کام کرنے کےبعد ۲۵؍سال کی عمر میں بحیثیت اسپرے پینٹر سعودی عرب گئے ۔ وہاں ۲؍سال کام کیا ۔بعدازیں ممبئی آکر ڈرائیونگ کی تربیت حاصل کر کے لائسنس نکالا اور تقریباً ۵۲؍سال ٹیکسی چلائی ۔ کووڈ کے دور میں عملی زندگی سے سبکدوش ہوئے۔ان کی ۴؍ بیٹیاں ہیں جن میں سے۳؍ کی شادی ہو چکی ہے۔ بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹی بیٹی نے شادی نہیں کی ۔ وہی بیٹی ایک دفتر میں ملازمت کر کے والدین کی کفالت اور خدمت کررہی ہے۔
عبدالوہاب جس دور میں محمد عمر رجب اسکول میں زیر تعلیم تھے ،اس وقت والدین ایک سلیٹ اور کچھ کتابوں کے ساتھ بچوں کو اسکول بھیج دیتے تھے ۔ بشیر جناب اور نورجہاں آپا سے بچے بہت خوفزدہ رہتے تھے ۔ ان کے ناموں سے بچے ایک دوسرے کو ڈراتے تھے ۔ جس روز اسکول جانے کادل نہیں کرتا ، وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جہاں آج مراٹھا مندر سنیما ہے، اس زمانے میںگھوڑوں کا اصطبل تھا، اس سے متصل ایک نالے میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں تھیں، ان مچھلیوں کو دیکھنے پہنچ جاتے تھے۔ وہاں سے مچھلیاں لاکر انہیں پالنے کا بھی شوق رہا ۔
یہ بھی پڑھئے: غلام مقبول کی منفرد خوبی یہ ہے کہ وہ تنہا مریضوں کے ساتھ اسپتال میں رہتے ہیں
عبدالوہاب ایک مرتبہ باندرہ پالی ہل پر سواری کے منتظر تھے۔ اس دوران ایک شخص نے قریب کےکسی علاقے میں چلنے کیلئے کہا۔ عبدالوہاب کے ہاں کہنےپر اس نے ٹیکسی آگے لے کر چلنے کی درخواست کی ،آگے جانے پر فلم اداکار ، موسیقار اور گلوکار کشور کمار سڑک پر کھڑے دکھائی دیئے ۔ وہ سبز رنگ کا کرتا اورلنگی پہنے ہوئے تھے ۔ انہیں ٹیکسی میں بٹھا کر لے جا رہے تھے کہ اچانک بلی نے راستہ کاٹ دیا ۔ بلی کے راستہ کاٹتے ہی کشور کمار نے عبدالوہاب سے ٹیکسی روکنے کیلئے کہا، لیکن انہوںنے ٹیکسی نہیں روکی ،جس پر کشور کمار نے وضاحب طلب کی ۔ جواب میں عبدالوہاب نے کہاہم لوگ اس طرح کی توہم پرستی پر یقین نہیں رکھتے ۔ جواب میں کشور کمار نے کچھ نہیں کہا۔ خاموش رہے ، منزل پر پہنچ کر انہوں نے عبدالوہاب کو ۲۰؍روپے دیئے اور شکریہ ادا کیا جبکہ کرایہ ۱۰؍روپے بھی نہیں ہوا تھا۔
ایک مرتبہ ناگپاڑہ جنکشن پر ادھیڑ عمرکا ایک مارواڑی شخص ان کی ٹیکسی میں بغیر کچھ کہے بھاگتے ہوئے آکر بیٹھ گیا ۔ اس نے عبدالوہاب کی جانب ایک بیگ بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس میں تقریباً ساڑھے ۳؍لاکھ روپے ہیں جس کی وجہ سے کچھ بدمعاش میرا تعاقب کر رہے ہیں ۔ مجھے میرے گھر جوہو پہنچا دو۔ عبدالوہاب نے اس سے کہا کہ آپ بیٹھو ، میں آپ کو لے کرچلتا ہوں ۔ وہ اس شخص کو جوہو لے جانے کے بجائے سیدھے بوری بندر پر واقع سی آئی ڈی آفس لے گئے ۔وہاں پولیس والوں سے پورا ماجرہ بیان کیا اور پھر وہاںسے ایک پولیس اہلکار کے ساتھ وہ اُسے جوہو لے گئے جہاں پہنچ کر اس کی جان میں جان آئی ۔ اس شخص اور اس کے اہل خانہ نے عبدالوہاب کی ہمت اور دانشمندی سے خوش ہوکر انہیں نقد انعام سے نوازا تھا۔یہ تقریباً ۴۰؍سال پہلے کا واقعہ ہے۔
ٹیکسی ڈرائیونگ کے دوران عبدالوہاب کے ساتھ یوں تومتعدد واقعات پیش آئے ہیں لیکن وہ ایک واقعہ نہیں بھولتے ہیں۔کرافورڈ مارکیٹ سے نیوی نگر جانے کیلئے ۳؍مسافر شام کے وقت ان کی ٹیکسی میں سوار ہوئے تھے۔ اس دور میں ٹیکسی کا کم ازکم کرایہ۸۰؍ پیسے تھا۔ نیوی نگر کے ایک سنسان علاقے میں پہنچنے پر ان سواریوں نے ٹیکسی روکنے کیلئے کہا۔ ٹیکسی سے اُتر کر کرایہ دینے کے بجائے ،ان تینوںنے عبدالوہاب کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جیب میں جتنی رقم ہے ،وہ ہمیں دے دو ورنہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔ ڈر وخوف کے عالم میں عبدالوہاب نے اپنی جیب کی ساری رقم جو تقریباً ۳۵؍روپے تھی، نکال کر انہیں دے دی،اور خاموشی سے وہاں سے نکل آئے ۔ وہ سیدھے اپنے ٹیکسی مالک ابراہیم بھائی کے گھر پہنچے ،جو مدنپورہ کی گانجے والی چال میں رہا کرتے تھے ، ان سے سارا ماجرہ بیان کیا۔ ابراہیم بھائی نے انہیں تسلی دی اور کہا کہ جان بچی تو لاکھوں پائے۔ اس دن کا ٹیکسی کاکرایہ معاف کرنے کے علاوہ انہیں اپنی جیب سے ۵۰؍روپے دے کر کہا کہ جائو گھر جاکر آرام کرو۔ ابراہیم بھائی کے اس ہمدردانہ رویے سے عبدالوہاب بہت متاثر ہوئے تھے۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد پھوٹ پڑنے والے فساد اور خون ریزی کو عبدالوہاب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ فساد کی وجہ سے کرفیو لگا ہوا تھا ۔مورلینڈر وڈ پر واقع بیسٹ بلڈنگ کی ٹیرس (دگڑچال کے سامنے ) پر پولیس بندوق تانے تعینات تھی۔ اسی دوران ایک ۱۰۔۱۲؍ سال کا لڑکا، پولیس کی نگاہ سے بچ کر بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا ، لیکن پولیس نے اسے دیکھتے ہی گولی چلائی ،خوش قسمتی سے نشانہ خطا ہوگیا اور لڑکا بال بال بچ گیا ۔ کچھ دیر بعد ایک دوسرا نوجوان بھی اسی طرح بھاگنے کی کوشش کرتا ہوادکھائی دیا لیکن اس مرتبہ پولیس کی چلائی گولی اپنے ہدف پر جا لگی۔ گولی لگتے ہی نوجوان زمین پر ڈھیر ہوگیا۔ یہ منظر عبدالوہاب نے قریب کی چمپا چال سے دیکھا تھا۔ نوجوان کو تڑپتا دیکھ کر ان کے اوسان خطا ہوگئے تھے ۔ وہ کسی طرح چھپتے چھپاتے گھر پہنچے۔ اس کے بعد انہوں نے گھر سے باہر نکلنا بند کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: فاطمہ بی سودا سلف روز بازار جاتی ہیں، نہ جائیں تو دکاندار خود گھر آ جاتے ہیں
نماز تو ہر مسلمان پر فرض ہے لیکن سعودی عرب میں ا س تعلق سے زیادہ سختی تھی۔ ایک دن وہ گیراج میں کام کر رہے تھے ۔ عصر کا وقت تھا۔ ایک پولیس اہلکار نے آکر عبدالوہاب سے پوچھا کہ تم نماز پڑھنے نہیں گئے۔ جواب میں انہوں نےہاں کہہ دیا۔ اتنا کہنا تھا کہ پولیس نے ایک زوردار طمانچہ رسید کردیا۔ طمانچے کی شدت سے وہ تلملاکر رہ گئے، لیکن اس واقعے کااتنا اثر ہوا کہ وہ نماز کے پابند ہوگئے ۔ یہ خیال دل میں بیٹھ گیا کہ اگر دنیا کی سزا اتنی سخت ہے تو آخرت کی سزا کیسے برداشت ہوگی۔
یہ واقعہ تقریباً ۴۰؍ سے ۴۵؍سال قبل کا ہے۔ عبدالوہاب ایک فیملی، جس میں میاں بیوی اور ایک لڑکی شامل تھی، کو آگری پاڑہ سے بھنڈی بازار چھوڑنے گئے تھے۔ انہیں بھنڈی بازار چھوڑ کر جب وہ یوٹرن مار رہے تھے اسی وقت پیچھے کی نشست سے ایک باکس ان کے پیروں سے آکر ٹکرایا ۔ وہ باکس سونے کے زیورات سے بھرا ہوا تھا ۔ وہ دوبارہ اسی مقام پر گئے اور بلڈنگ کے چپراسی سے معلوم کرکے اس کے گھر پہنچے۔ عبدالوہاب نے مسافر سے پوچھا کہ آپ ٹیکسی میں کچھبھولے تونہیں لیکن اسے کچھ یاد نہیں آرہا تھا ، پھر عبدالوہاب نے وہ باکس انہیں دکھایا ۔ زیورات دیکھ کر وہ حیران ہوگئے، بولےیہ تومیری بیٹی کی شادی کے زیورات ہیں۔ عبدالوہاب نے زیورات ان کے حوالے کئے جس سے وہ لوگ بہت خوش ہوئے اور شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں بطور انعام اُس دور میں ۱۵؍ روپے دیئے ۔