جسٹس مادھو جامدار کے جرأت مندانہ فیصلے کو اس ہفتے متعدد اخبارات نے انصاف اور قانون کی بالادستی کیلئے امید کی نئی کرن قرار دیتے ہوئے اس پر تفصیلی اداریے شائع کیے۔
EPAPER
Updated: July 13, 2026, 9:48 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
جسٹس مادھو جامدار کے جرأت مندانہ فیصلے کو اس ہفتے متعدد اخبارات نے انصاف اور قانون کی بالادستی کیلئے امید کی نئی کرن قرار دیتے ہوئے اس پر تفصیلی اداریے شائع کیے۔
جسٹس مادھو جامدار کے جرأت مندانہ فیصلے کو اس ہفتے متعدد اخبارات نے انصاف اور قانون کی بالادستی کیلئے امید کی نئی کرن قرار دیتے ہوئے اس پر تفصیلی اداریے شائع کیے۔ڈومبیولی کے سرکاری اسپتال میں ڈاکٹروں اور نرسنگ عملے پر ہونے والے تشدد کی بیشتر مراٹھی اخبارات نے سخت مذمت کی اور ایسے واقعات کو معاشرے کیلئے خطرناک رجحان قرار دیا۔ ادھر مشرقِ وسطیٰ میں ایران پر امریکہ کے تازہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال پر گہرے تجزیاتی اداریے سامنے آئے جبکہ منی پور میں طویل عرصے سے جاری تشدد اور بدامنی پر مرکزی حکومت کی خاموشی اور ناکامی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات نے بارش کے واقعات، پیپر لیک اور سیاسی جوڑ توڑ کو موضوع بنایا
یہ حکمرانوں کی وحشیانہ ذہنیت کا ثبوت ہے
لوک مت( مراٹھی، ۹؍جولائی)
’’کسی بھی جمہوریت کی خوبصورتی اس کے سیاسی کلچراور قانون کی بالادستی سے مشروط ہوتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی سرزمین اور ملک کی سب سے ترقی پسند ریاستوں میں شمار ہونے والا مہاراشٹر آج ایک سنگین سیاسی و اخلاقی زوال کے دہانے پر کھڑا ہے۔وہ مہاراشٹر جس کی سیاست نے ملک کو نظریاتی وابستگی اور باوقار پارلیمانی روایات کا درس دیا آج وہاں مفاہمت اور مکالمے کی جگہ گھونسوں اورگولیوں نے لے لی ہے۔اقتدار کے بھوکے اور نظریات سے عاری سیاست دانوں نے عوامی نمائندگی کے مقدس منصب کو غنڈہ گردی کا اکھاڑا بنا دیا ہے۔حالیہ شرمناک واقعہ ڈومبیولی کا ہے جہاں شیو سینا کے کارپوریٹر رمیش مہاترے نے محض اس بات پر کہ ایک ڈاکٹر نے ان کا فون نہیں اٹھایا میونسپل کارپوریشن کے اسپتال میں گھس کر لیڈی ڈاکٹر اور ان کے ساتھیوں کو بے دردی سے پیٹا۔ یہ واقعہ نہ صرف میڈیکل برادری کی حفاظت پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ حکمرانوں کی وحشیانہ ذہنیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آخر ان کارپوریٹروں میں ایک خاتون ڈاکٹر پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت کہاں سے آتی ہے؟ اس کا جواب واضح ہے کہ اقتدار کی مسند پر بیٹھے ہوئے بڑے لیڈر اپنے ان کارندوں کی بے لگام اور مجرمانہ حرکتوں پر آنکھیں موند لیتے ہیں۔علاقے میں دادا گیری کرنا اور خوف کا ماحول پیدا کر کے اپنی مسل پاور دکھانا اب ایک منافع بخش دھندا بن چکا ہے کیونکہ اوپر بیٹھے آقاؤں کو الیکشن جیتنے کیلئے انہی غنڈوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اس پورے نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب ڈاکٹروں نے ہڑتال کی اور میڈیا نے دباؤ بنایا تب کہیں جاکر ۲۲؍ گھنٹے بعد رمیش مہاترے کے خلاف کارروائی شروع ہوئی اور گرفتاری عمل میں آئی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسے مجرموں کو پارٹی سے نکالا جائے گا؟اگر نکالا بھی جائے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ آج کل سیاسی جماعتیں نظریاتی ادارے نہیں بلکہ تجارتی دکانیں بن چکی ہیں۔ ایک پارٹی اگر کسی مجرم کارپوریٹر یا ایم ایل اے کو باہر کا راستہ دکھاتی ہے تو دوسری پارٹی فوراً گلے لگاکر اسے سناتن دھرم یا سیاست کا دھلا ہوا’پوتر‘لیڈر بنا دیتی ہے۔‘‘
ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہو چکی ہے
سامنا( مراٹھی، ۶؍ جولائی)
’’برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اقتدار کے ایوانوں پر آمریت کا سایا گہرا ہوا تب عدلیہ کے کسی نہ کسی گوشے سے حق کی آواز ضرور بلند ہوئی۔بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس مادھو جامدار کا حالیہ بیان اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس نے موجودہ سیاسی نظام کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ رسید کیا ہے۔ جسٹس جامدار نے اقتدار کے نشے میں چور حکمرانوں کے سامنے جو یہ چبھتا ہوا سوال رکھا کہ ’کیا عوام حکومت کی غلام ہے؟‘ اس نے جمہوریت کے دعویداروں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ یہ سوال محض ایک ریمارکس نہیں بلکہ اس تاریک دور کی عکاسی ہے جس میں آج کا پورا ملک اور اس کے عوام سسک رہے ہیں۔آج صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ حکومت کی پالییسیوں پر تنقید کرنا یا نعرے لگانا یا اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانا غداری کے مترادف قرار دے دیا گیا ہے۔چمبور پولیس کی جانب سے ایک شہری سعید احمد چودھری کو محض نعرے بازی کی پاداش میں شہر بدر کرنے کی کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ انتظامیہ کس طرح کٹھ پتلی بن چکی ہے۔ ایک دور تھا جب لوکمانیہ تلک نے برطانوی سامراج کے سامنے کھڑے ہو کر پوچھا تھا کہ’کیا حکومت کا دماغ ٹھکانے پر ہے؟‘ اور انگریز کانپ اٹھے تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج آزاد ہندوستان میں ایک بار پھر وہی نوآبادیاتی ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن کو خاموش کرنے کیلئے جیلوں کی سلاخیں اور شہر بدری کے پروانے بانٹے جا رہے ہیں جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہو چکی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یہ دلیل کہ پاسپورٹ یا ووٹر کارڈجعلی بن سکتے ہیں، کمزور اور غیر معقول ہے
امریکی بمباری نے ایک بار پھر ماحول خراب کردیا
دی ہندو( انگریزی، ۱۰؍جولائی)
’’امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو ایک ایسے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ تیزی سے مسدود ہو رہا ہے۔ستم ظریفی دیکھیے کہ پاکستان۔امریکہ اور پاکستان۔ایران خطوط پر جس مفاہمت نام کو بڑی کاوشوں کے بعد ترتیب دیا گیا تھا۔ اسے تار تار ہونے میں محض ۲۰؍ دن لگے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں ۶۰؍ روز کی جنگ بندی اور ایران کے متنازع جوہری پروگرام سمیت دیگر تصفیہ طلب امور پر تعمیری مذاکرات کا آغاز تھا مگر آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکر پر ہونے والے حملوں نے بارود کے اس ڈھیر کو چنگاری دکھا دی۔ واشنگٹن کی جانب سے ایرانی حدود میں کی جانے والی حالیہ بمباری اور جواباً کویت و بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر تہران کے حملوں نے صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔صدرٹرمپ کا یہ اعلان کہ جنگ بندی کا دور ختم ہو چکا۔اگرچہ ان کی روایتی مبالغہ آرائی کا حصہ ہو سکتا ہے تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ ۱۷؍ جون کے معاہدے کے بعد سے یہ خطے میں امن کے عمل پر پڑنے والا سب سے کاری زخم ہے۔یہ بحران کوئی اچانک رونما ہونے والا حادثہ نہیں بلکہ اس کے اسباب اسی معاہدے کی کوکھ میں پنہاں تھے جہاں تین بنیادی نکات اول روز سے ہی فریقین کے درمیان وجہِ نزاع بنے ہوئے تھے۔ اول لبنان میں اسرائیل کی یکطرفہ جنگ دوم ایران کے منجمد اثاثوں کی عدم وا گزاری اور سوم آبنائے ہرمز کی مرکزی حیثیت۔ تہران کا یہ مؤقف تاریخی شواہد پر مبنی ہے کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا نہ ہونا اور واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل، لبنان اور امریکہ پر مشتمل ایک متوازی سہ فریقی اتحاد کیلئے دباؤ ڈالنا دراصل اس مفاہمت نامے کی روح کے منافی ہے۔‘‘
منی پور میں پرتشدد عناصر مزید بے لگام ہو چکے ہیں
جن ستہ( ہندی، ۸؍جولائی)
’’منی پور میں طویل عرصے سے جاری نسلی منافرت اور تشدد کی چنگاریاں ایک بار پھر شعلوں میں تبدیل ہو کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ امن و امان کی بحالی اور حالات پر قابو پانے کے حوالے سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے بلند بانگ دعوے محض کاغذی کارروائی ثابت ہوئے ہیں جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ انتہا پسند تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہیں۔ حال ہی میں یوکھرول ضلع میں انتہا پسندوں کی جانب سے گھات لگا کر کیے گئے بزدلانہ حملے میں آسام رائفلز کے دو جوانوں کی شہادت نے سیکوریٹی کے فولادی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔یہ صورتحال اس تلخ حقیقت کی عکاس ہے کہ جب ریاست میں ملک کے سیکوریٹی اہلکار ہی محفوظ نہیں ہیں تو عام شہری اپنی جان و مال کے تحفظ کیلئے کس کا دروازہ کھٹکھٹائے؟یہاں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے عسکری و باغی گروہوں کے ساتھ نام نہاد امن معاہدوں کے باوجود یہ تشدد آمیز کارروائیاں کیوں نہیں تھم رہیں؟ اس سنگین ناکامی کی ذمہ داری آخر کس کے سر ڈالی جائے؟ مقتدر حلقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف سیکوریٹی فورس کی اضافی نفری تعینات کر دینے سے دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا، اس کیلئے سطحی اقدامات کے بجائے مرض کی اصل جڑ تک پہنچنا اور اس کا مستقل سدھار تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ۲۰۲۳ء میں میتی اور کوکی برادریوں کے مابین بھڑکنے والے اس نسلی تصادم میں اب تک ڈھائی سو سے زائد معصوم جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں اور ہزاروں خاندان اپنے ہی وطن میںکسمپرسی کی حالت میں بے گھر ہو چکے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریاست میں طویل عرصے تک صدر راج نافذ رہنے کے باوجود حالات میں کوئی مثبت یا ٹھوس تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی اور اب جب سے سیاسی حکومت نے دوبارہ باگ ڈور سنبھالی ہے پرتشدد عناصر مزید بے لگام ہو چکے ہیں۔‘‘