Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈجیٹل انقلاب کے دور میں بڑھتے سائبر جرائم، بڑا چیلنج

Updated: July 13, 2026, 9:40 PM IST | Lalit Garg | Mumbai

ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل معیشتوں میں تیزی سے ابھر رہا ہے اور ’ڈیجیٹل انڈیا‘ اور ’وکست بھارت-۲۰۴۷ء کا خواب اسی تکنیکی تبدیلی پر مبنی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل معیشتوں میں تیزی سے ابھر رہا ہے اور ’ڈیجیٹل انڈیا‘ اور ’وکست بھارت-۲۰۴۷ء کا خواب اسی تکنیکی تبدیلی پر مبنی ہے۔ لیکن اس روشن منظر نامے کے متوازی ایک خوفناک اندھیرا بھی تیزی سے پھیل رہا ہے،سائبر جرائم کی بڑھتی ہوئی سلطنت۔ ڈیجیٹل اریسٹ، آن لائن مالیاتی دھوکہ دہی، فشنگ، شناخت کی چوری، سرمایہ کاری کے گھوٹالے، ذاتی رازداری میں ہیکنگ، سوشل میڈیا کے ذریعے جرائم، بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کی تشہیر اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا غلط استعمال آج صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیںبلکہ قومی سلامتی، اقتصادی استحکام اور سماجی اخلاقیات کیلئے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جس ٹیکنالوجی کا مقصد انسانی زندگی کو محفوظ، آسان اور علم سے مالامال بنانا تھا وہی ٹیکنالوجی مجرموں کیلئے سب سے مؤثر ہتھیار بنتی جا رہی ہے۔

انٹرنیٹ کے لامتناہی امکانات کا فائدہ جتنی تیزی سے سماج نے اٹھایا ہے، اتنی ہی تیزی سے مجرموں نے بھی اسے اپنے مفاد میں ڈھال لیا ہے۔ نتیجے کے طور پر، ڈیجیٹل دنیا میں اعتماد کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ڈیجیٹل نظام کا سب سے بڑا سرمایہ ’اعتماد‘ ہے۔ جب کوئی شہری موبائل پر کیو آر (QR)  کوڈ اسکین کرتا ہے، یو پی آئی سے ادائیگی کرتا ہے یا کسی آن لائن پلیٹ فارم پر سرمایہ کاری کرتا ہے، تب وہ محض ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ پورے ڈیجیٹل نظام کی ساکھ پر بھروسہ کرتا ہے۔ اگر یہی بھروسہ لگاتار سائبر دھوکہ دہی، فرضی کالز، فشنگ، انتہائی ذاتی معلومات کے عوام میں افشا ہونے کے خوف، سرمایہ کاری کے گھوٹالوں اور شناخت کی چوری جیسے واقعات سے ٹوٹنے لگے، تو ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد کمزور پڑ جائے گی۔ جس طرح جعلی کرنسی کا چلن پوری اقتصادی نظام کو خطرے میں ڈال دیتا ہے، اسی طرح ڈیجیٹل دھوکہ دہی کا بڑھنا کیش لیس معیشت کے تصور کو کمزور کر سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: فاطمہ بی سودا سلف روز بازار جاتی ہیں، نہ جائیں تو دکاندار خود گھر آ جاتے ہیں

روایتی جرائم اور سائبر جرائم میں بنیادی فرق ہے۔ پہلے جرائم کسی مخصوص علاقے تک محدود ہوتے تھے، مجرم کی شناخت اور گرفتاری کا امکان نسبتاً زیادہ ہوتا تھا۔ آج ایک سائبر مجرم ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھ کر چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کیلئے خطرہ کم سے کم اور فائدہ زیادہ سے زیادہ ہے۔ یہی عدم توازن سائبر جرم کو انتہائی خطرناک بناتا ہے۔ جرم کا یہ نیا روپ سرحدوں، زبانوں اور قوانین کی روایتی حدوں کو بھی چیلنج کر رہا ہے۔

فکر صرف مالیاتی جرائم تک محدود نہیں ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال سے جڑے مواد کی تشہیر کے الزامات نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگر مقبول ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پیسے لے کر ایسے اشتہارات نشر کئے جا سکتے ہیں تو یہ محض ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی ناکامی بھی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا سوشل میڈیا کمپنیاں محض خود کو ایک تکنیکی پلیٹ فارم کہہ کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو سکتی ہیں؟ جب مصنوعی ذہانت اور الگورتھم یہ طے کرتے ہیں کہ کون سا اشتہار کس شخص تک پہنچے گا، تب ان پلیٹ فارمز کی جوابدہی بھی اتنی ہی بڑی ہو جاتی ہے۔ آج کئی ڈیجیٹل پلیٹ فارم قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن عملی طور پر ان کی ترجیح کئی بار منافع اور کاروباری مفادات پر رہتی  ہے۔ اگر بچوں کا جنسی استحصال، عریانیت، سائبر دھوکہ دہی یا منظم جرائم سے جڑے اشتہارات اور مواد طویل عرصے تک فعال رہ سکتے ہیں، تو یہ محض مجرموں کی کامیابی نہیں بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جوابدہی پر بھی ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔اظہارِ رائے کی آزادی اور سماجی ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کئے بغیرصحت مند ڈیجیٹل معاشرہ وجود میں نہیں آ سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’میرے بچپن میں مدنپورہ میں صبح گوشت چار آنے، شام دو آنے ملتا تھا‘‘

سائبر جرم کا سب سے  افسوسناک پہلو متاثرہ شخص کی ذہنی اور نفسیاتی تکلیف ہے۔ عمر بھر کی جمع پونجی چند منٹوں میں غائب ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد پولیس، بینک اور سائبر ہیلپ لائن کے چکر شروع ہوتے ہیں لیکن بروقت کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر معاملات میں رقم واپس نہیں مل پاتی۔ اس سے شہری کے دل میں انتظامیہ کیلئے بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK