Inquilab Logo Happiest Places to Work

کھیت کو پرندوں سے بچانے کیلئے طلبہ اونچی آواز میں سبق یاد کرتے ہیں

Updated: March 01, 2026, 11:56 AM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

موسم سرمااب رخصت ہونے کو ہے۔ہلکی ہلکی گلابی سردی فضا میں گھلی ہوئی ہے ۔ اس موسم میں گائوں کی صبح کی خوبصورتی الگ ہی ہوتی ہے۔

This is nothing new for the village, where children study alongside taking care of the farm. Photo: INN
گائوں کیلئے یہ کوئی نئی بات نہیں ، یہاں بچے کھیت کی رکھوالی کے ساتھ ہی پڑھائی بھی کر لیتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

موسم سرمااب رخصت ہونے کو ہے۔ہلکی ہلکی گلابی سردی فضا میں گھلی ہوئی ہے ۔ اس موسم میں گائوں کی صبح کی خوبصورتی الگ ہی ہوتی ہے۔ایک طرف سورج نکل رہا ہوتا ہے تو دوسری جانب کھیتوں پر ہلکی دھند چھائی ہوتی ہے ، گھاس کے پتوں پر شبنم کے قطرے چمکتے ہیں اور دور کہیں پرندوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ اس وقت ہوا نہ زیادہ ٹھنڈی لگتی ہے اور نہ گرم، بس ایک نرم سی خنکی دل کو سکون دیتی ہے۔ صبح صبح سرسوں کے پھولوں سے شبنم کے قطرے زمین پر ٹپک رہے ہیں ۔ ارہر پھلیوں کے بوجھ سے جھکی ہوئی ہے۔آلو کی کھدائی کا کام تیز کر دیا گیا ہے۔ نئےآلو کے بازار میں آنے سے قیمتیں گھٹ گئی ہیں۔ بیوپاری بڑی تعداد میں آلو خرید کر کولڈ اسٹوریج میں ذخیرہ کررہے ہیں، بعد میں اُسے مہنگی قیمتوں میں فروخت کریں گے۔ لکھنؤ میں آس پاس کے کسان باقاعدہ چھوٹی گاڑیوں میں آلو بھر کر فروخت کررہے ہیں۔ ہر دو تین کلو میٹر پر آپ کو لائوڈ اسپیکر پر’ آلو پچاس روپے کاپانچ کلو‘ کی آواز سننے کو مل جائے گی۔ محنت کش کسان تو معمولی قیمت پر آلو فروخت کررہے ہیں لیکن جب ذخیر اندوز بیوپاریوں کا نمبر آئے گا تووہ کئی کئی گنا زیادہ قیمتیں وصول کریں گے ۔ لکھنؤ سے متصل بارہ بنکی میں بڑے پیمانے پر آلو کی کھیتی ہوتی ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: بیر کوئی چھپانے والی شئے نہیں، اس کی خوشبو کھانے والوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے

اُس روزجب ہم  بارہ بنکی کے وارث نگر کی طرف رواں دواں تھے۔ صبح کا وقت تھا  لوگ اپنے گھروں سے نکل کر آہستہ آہستہ دن کی شروعات کررہے تھے۔ کوئی چائے کا کپ ہاتھ میں لئےدروازے کے پاس بیٹھا تھا۔ کوئی الائو جلائے جلدی جلدی ہاتھ سینک رہا تھا تاکہ کھیتوں کی طرف نکل کر تیزی سے کام نمٹا سکے۔گائوں پیچھے چھوٹا اب ہم کھیتوں کے درمیان سے گزرنے والی سڑک پر چل رہے تھے۔ یہاں تا حد نگاہ آلو، سرسوں اور گیہوں کی فصلیں نظر آرہی تھیں۔ اس علاقے سے گزرنے والی شاردا نہر سیکڑوں ایکڑ فصلوں کو سیراب کرتی ہے۔ اس کا پانی کسانوں کی امید ہے۔ جنگلی جانور اور مویشی بھی اس کے پانی سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ سائبیرین پرندے نومبر- دسمبر میں خاص طور سے ایسے علاقوں کا رُخ کرتے ہیں۔شہر سے دور گائوں اور کھیت کی زندگی کتنی پرسکون ہے۔ اس ماحول میں گزرے لمحے جیسے طبیعت کو سکون اور تازگی بخش رہے ہوں۔ اب دن چڑھ رہا تھا ۔ دوپہر کا وقت قریب تھا ۔ فصلوں سے لپٹے شبنم کے قطرےایسے غائب ہوگئے تھے جیسے فضا میں تحلیل ہو گئے ہوں۔  

فصلوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے کھن کھن کی آواز سے قدم ٹھٹک گئے ۔ سڑک کی دائیں جانب دیکھا کچھ خواتین برسیم (مویشیوں کا چارا)کاٹ رہی تھیں۔عورتوں کی طرح ہی نرم و نازک برسیم کی پتیاں اب اُنہیں کے ہاتھوں سے کاٹی جارہی تھیں۔ پھول لگنے والے سرسوں کو چھوڑ دیاجارہا تھا کیونکہ اس سے پھل کی امید تھی اور جس میں پھول نہیں لگے وہ سب کاٹے جارہے تھے ،اسلئے کہ وہ  اب صرف مویشیوں کے چارے کے ہی کام کے رہ گئے تھے ، ان سے اب کسی فائدے کی امید نہیں تھی ۔ 

یہ بھی پڑھئے: گاؤں میں آج بھی ایسے کئی گھر ہیں جہاں ’اُپلوں‘ کی مدد سے کھانے پکتے ہیں

سرسراتی پچھوا ہوا چل رہی تھی ۔ موسم بہار شباب پر تھا ۔ واقعی یہ موسم قریب سے دیکھنے اور آنکھوں میں قید کرنے کا ہوتا ہے۔ بورڈ کے امتحانات شروع ہو چکے ہیں۔پرسکون ماحول میں محنت سے پڑھائی کرنے کا وقت ہے ۔چنانچہ طلبہ کا ایک گروپ مٹر کے کھیت کے پاس چارپائی ڈالے پڑھائی میں مصروف تھا ۔ گویا حسن فطرت کے درمیان جو پڑھیں، وہ سب ذہن میں نقش ہو جائے ۔گائوں کیلئے یہ کوئی نئی بات نہیں ، یہاں بچے کھیت کی رکھوالی کے ساتھ ہی پڑھائی بھی کر لیتے ہیں۔کھیت پر پرندوں اور جانوروں کے حملے کو روکنے کیلئے طلبہ اونچی آواز میں سبق یاد کرتے ہیں۔ چنانچہ اس آواز کا یہ اثر ہوتا ہے کہ چرند پرند کھیت کے پاس بھی نہیں بھٹکتے ۔ 

کھیتوں کے آس پاس شام کا منظر بھی کم خوبصورت نہیں ہوتا۔ سورج جب ڈھلنے لگتا ہے تو آسمان ہلکے نارنجی اور گلابی رنگوں سے بھر جاتا ہے۔ اس وقت ایک بار پھر وہی ہلکی سی سردی لوٹ آتی ہے جو دن بھر کی تھکن کو کم کر دیتی ہے۔اُس روز شام ڈھلنے کے ساتھ لوگ تیزی سے اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ رمضان شروع ہونے میں ایک ہفتے کا وقت تھا۔بازاروں میں ماہ مبارک کی مناسبت سے دکانیں سج گئی تھیں۔کچھ لوگ کھجوریں خرید رہے تھےاور کچھ لوگ سیوئیں کی دکان تلاش کررہے تھے کیونکہ بازار میں ابھی  زیادہ دکانوں پر سیوئیاں نہیں آئی تھیں۔ پہلے گائوں کے بازاروں میں کھجور کم ہی نظر آتی تھی، اب بڑی آسانی سے مل جاتی ہے۔ اُس وقت پردیس میں کمانے والے بمبئی اور دہلی جیسے بڑے شہروں سے کھجور لاتے تھے ۔ 

یہ بھی پڑھئے: جب تک ’بَرہا‘ تیار نہیں ہو جاتا، تب تک دادا کا پھاوڑا رُکتا نہیں تھا

گائوں کے کچے پکے مکانات پیچھے چھوٹے اب شہر کی بلند و بالا عمارتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا ۔پھر وہی گاڑیوں کے ہارن اور ہر طرف ٹریفک شور سنائی دے رہا تھا ۔ایسے میں گائوںبہت یاد آیا کہ جہاںصبح کی پہلی کرن کے ساتھ پرندوں کا نغمہ شروع ہوجاتا ہے، جیسے فطرت خود کو بیدار کر رہی ہو۔ ہر طرف ہریالی کا سہرا، ہوا میں بسی خوشبوئیں، اور وہ خاموشی جو بے چین دل کو قرار بخشتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK