موسم کی تبدیلی کو گائوں میں ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ شہر میں تو بلند عمارتیں، مصروف سڑکیں اور بند کمروں کی زندگی انسان کو فطرت سے دور کر دیتی ہے، مگر گاؤں میں بدلتا ہوا موسم اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 10:45 AM IST | Ahsanul Haque | Mumbai
موسم کی تبدیلی کو گائوں میں ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ شہر میں تو بلند عمارتیں، مصروف سڑکیں اور بند کمروں کی زندگی انسان کو فطرت سے دور کر دیتی ہے، مگر گاؤں میں بدلتا ہوا موسم اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔
موسم کی تبدیلی کو گائوں میں ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ شہر میں تو بلند عمارتیں، مصروف سڑکیں اور بند کمروں کی زندگی انسان کو فطرت سے دور کر دیتی ہے، مگر گاؤں میں بدلتا ہوا موسم اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔کھیتوں کا رنگ بھی موسم کے ساتھ بدل جاتا ہے۔ گندم کی فصل جوان ہو چکی ہے اور اس کی سبز بالیاں ہوا کے ساتھ لہراتی ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے زمین پر سبز سمندر موجیں لے رہا ہو۔ کہیں کہیں سرسوں کے آخری پیلے پھول بھی دکھائی دیتے ہیں جو موسمِ بہار کی یاد دلاتے ہیں۔ کسان اس وقت اپنی فصلوں کو دیکھ کرخوشی سے جھوم اُٹھتے ہیں۔ رمضان کے سبب کھیتوںمیں کام کرنے کا وقت تبدیل ہو چکا ہے ۔ کسان سحری کے بعد سورج چڑھنے سے پہلے تک محنت بھرا کام نمٹا لیتے ہیں۔ کہیں کہیں سرسوں اور ارہر کے کٹنے کا وقت ہو چلا ہے لیکن کسان اُسے عید تک ٹالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آموں کے بور سے بغیا مہک رہی ہے ۔ شام کا منظر خاص طور پر بہت خوبصورت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بیر کوئی چھپانے والی شئے نہیں، اس کی خوشبو کھانے والوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے
عصر کے بعد ننھے روزہ دار باغوں میں اِدھر اُدھر گھوم کر وقت کاٹ رہے ہیںکیونکہ ان کیلئے یہ گھنٹہ بھر کا وقت پورے دن پر بھاری پڑ رہا ہے۔ دن بھر وہ بڑے شوق سے روزہ رکھتے ہیں، لیکن جیسے جیسے سورج ڈھلنے لگتا ہے، ان کے دل کی بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ وہ بار بار اپنے ساتھیوں سے وقت پوچھتے ہیں کہ ابھی افطار میں کتنا ٹائم باقی ہے۔ گھر پہنچنے پر بھی ان کی یہی کیفیت رہتی ہے۔ بار بار اپنی ماؤں سے پوچھتے ہیں،ابھی کتنی دیر ہے؟ کوئی پانی کے گلاس کو دیکھ کر صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے، کوئی کھجور کی پلیٹ کے پاس جا کر واپس آ جاتا ہے۔ تھکن اور بھوک پیاس کے باوجود ان کے چہروں پر خوشی ہوتی ہے ۔ اذان کی آواز سننے کیلئے بار بار وہ گھر کے باہر نکلتے ہیں ، کئی بار وہ مسجد کے دروازے تک پہنچ جاتے ہیں۔ اذان سن کر وہ گھر کی طرف دوڑ لگادیتے ہیں۔ گھرکے اندر پہنچ کر وہ جلدی سے کھجور اٹھاتے ہیں، پانی پیتے ہیں اور ایک عجیب سی مسکراہٹ ان کے چہروں پر آ جاتی ہے۔
ماہ مبارک میں گاؤں کی گلیوں میں بھی ایک الگ ہی رونق ہے۔ بچے مغرب کے بعد زیادہ دیر تک کھیلتے ہیں کیونکہ اس وقت روزہ کُھل چکا ہوتا ہے ۔ افطاری کے بعد بچ جانے والی اشیاء جیبوں میں بھر کر لاتے ہیں اور ساتھ کھیلنے والے بچوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ گو کھیل کا مزہ دو بالا ہو جاتا ہے۔
اس موسم میں نہ زیادہ سردی ہے، نہ ہی تھکا دینے والی گرمی ۔ درختوں پر نئی کونپلیں نکلنا شروع ہوگئی ہیں۔ نیم کے درخت کے نیچے پیلی پیلی پتیوں کا ڈھیر لگ گیا ہے۔ موسم معتدل ہونے کی وجہ سے مچھروں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے ۔ شام ہوتےہی مچھر ہر طرف پھیل جاتے ہیں۔ اُن کے حملے کو کم کرنے کیلئے نیم کی یہ سوکھی پتیاں گویا بارود کا کام کرتی ہیں۔ دروازے کے سامنے پتیوں کا ڈھیر لگا کر اس میں آگ لگائی جاتی ہے ۔ پتیوں کے سُلگنے سے دھواں کا غبار پھیل جاتا ہے ۔ اس کی زد میں آتے ہی مچھر مر جاتے ہیں۔اِن کے حملے سے بچنے کیلئے یہ عمل روز دُہرایا جاتا ہے ۔ عید کی تیاری کے ساتھ اِس وقت گائوں کے لوگ فصلوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے بھی فکر مند ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کھیت کو پرندوں سے بچانے کیلئے طلبہ اونچی آواز میں سبق یاد کرتے ہیں
آسمان میں بادل چھانے پر اُن کی بے چینی بڑھنے لگتی ہے ۔ بارش کے ساتھ ژالہ باری کا خطرہ ہوتا ہے ۔ کئی بار مارچ اپریل کی بے موسم بارش اور ژالہ باری سے کسانوں کی محنت پر پانی پھر چکا ہے۔فصلیں جب پکنے لگتی ہیں تو اُن کو کئی طرح کے خطرات بھی درپیش ہوتے ہیں۔بارش اور ژالہ باری کے علاوہ آندھی طوفان سے بھی انہیں بہت نقصان پہنچتا ہے۔بجلی کے تاروں میں شارٹ سرکٹ یا بیڑی سگریٹ سے نکلنے والی چنگاری بھی دیکھتے ہی دیکھتے بیگھوں کی فصل کو راکھ میں تبدیل کر دیتی ہے ۔ ایسے موقعوں پر کسان بے بس ہو جاتا ہے۔ کسانوں کی افطار بعد کی بیٹھک میں آج کل مذکورہ بالا مسئلے موضوع گفتگو ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: گاؤں میں آج بھی ایسے کئی گھر ہیں جہاں ’اُپلوں‘ کی مدد سے کھانے پکتے ہیں
رمضان کا دوسرا عشرہ جیسے جیسے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ مساجد اور عید گاہوں کی صفائی اور ان کی مرمت کے کام میں تیزی آ گئی ہے۔ پرانی چٹائیاں تبدیل کرکے نئی خریدی جارہی ہیں۔ بہت سے اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں جو بمبئی اور دہلی جیسے شہروں سے مساجد اور عیدگاہ کیلئے چٹائیاں ساتھ لے کر آتے ہیں۔ وہ اپنا رخت سفر باندھتے وقت کار میں چٹائیوں کا گٹھر بھی رکھ لیتے ہیں۔ پہلے عید کے روز وضو کا پانی بھرنے کیلئے مزدور لگائے جاتے تھے ، لیکن اب زیادہ تر عید گاہ اور مساجد میں سبمرسبل لگے ہوئے ہیں جس کی مدد سے بڑی آسانی سے وضو کا پانی فراہم ہوجاتا ہے ۔ عید گاہ کے آس پاس کی صفائی کا کام گائوں کے نوجوان بڑی دلچسپی سے کرتے ہیں ۔ نوجوانوں کی پوری پوری ٹیم اس کار خیر کیلئے پیش پیش رہتی ہے۔ لیکن اب گائوں میں بھی بہت کچھ بدل گیا ہے ۔ پہلے رمضان کے آخری عشرے میں بچے گائوں کے باہر سڑک پر پردیسیوں کے آنے کا انتظار کرتے تھے ۔ جب دور کوئی نہر کے پُل کے پاس پردیسی نظر آجاتا وہ دوڑ لگا دیتے اور بہ یک زبان شور مچاتے کہ پہلے میں نے دیکھا ...پھر قریب پہنچ کر مہمان کا بھاری بھرکم بیگ تھام لیتے اور شہر سے آنے والا ٹافیوں اور مٹھائیوں سے ان کی مٹھیاں بھر دیتا تھا۔