• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سورۂ اخلاص: مختصر سورہ، عظیم پیغام

Updated: October 09, 2026, 3:22 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

توحید کا جامع تصور پیش کرنے والی وہ سورہ جس میں انسان کو درس دیا گیا ہے کہ چیزوں پر یقین کرنا شرک ہے، کرنے والی ذات صرف اللہ الصمد ہے۔

Surah Al-Ikhlas presents a concept of Allah Almighty that anchors the human mind, heart, and entire being to a single focal point. Image: INN
سورہ اخلاص انسان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ایسا تصور پیش کرتی ہے جو اس کے ذہن، قلب اور پورے وجود کو ایک مرکز عطا کرتا ہے۔ تصویر: آئی این این

انسان نے کائنات کو سمجھنے، فطرت کے رازوں کو کھولنے اور اپنی زندگی کو سہولتوں سے بھرنے میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ کبھی جس فاصلے کو طے کرنے میں مہینوں لگتے تھے، آج وہ چند گھنٹوں میں طے ہوجاتا ہے؛ کبھی بیماری کے سامنے انسان بے بس کھڑا رہتا تھا، آج طب کے پاس تشخیص، علاج اور سرجری کے حیرت انگیز وسائل موجود ہیں؛ کبھی کسی خبر کے ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچنے میں دن لگ جاتے تھے، آج ایک لمحے میں پوری دنیا اس سے واقف ہوجاتی ہے۔ بلاشبہ یہ انسانی علم، تجربے اور محنت کی بڑی کامیابیاں ہیں۔
مگر اس تمام ترقی کے درمیان ایک عجیب سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے: کیا انسان کی تخلیق کردہ مشینیں جتنی طاقتور ہوئی ہیں، اس کا یقین بھی اتنا ہی مضبوط ہوا ہے؟
شاید معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انسان نے باہر کی دنیا کو تو بڑی حد تک اپنے قابو میں کرلیا، مگر اپنے اندر کی دنیا میں وہ پہلے سے زیادہ اضطراب، خوف اور بے یقینی کا شکار ہے۔ اس کے پاس معلومات بے شمار ہیں، مگر اطمینان کم؛ رابطے بے شمار ہیں، مگر حقیقی سہارا کم؛ وسائل بے شمار ہیں، مگر دل کا سکون کہیں گم ہے۔
یہیں سورۂ اخلاص ایک مختصر سورہ سے بڑھ کر ایک فکری اعلان بن کر سامنے آتی ہے۔ یہ چند آیات انسان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ایسا تصور پیش کرتی ہیں جو اس کے ذہن، قلب اور پورے وجود کو ایک مرکز عطا کرتا ہے: اللہ ایک ہے، بے نیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں؛ نہ اس کی کوئی نسل ہے، نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔
انسان کی نفسیات میں ایک بنیادی میلان ہے: جس چیز کو وہ اپنی آنکھوں کے سامنے کام کرتے یا ہوتا ہوا دیکھتا ہے، اس پر اس کا اعتماد بڑھ جاتا ہے۔ دوا کھائی اور بیماری کم ہوئی، مشین چلائی اور کام ہوگیا، پیسہ خرچ کیا اور مسئلہ حل ہوگیا، فون اٹھایا اور ہزاروں میل دور بیٹھے شخص سے بات ہوگئی۔ رفتہ رفتہ انسان کے ذہن میں وسائل کی تاثیر اتنی نمایاں ہوجاتی ہے کہ کبھی کبھی وہ وسیلے اور اصل مؤثر کے درمیان فرق بھولنے لگتا ہے۔
یہیں اللّٰهُ الصَّمَدُ انسان کو اس کی فکری بنیاد کی طرف واپس لے آتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: جمعہ کی نمازِ فجر میں سورہ الم سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت، استفتاء بابت وکیلِ نکاح

دوا سبب ہے، شفا کا مالک اللہ ہے۔ ڈاکٹر وسیلہ ہے، زندگی کا مالک اللہ ہے۔ مشین ذریعہ ہے، قدرتِ کاملہ اللہ کی ہے۔ انسان منصوبہ بناتا ہے، مگر نتیجہ اس کے اختیار میں نہیں ہے۔
اس فرق کا مٹ جانا صرف ایک نظری غلطی نہیں؛ یہ انسانی نفسیات کو بھی بدل دیتا ہے۔ پھر آدمی وسائل کے ملنے سے مطمئن اور ان کے چھن جانے سے شکستہ ہونے لگتا ہے۔ ملازمت چلی گئی تو مستقبل ختم محسوس ہوتا ہے، کاروبار میں نقصان ہوا تو زندگی بے معنی لگتی ہے، کسی طاقتور شخص کی حمایت ختم ہوئی تو انسان خود کو بے سہارا سمجھنے لگتا ہے۔
سورۂ اخلاص گویا پوچھتی ہے: اگر سب سہارے چھن جائیں تو تمہارا آخری سہارا کون ہے؟ اگر جواب اللہ ہے تو انسان وسائل استعمال کرتا ہے، مگر وسائل کا غلام نہیں بنتا۔
یقین کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اسباب اختیار کرنا چھوڑ دے۔ اسلام تو تدبیر، محنت اور جدوجہد کی تعلیم دیتا ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں تدبیر، تقدیر پر غالب تصور ہونے لگتی ہے؛ جہاں انسان اپنی منصوبہ بندی کو اتنا قطعی سمجھنے لگتا ہے کہ اللہ کی مشیت اور قدرت اس کے شعور سے اوجھل ہونے لگتی ہے۔ آج ایک نوجوان اپنے مستقبل کے لئے ڈگری، ہنر، ملازمت، سرمایہ، رابطوں اور ٹیکنالوجی کا منصوبہ بناتا ہے۔ یہ سب ضروری اسباب ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگر انہی چیزوں میں اس کا پورا اعتماد سمٹ جائے تو ایک معمولی ناکامی بھی اس کے وجود کو ہلا دیتی ہے۔
آج ایمان پر حملہ صرف مناظروں اور نظریاتی اعتراضات کے ذریعے نہیں ہوتا۔ کبھی زندگی کا طرزِ فکر ہی انسان کے یقین کو آہستہ آہستہ کمزور کردیتا ہے۔ آدمی زبان سے اللہ پر ایمان رکھتا ہے، مگر خوف میں سب سے پہلے مخلوق کو یاد کرتا ہے؛ مشکل میں سب سے پہلے اپنی طاقت کو دیکھتا ہے؛ مستقبل کے بارے میں سوچتے ہوئے اللہ کی قدرت سے زیادہ اپنے وسائل کا حساب کرتا ہے۔ یہاں سورۂ اخلاص محض تلاوت کی سورہ نہیں رہتی؛ یہ یقین کی تجدید بن جاتی ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے انسان اپنے آپ سے پوچھ سکتا ہے: میں کس کو سب سے بڑا سمجھتا ہوں؟ میرا دل کس سہارے پر سب سے زیادہ ٹکا ہوا ہے؟ اگر میرے تمام وسائل مجھ سے چھین لیے جائیں تو کیا میرا اللہ پر اعتماد باقی رہے گا؟ کیا میں اسباب اختیار کرتا ہوں یا اسباب ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھا ہوں؟ یہ سوالات انسان کو اپنے باطن کے سامنے لاکھڑا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:نصیحت کا سب سے مؤثر ذریعہ زبان نہیں، کردار ہے

انسانی نفسیات میں مطلق اعتماد کے نئے مراکز پیدا ہوسکتے ہیں۔ کبھی دولت، کبھی منصب، کبھی شہرت، کبھی سائنس، کبھی ٹیکنالوجی، کبھی مصنوعی ذہانت اور کبھی طاقتور ادارے۔ سورۂ اخلاص اس انتشار کے مقابلے میں توحید کا تصور پیش کرتی ہے: ایک اللہ، ایک مرکز، ایک آخری سہارا۔ اللہ الصمد کہتا ہے کہ تمہاری ضرورتیں بہت ہیں، تمہارے وسائل بہت ہوسکتے ہیں، تمہارے منصوبے بھی بہت ہوسکتے ہیں؛ مگر تمہاری اصل محتاجی ایک ہی ذات کی طرف ہے۔ یہ تصور انسان کو باطنی استقامت عطا کرتا ہے۔ شاید موجودہ دور میں سورۂ اخلاص کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ وہ ترقی یافتہ مگر مضطرب انسان کو اس کی اصل حقیقت یاد دلائے: تم نے کائنات کے بہت سے وسائل کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے، مگر تم خود اب بھی محتاج ہو؛ اور جس ذات کے محتاج ہو، وہ وہی  اللہ الصمد ہے۔یہیں اگلی آیت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ اللہ کا کوئی ہمسر نہیں۔ کوئی نظام، کوئی طاقت، کوئی شخصیت اور کوئی مادی وسیلہ اس مقام پر نہیں آسکتا۔جب یہ یقین دل میں اتر جاتا ہے تو انسان دنیا سے بھاگتا نہیں، اس  کا سامنا کرتا ہے؛ اسباب سے انکار نہیں کرتا، مگر ان کا اسیر بھی نہیں بنتا؛ مشکلات سے بے خوف نہیں ہوتا، مگر ان کے سامنے بے سہارا بھی نہیں ہوتا۔ کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام دروازے بند ہوجائیں تب بھی ایک دروازہ  ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا۔

یاد رکھئے!

ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ دشمن ہے نہ خدا کا متبادل۔ یہ انسان کے علم اور محنت کا ایک ذریعہ ہے۔ قرآن اس سے روکتا نہیں بلکہ کائنات میں غوروفکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ اللہ کی قدرت کے مظاہر آشکارہ ہوں اور متزلزل ایمان یقین کامل میں تبدیل ہو۔ لیکن جب انسان یہ سمجھنے لگے کہ ٹیکنالوجی ہر مسئلے کا آخری جواب دے سکتی ہے، ہر خطرے کو ختم کرسکتی ہے اور زندگی کے ہر سوال کا حل فراہم کرسکتی ہے، تو یہ اعتماد ایک فکری مغالطے میں بدل سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت آپ کو معلومات دے سکتی ہے، مگر زندگی کا مقصد نہیں دے سکتی۔ مشین بیماری کی تشخیص میں مدد دے سکتی ہے، مگر موت کو ختم نہیں کرسکتی۔ بینک دولت محفوظ رکھ سکتا ہے، مگر دل کا خوف نہیں فراہم کرتا۔ دنیا بھر سے رابطہ ممکن ہوسکتا ہے، مگر انسان کے اندر کی تنہائی لازماً ختم نہیں ہوتی۔n

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK