Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ہومیوپیتھ ڈاکٹروں کے ایلوپیتھ طریقہ علاج پر ایلوپیتھ ڈاکٹروں کا اعتراض کہاں تک درست ہے؟‘‘

Updated: August 10, 2026, 12:35 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ہومیو پیتھ ڈاکٹروں کو ایلوپیتھ علاج کی پریکٹس کیلئے رجسٹریشن کی اجازت دینے پر مہاراشٹر میڈیکل کائونسل نے سخت اعتراض کیا ہے۔ اسی طرح انڈین میڈیکل کائونسل اور مہاراشٹر اسوسی ایشن آف ریسیڈنٹ ڈاکٹرز نے بھی اسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات بند کر کے اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔’آئی ایم اے‘ کےمطابق ایلوپیتھک طبی برادری اس اقدام کو جدید ادویات کے تقاضوں کے ساتھ ہی سائنسی بنیادوں سے سمجھوتہ کرنا سمجھ رہی ہے، جس سے صحت عامہ اور مریضوں کی حفاظت کیلئے ممکنہ طور پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے ... لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟

Picture: INN
تصویر: آئی این این
ہر شہری کو محفوظ، معیاری، سستی اور بروقت علاج فراہم ہونی چاہئے
ایلوپیتھ ڈاکٹروں کا یہ اعتراض اپنی جگہ درست ہے کہ جدید طب (ایلوپیتھی) کی غیر محدود پریکٹس ہومیوپیتھ ڈاکٹروں کو نہیں دی جانی چاہئے کیونکہ جدید طب کیلئے وسیع تعلیمی پس منظر، عملی تربیت اور مسلسل مہارت درکار ہوتی ہے۔ مریض کی حفاظت ہر صورت مقدم ہونی چاہئے، اور کسی بھی معالج کو مناسب تربیت کے بغیر پیچیدہ بیماریوں کا علاج یا بڑے طبی طریقۂ علاج انجام دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ تاہم اس بحث میں ہندوستان کے زمینی حقائق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ ملک میں ایم بی بی ایس کی نشستوں اور رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن مستند ڈاکٹروں کی دستیابی اب بھی یکساں نہیں ہے۔ زیادہ تر ڈاکٹر ایم بی بی ایس کے بعد پوسٹ گریجویشن اور اسپیشلائزیشن کا رخ کرتے ہیں یا شہری علاقوں میں خدمات انجام دینا پسند کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں دیہی اور نیم شہری علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات کا شدید فقدان برقرار رہتا ہے۔ ملک کے کروڑوں غریب اور متوسط طبقے کے افراد مہنگے نجی اسپتالوں اور ماہر ڈاکٹروں کی فیس برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ایسے حالات میں اکثر دیہی علاقوں میں مریض کا پہلا رابطہ کسی ہومیوپیتھ یا دیگر آیوش معالج ہی سے ہوتا ہے، کیونکہ وہاں ایم بی بی ایس ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتے۔ حقیقت کو نظر انداز کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ 
 
 
بہتر راستہ یہ ہے کہ حکومت کی منظور شدہ معیاری تربیت حاصل کرنے والے ہومیوپیتھ ڈاکٹروں کو صرف بنیادی طبی نگہداشت، ابتدائی ہنگامی علاج اور محدود دائرۂ کار میں جدید ادویات استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ پیچیدہ بیماریوں، بڑے طبی طریقۂ علاج اور سرجری جیسے معاملات صرف مکمل تربیت یافتہ ایم بی بی ایس اور ماہر ڈاکٹروں کے دائرۂ اختیار میں رہیں، جبکہ ریفرل کا مؤثر نظام بھی قائم کیا جائے۔ طویل مدتی حل یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی تعداد بڑھائی جائے، سرکاری صحت کے نظام کو مضبوط بنایا جائے، دیہی خدمات کیلئے مؤثر مراعات فراہم کی جائیں اور معیاری و سستی بنیادی صحت کی سہولیات عام کی جائیں۔ اسلئے اس بحث کا مرکز صرف پیشہ ورانہ حدود کا تحفظ نہیں بلکہ ہر شہری کو محفوظ، معیاری، سستی اور بروقت علاج کی فراہمی ہونا چاہئے۔ 
شاہنوازچاندمیاں تھانہ والا (فاؤنڈر چیئرمین، تھانہ والا فاؤنڈیشن، ممبئی)
 مریض تجربہ گاہ نہیں : ایک نسخہ، دو نظامِ طب اور زندگی کا سوال 
کیا صرف ایک بریج کورس کسی طبیب کو دوسرے نظامِ طب کی ادویات تجویز کرنے کا وہ اختیار دے سکتا ہے جس کیلئے برسوں کی طبی تعلیم، کلینیکل تربیت اور عملی تجربہ درکار ہوتا ہے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جسے ہومیوپیتھک ڈاکٹروں کو ایلوپیتھک علاج کی پریکٹس کی اجازت دینے کے معاملے میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر اپنے نظامِ طب میں باقاعدہ تعلیم و تربیت حاصل کرتے ہیں اور ان کی پیشہ ورانہ حیثیت کا احترام ضروری ہے۔ لیکن ہومیوپیتھی اور جدید طب کے نصاب، تشخیص، ادویات اور علاج کے اصول مختلف ہیں۔ جدید طب میں فارما کولوجی، پیتھالوجی، clinical decision-making، ایمرجنسی مینجمنٹ اور ادویات کے مضر اثرات و باہمی تعاملات کی تفصیلی تربیت شامل ہوتی ہے۔ یہاں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کون دوا لکھ سکتا ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ کون سی دوا، کس مریض کو، کس تشخیص کی بنیاد پر اور کس ذمہ داری کے ساتھ لکھی جا رہی ہے۔ اینٹی بایوٹکس، اسٹیرائڈز اور دیگر طاقتور ادویات میں معمولی غلطی بھی کبھی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ اسلئے ایلوپیتھک طبی برادری کا مریضوں کی حفاظت اور طبی معیار سے متعلق اعتراض اصولی طور پر وزن رکھتا ہے، لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہومیوپیتھک ڈاکٹروں کو کسی بھی اضافی کردار سے مکمل طور پر محروم کر دیا جائے؟ شاید نہیں۔ اصل ضرورت دائرۂ اختیار کی واضح لکیر کھینچنے کی ہے۔ اگر محدود کراس پریکٹس کی اجازت دی جائے تو مجاز ادویات، بیماریوں کی حدود، کلینیکل سپرویزن، ایمرجنسی پروٹوکال، prescription monitoring، اور لازمی referral system واضح ہونا چاہیے۔ پیچیدہ کیس میں فوری طور پر ماہر ڈاکٹر یا اسپتال تک رسائی یقینی بنائی جائے۔ 
دوسری جانب دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی ایک حقیقی مسئلہ ہے، لیکن اس کا حل طبی معیار کو کم کرنا نہیں، بلکہ بنیادی صحت مراکز کو مضبوط کرنا، تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی تعیناتی، ٹیلی میڈیسن اور مؤثر ریفرل نیٹ ورک کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔ صحت کے نظام میں سہولت ضرور پیدا کیجیے، مگر اس سہولت کی قیمت مریض کی سلامتی نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ آخر میں سوال یہ نہیں کہ ہومیوپیتھی جیتی یا ایلوپیتھی۔ سوال یہ ہے کہ مریض بچا یا نہیں۔ 
 
 
سید خوش ناز جعفر حسین (معلمہ، انجمن اسلام بدرالدین طیب جی ہائی اسکول، ممبئی)
 ایلوپیتھ ڈاکٹروں کا اعتراض ایک حد تک درست ہے
ہومیوپیتھ ڈاکٹروں کے ایلوپیتھ طریقہ علاج پر ایلوپیتھ ڈاکٹروں کا اعتراض ایک حد تک درست ہے۔ چونکہ ہومیوپیتھی، آیوروید، یونانی اور ایلوپیتھی، ان تمام طبی نظام کے اپنےالگ الگ اصول و ضوابط، نصاب اور طریقۂ علاج ہیں، ہر طبی نظام اپنے طلبہ کو مخصوص نوعیت کی تعلیم اور عملی تربیت سے آراستہ کرتا ہےلہٰذا کسی دوسرے نظام کے معالج کو محض بنیادی طبی معلومات کی بنیاد پر ایلوپیتھک ادویات تجویز کرنے یا مکمل ایلوپیتھک پریکٹس کی اجازت دینا مناسب نہیں ہوگا۔ اپنی پیتھی کے علاوہ کسی دوسری پیتھی میں پریکٹس کی اجازت تو کسی بھی نظام کے کمیشن کے ترجیحات میں نہیں ہےاور اس معاملے میں ہو میو پیتھی کمیشن زیادہ سخت ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ البتہ یونانی اورآیوروید کمیشن میں اس مسئلہ کے تعلق سے تھوڑی نرمی برتی جاتی ہے اور اسی وجہ سے ان کےتعلیمی نصاب میں ماڈر ن فارما کو لوجی کی شمولیت ہمیشہ سے ہی ہے۔ جب یہ معاملہ سپرم کورٹ تک گیا تو عدالت نے اس کا فیصلہ ریاستی حکومت کی صوابدید پر چھوڑ دیا کہ اگروہ کسی مخصوص دائرہ میں ایسے معالجین کی خدمات ایلوپیتھی سےمتعلق حاصل کرنا چاہتی ہے جومختلف نظام ہائے طب کے ماہرین ہیں تو کرسکتی ہے۔ اسی وجہ سے یونانی اور آیوروید کو اپنے نصاب کے بنیاد پر ملک کے زیادہ ترصوبوں میں ایلو پیتھ پریکٹس کی اجازت ہے لیکن ہومیو پیتھی کو نہیں، مہاراشٹر واحدریاست ہے جہاں کی حکومت کمیشن کےنصاب کی کمی کو پورا کرنے کیلئےسی سی ایم پی یعنی ’سرٹیفکیٹ کورس ان ماڈرن فارما کولوجی کا سہارا لیا اور گزشتہ سال ہومیو پیتھی کےنئے نصاب میں بھی مادڈرن فارکو لوجی کو شامل کرلیا گیا۔ 
بہرحال علاج و معالجہ ایک معزز پیشہ ہے جہاں مریض کی صحت اور اس کی حفاظت و بقاء کو ترجیحی حیثیت حاصل ہےلہٰذا کسی بھی پیتھی کے معالج کو چاہئے کہ اپنے بنیادی فرائض کو طبی اختلاف سے بالاتر رکھے نہ کہ ہڑتال ومحاذ آرائی کی جائے۔ اسی سلسلہ میں محکمہ طبی تعلیم و ادویات کے حالیہ اعلامیہ سے یہ امید کی جاسکتی ہے کی اسکا صحیح اور قابل قبول حل منظر عام پرآئے۔ 
ڈاکٹر آصف عارف انصاری
(پرنسپل، زیڈ وی ایم یونانی میڈیکل کالج ، اعظم کیمپس، پونے)
 ہومیوپیتھ ڈاکٹروں کو موقع دینا، وقت کی ضرورت ہے
حالیہ دنوں میں ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو محدود پیمانے پر ایلوپیتھک طریقہ علاج اختیار کرنے کی اجازت دیئے جانے پر ایلوپیتھی ڈاکٹروں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے ہیں، تاہم اس مسئلے کو ٹھنڈے دل سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ 
واضح رہے کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹرز حکومت سے منظور شدہ ادارے (سی سی ایچ) کا کورس مکمل کرنے اور باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کے بعد ہی یہ پریکٹس کرتے ہیں۔ بی ایچ ایم ایس، ایم ڈی جیسے قابل ڈاکٹرز صرف ہنگامی حالات میں، وہاں جہاں ایلوپیتھی ڈاکٹر دستیاب نہ ہو، مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ 
حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں ایم بی بی ایس مکمل کرنے والے اکثر ڈاکٹرز اعلیٰ تعلیم (پی جی) کیلئے چلے جاتے ہیں، جس کے باعث دیہی اور دور دراز علاقوں میں ایم بی بی ایس جنرل پریکٹیشنر ڈاکٹر نایاب ہو چکے ہیں۔ نتیجتاً سرکاری اسپتالوں میں بھی اکثر جگہ ایلوپیتھی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے نجی اسپتال بھی اکثر بی ایچ ایم ایس، بی اے ایم ایس اور بی یو ایم ایس ڈاکٹروں کو معاون کے طور پر رکھتے ہیں۔ 
 
 
ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں مریض اور ڈاکٹر کا تناسب نہایت غیر متوازن ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ۱۷۲۸؍ مریضوں پر ایک ڈاکٹر ہے۔ خاص طور پر دیہات، قصبوں اور دِہاڑی مزدوروں کی بستیوں میں جو شہروں سے دور واقع ہیں۔ ایسے میں حکومت کا سی سی ایم پی کورس متعارف کرانے کا فیصلہ عوام کی فلاح کیلئے اٹھایا گیا ایک مثبت قدم ہے، جس کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے، نہ کہ مخالفت۔ مہاراشٹر حکومت نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس کا مقصد دیہی اور دور دراز علاقوں میں صحت کی خدمات کو مضبوط بنانا تھا اور یہ کہ سی سی ایم پی پریکٹیشنرز اپنی تربیت کی حد تک ہی کام کرنے کے پابند ہوں گے۔ 
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایلوپیتھی اور ہومیوپیتھی، دونوں شعبوں کے ڈاکٹرز مل بیٹھ کر ایسا لائحہ عمل طے کریں جس سے ہر ہندوستانی تک طبی خدمات کی رسائی ممکن ہو سکے۔ آخرکار ہم سب ایک ہی ملک کے سپوت ہیں، اور عوام کی صحت کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ 
ہارون عثمانی (ناظم مشاعرہ و طبی خدمتگار، بھساول)
ہومیوپیتھ اور دیگر نظامِ طب کے درمیان تعاون، عوامی صحت اوراس کے تحفظ کیلئے بہت ضروری ہے
ہومیوپیتھ ڈاکٹروں کو محدود دائرے میں ایلوپیتھ ادویات اور علاج کی اجازت دینے کے معاملے پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آرہے ہیں۔ میرے نزدیک اس حساس مسئلے کو محض کسی ایک طبی نظام کی مخالفت یا حمایت کے طور پر نہیں بلکہ مریضوں کی حفاظت، طبی معیارات، قانونی دائرۂ کار اور عوام کو بروقت علاج کی فراہمی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ہومیوپیتھک سمیت مختلف نظامِ طب سے وابستہ رجسٹرڈ ڈاکٹر اپنے اپنے مقررہ نصاب اور قانونی دائرۂ کار کے تحت طبی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ تاہم یہ بات بھی واضح رہنی چاہئے کہ ہر نظامِ طب کی اپنی تعلیم، تربیت اور قانونی حدود ہوتی ہیں۔ اسلئے کسی بھی ڈاکٹر کو دوسرے نظامِ طب میں علاج کی اجازت صرف واضح قانونی ضابطوں، اضافی تربیت، اہلیت کے امتحان، رجسٹریشن اور مؤثر حکومتی نگرانی کے بعد ہی دی جانی چاہیے۔ 
ہمارے یہاں دیہی، پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں آج بھی طبی سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے حالات میں اگر حکومت تربیت یافتہ اور رجسٹرڈ طبی ماہرین کی صلاحیتوں کو مناسب ضابطے کے تحت عوامی صحت کے نظام سے جوڑتی ہے تو بنیادی طبی خدمات کی رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ میری رائے میں اس بحث کا مقصد ایلوپیتھک ڈاکٹروں اور ہومیوپیتھک ڈاکٹروں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ مریض سب سے اہم ہے، اور ہر طبی نظام کے ماہر کی اولین ذمہ داری مریض کی جان، صحت اور سلامتی کا تحفظ ہے۔ البتہ اس کیلئے واضح حدود مقرر ہونا ضروری ہیں۔ کون سی ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں، کن بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے اور کن حالات میں مریض کو ماہر ڈاکٹر یا اسپتال ریفر کرنا ہوگا۔ 
ایک بی یو ایم ایس ڈاکٹر کی حیثیت سے میری رائے ہے کہ طبی شعبے میں اختلافِ رائے کو تصادم میں تبدیل کرنے کے بجائے مریضوں کے مفاد میں باہمی احترام، تعاون اور واضح قانونی حدود کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔ حکومت اگر شواہد پر مبنی پالیسی، معیاری تربیت، مناسب رجسٹریشن اور مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرے تو مختلف نظامِ طب سے وابستہ طبی ماہرین عوام کو محفوظ اور بروقت بنیادی طبی خدمات فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 
ڈاکٹر یاسمین بانو محمد شارف (بی یو ایم ایس، بھیونڈی)
حکومت کا فیصلہ مشروط ہے
حکومت مہاراشٹر نے ہومیو پیتھی کے ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی میڈیسن کی پریکٹس کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ایک شرط کے ساتھ۔ یعنی وہ ڈاکٹرس جو جدید فارماکولوجی (سی سی ایم پی) میں ریاست سے منظور شدہ سرٹیفکیٹ کورس مکمل کرتے ہیں۔ اس اجازت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر بی ایچ ایم ایس ڈاکٹر کسی ایم بی بی ایس / ایم ڈی ڈاکٹرس کی طرح پریکٹس کے قابل ہوجائے گا۔ بالکل ایسے ہی جیسے پرائمری اسکولوں میں پڑھانے کی اہلیت رکھنے والے شخص کو زباندانی آتی ہو لیکن اس کے باوجود بھی وہ اعلیٰ جماعتوں میں پڑھانے کا اہل نہیں ہو سکتا۔ اس مسئلے نے مہاراشٹر حکومت، ہومیوپیتھک تنظیموں اور ایلوپیتھک ڈاکٹروں کی تنظیموں کے درمیان ایک تصادم کو جنم دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اجازت بالخصوص دیہی علاقوں میں لوگوں کے علاج کو وہ بھی ہومیو پیتھ ڈاکٹر کے فارما کولوجی مکمل کرنے کے مجوزہ سرٹیفکیٹ کی حد تک، لیکن حقیقتاً ایسا ہوگا اس بات کی ضمانت کون دے گا ؟
اس تعلق سے ایم بی بی ایس اور ریسیڈینٹ ڈاکٹرس اسو سی ایشن کا اعتراض یہ ہے کہ ایک مختصر سرٹیفکیٹ کورس ایم بی بی ایس کے مترادف نہیں ہوسکتا، جو بالکل جائز اور واجبی ہے۔ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ساڑھے پانچ سال اور مزید انٹرن شپ کے دوران اناٹومی، فزیالوجی، بائیو کیمسٹری، پیتھالوجی، مائکرو بایولوجی، فارماکولوجی، فرانزک دوائی، کمیونٹی میڈیسن، سرجری، ایمرجنسی/ کلینیکل ٹریننگ وغیرہ کی تعلیم حاصل کرتا ہے جو ایک چھ ماہ کا سرٹیفکیٹ کورس بالکل فراہم نہیں کرسکتا۔ محدود مدت کا فارماکولوجی کورس ان کو جدید طب (ماڈرن میڈیسن) میں جامع تربیت یافتہ نہیں بنا سکتا۔ اسی طرح یہ اعتراض بھی بجا ہے کہ ایسی صورت میں کراس پیتھی یعنی ایک طبی نظام میں تربیت یافتہ پریکٹیشنر کو دوسرے نظام پر عمل کرنے کا اختیار دیا جا رہا ہے، جو غلط ہے۔ غور کیجیے ایک مریض سینے میں شدید درد کے ساتھ آتا ہے۔ ایم بی بی ایس تربیت یافتہ ڈاکٹر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایکیوٹ کورونری سنڈروم کو پہچان سکے گا، مناسب ایمرجنسی مینجمنٹ شروع کرے گا اور ریفرل/مداخلت کا بندوبست کرے گا لیکن کیا ہومیوپیتھ ڈاکٹر اس کی درست تشخیص کرپانے کا بھی متحمل ہوگا؟
لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ اسےمحض یہ کہہ کر پیش کرنا کہ’ایم بی بی ایس ڈاکٹر درست ہیں اور ہومیوپیتھ غلط ہیں ‘ غیر منصفانہ ہوگا۔ ہومیوپیتھک تنظیموں کا اپنا موقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’’حکومت نے قانون سازی کے ذریعے یہ راستہ بنایا ہے۔ ‘‘ ہر طرح سے غور کرنے پر دونوں فریق کی باتوں میں دَم نظر آتا ہے۔ دونوں اپنی جگہ درست نظر آتے ہیں، اسلئے کسی کو صحیح اور کسی کو غلط کہہ دینا شاید مناسب نہیں ہوگا۔ اس معاملے میں حکومت کو مزید ماہرین کی آراء حاصل کرکے متفقہ فیصلہ کرنا چاہیے۔ 
(مومن فہیم احمد عبدالباری(لیکچرر صمدیہ جونیئر کالج، بھیونڈی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK