Updated: August 10, 2026, 12:53 PM IST
| Mumbai
مدنپورہ کے ۷۶؍سالہ عبدالحئی محمد امین انصاری کومطالعہ کےساتھ ہی فوٹوکلیکشن کابہت شوق ہے، ان کےپاس قدیم ممبئی کے اہم تاریخی مقامات گیٹ آف انڈیا، فورٹ ،چرچ گیٹ، ناگپاڑہ ، قلابہ اور کے ای ایم اسپتال وغیرہ کی نایاب بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کاخزانہ ہے۔
عبدالحئی محمد امین انصاری۔ تصویر: آئی این این
مدنپورہ، سانکلی اسٹریٹ کے ۷۶؍ سالہ عبدالحئی محمد امین انصاری کی پیدائش یکم جنوری ۱۹۵۱ء کو ہوئی تھی۔ اس دور میں ان کا اہل خانہ مستری چال، گھیلابائی اسٹریٹ میں آباد تھا۔ صفرابادی میونسپل اُردو اسکول، محمد عمر رجب روڈ سے ساتویں جماعت تک پڑھائی کی۔ معاشی حالت ٹھیک نہیں تھی، اسلئے آگے کی پڑھائی نہیں کرسکے۔ چھوٹی عمر سے کام کرنا شروع کیا تاکہ والدین کاہاتھ بٹایا جاسکے۔ پہلے کانڈی مشین چلایا، پھر لُوم کے کارخانے میں ملازمت کی، اس کے بعد مولڈنگ مشین پر پلاسٹک کے سامان بنانے کا کام سیکھ کر ۱۹۷۰ء میں اپنا کاروبار شروع کیا جو ۱۹۸۵ء تک جاری رہا۔ اس کے بعد پلاسٹک کی تھیلیوں کا بزنس کیا۔ ۲۰۰۵ء تک عملی اعتبار سے فعال رہے، اس کے بعد اب سبکدوشی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ مطالعہ کے ساتھ فوٹوکلیکشن کا شوق ہے۔ ان کےپاس قدیم ممبئی کے اہم تاریخی مقامات مثلاً گیٹ آف انڈیا، فورٹ، چرچ گیٹ، ناگپاڑہ، قلابہ، نریمن پوائنٹ، ہوتاتما چوک، کے ای ایم اسپتال، سائن قلعہ اور چیرابازار وغیرہ کی نایاب بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کاقیمتی خزانہ ہے۔
عبدالحئی انصاری کو طالب علمی کے زمانے کے اساتذہ کے نام اور ان کی خوبیاں اب بھی یاد ہیں۔ عائشہ، رابعہ، شمع اور صفیہ آپاکے علاوہ اسماعیل، منیر، تقی اور محمود جناب، ان سب اُستاذ کا وہ بڑا احترام کرتے تھے۔ ان سبھی کی خصوصیات سے بہت متاثر تھے۔ اسماعیل جناب بچوں کو بہت پیار اور محبت سے پڑھاتے تھے۔ عائشہ آپابچوں کو پڑھانے کے وقت اگر سخت تھیں تو کلاس کے بعد بچوں سے ان کا حسنِ سلوک منفرد تھا۔ محمود جناب بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ان کیلئے وقتاً فوقتاً کھانے پینے کا انتظام بھی کرتے تھے۔ کلاس کے ایک دو بڑے لڑکوں کے ہاتھ میں ۱۵۔ ۱۰؍ پیسے دےکر بازار سے تربوز منگواتے، اس کی کاش بنا کر سبھی بچوں میں تقسیم کرتے تھے۔ بچوں کو اس طرح کھلا پلا کر وہ خوش ہوتے تھے۔
۱۹۶۲ء میں چین سے ہونے والی جنگ کے دوران معاشی بحران کی وجہ سے اسکولی بچوں سے چندہ کرایا گیا تھا۔ صفرابادی اسکول کے طلبہ بھی مدنپورہ اور اطراف کے علاقوں میں چندہ کیلئے اسکول سے دیا گیابڑا گلک لے کر گشت کرتے تھے۔ اس پر ایک ہینڈبل چسپاں ہوتا تھا، جس پر ایک خاتون اور ایک مرد سپاہی کی تصویر ہوتی تھی۔ عبدالحئی انصاری بھی اپنے گروپ کے ساتھ چندہ کرنے جاتے تھے۔ لوگ بطور چندہ ایک دوپائی گلک میں ڈال دیتےتھے۔ چندہ کیلئے۴۔ ۳؍گھنٹے تک گلی محلےکا دورہ کرنےکےبعدبھی ایک روپیہ جمع نہیں ہوپاتاتھا۔ جو بھی چندہ جمع ہوتا، بچے اسکول میں لاکر متعلقہ ذمہ دار شخص کےحوالے کردیتے تھے۔
۶۰ء کی دہائی میں شہر ی انتظامیہ کی جانب سے رات ۱۰؍بجے کے بعد ایک بڑی مضبوط اور خوبصورت بڑی گاڑی راستوں پرخالی پڑی کھٹیا ( چارپائی ) اُٹھانے آتی تھی۔ جس کھٹیا پر لوگ بیٹھے یا سوئے ہوئے پائے جاتے، ان کو شہری انتظامیہ کے اہلکار ہاتھ نہیں لگاتے تھےلیکن جو کھٹیا خالی پڑی ہوتی تھی، اسے گاڑی میں رکھ کر لے جاتے تھے۔ اس گاڑی کو کھٹیا چور گاڑی کہا جاتا تھا۔ اسے دیکھ کر لو گ چلا کر کہتے تھے ’’ کھٹیاچور گاڑی آئی، کھٹیا چور گاڑی آئی‘‘۔ ایسے میں جو لوگ اپنی کھٹیا چھوڑ کر چائے پینے یا کھانا کھانے چلے جاتے تھے، آواز سنتے ہی اپنی اپنی چارپائی کی جانب بھاگتے تھے۔ اس چارپائی کو چھڑا کر لانے کیلئے ایک روپے کا جرمانہ ادا کرنا ہوتا تھا۔ وہ گاڑی آتی تو پورے علاقے میں بھگدڑ سی مچ جاتی تھی۔
عبدالحئی انصاری کو فلم دیکھنے کا شوق تقریباً ۱۵؍ سال کی عمر میں پیدا ہوا۔ یہ ۱۹۶۵ء کادور تھا۔ اس وقت تاردیوکے ڈائنا اور فارس روڈ کے دولت سنیما گھر میں ۴۰؍پیسے کا ٹکٹ ملتا تھا۔ اُس وقت ۴۰؍پیسے جمع کرنا بھی دشوار مرحلہ ہوتا تھا۔ ایسے میں انہیں والدین چیز کھانے کیلئے روزانہ جو ۵؍پیسہ دیا کرتے، وہ ان پیسوں کوبچانے کے علاوہ اپنے چاچا سے مختلف عذر بیان کر کے کچھ پیسے اکٹھا کر لیتے تھے۔ اس طرح ۵۰؍پیسہ جمع ہوجانے پر دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے جاتے تھے۔ ان کے دوست بھی فلم دیکھنے کیلئے اسی طرح پیسے جمع کرتے تھے۔ اگر کسی دوست کے پاس ۵؍، ۱۰؍ پیسہ کم ہوتا تو ایک دوسرے کی مدد کر کے ایک ساتھ فلم دیکھنے جاتے۔ ۴۰؍ پیسے میں ٹکٹ خریدتے اور ۱۰؍پیسے وڑا پائو اور شربت کیلئے رکھتے تھے۔ اس دور میں ۲؍پیسے میں لیمو کا شربت ملتا تھا۔ یہ شربت والا اپنی پیٹھ پر تانبے یا پیتل کا ایک وزنی باٹلا رکھ کر چلتا تھا، جس میں ایک دائرہ نما پائپ ہوتا تھا۔ وہ بائیں طرف جھک جاتا، اس کے جھکنے سے مذکورہ پائپ سے شربت نکلتا تھا۔ شربت والا بہت مشاق ہوتا تھا، گلاس میں شربت اگر زیادہ نکل جاتا تواسی پائپ سے وہ اضافی شربت اس باٹلے میں واپس لے لیتاتھا۔
۱۹۸۴ء میں ممبئی میں ہونے والے فساد کو عبدالحئی انصاری نے قریب سے دیکھا ہے۔ اس فساد میں چیتاکیمپ کے مسلمان بہت متاثر ہوئےتھے۔ ان کی مدد کیلئےجنوبی ممبئی کے مختلف مسلم کثیر آبادی والے علاقوں سے ریلیف بھیجی گئی تھی۔
مسجد اقصیٰ کی بازیابی کیلئے ۱۹۶۷ء میں ممبئی میں ایک عظیم الشان جلوس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ مسلمانوں نےاپنے گھروں پر سیاہ پرچم لہرائے تھے۔ جلوس کے شرکاء سے کالے کپڑے پہننے کی اپیل کی گئی تھی۔ جن کے پاس کالے کپڑنے نہیں تھے ان کیلئے گلی محلے میں کپڑوں کو کالے رنگ سے رنگنے کیلئےدیگ چڑھائی گئی تھی۔ ان میں کپڑے رنگے گئے تھے۔ جلوس میں تقریباً ۳؍لاکھ کا مجمع تھا۔ جلوس منترالیہ جانے والا تھا لیکن پولیس نے آزاد میدان کے پاس ہی ر وک دیا تھا۔
عبدالحئی انصاری کو گھوڑا گاڑی میں سفر کرنے کا بہت شوق تھا۔ یوم آزادی اور یوم جمہوریہ پر سرکاری عمارتوں کو رنگ برنگے بلبوں اور قمقموں سےخوب سجایاجاتاتھا۔ ان سجاوٹوں کو دیکھنےکیلئے ان کے دادا مدنپورہ سے ممبئی سینٹرل گھوڑا گاڑی پر گھر کے سبھی بچوں کو لے جاتے تھے۔ اس وقت گھوڑا گاڑی کا کرایہ صرف ۵۰؍ پیسے تھا۔ اسی طرح مدنپورہ سے جے جے اسپتال کا کرایہ ایک روپیہ تھا۔ ایک مرتبہ عبدالحئی کی چاچی جےجے اسپتال میں زیر علاج تھیں۔ ان کی عیادت کیلئے عبدالحئی گھر والوں کے ہمراہ مدنپورہ سے جے جے اسپتال گھوڑا گاڑی سے گئے تھے۔ ان کی دلچسپی چاچی کی عیادت سے زیادہ جے جے اسپتال کی لفٹ میں اُوپر سے نیچے اور نیچے سے اُوپر آنے جانے میں تھی۔ اس دور میں لفٹ کی سہولت چنندہ عمارتوں میں دستیاب تھی۔ لوگ بہت شوق سے لفٹ میں سواری کرتے تھے۔
عبدالحئی انصاری نے مدنپورہ، محمد عمر رجب روڈ پر واقع موم بتی چال کے منہدم ہونے کا دردناک حادثہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اس ہولناک حادثہ میں پوری عمارت تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی تھی۔ حادثہ اتنا بڑا تھا کہ ۲؍گھنٹے میں یہ عالمی خبر بن گئی تھی۔ اس میں ۵۹؍ افراد جاں بحق اورسیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ فائر بریگیڈ عملہ ملبے میں دبے اور پھنسے ہوئے لوگوں کو نکا ل رہا تھا۔ پورے علاقے میں آہ وبکا کا منظر تھا۔ پوری رات راحتی کام جاری رہا۔ پولیس، فائربریگیڈ اور بی ایم سی عملے کے ساتھ ہی مقامی نوجوان بھی مصروف تھے۔