بیگ محمد ہائی اسکول کے اس سابق طالب علم نے اپنے والد کا ہوٹل بھی سنبھالا، دلیپ کمار اور کمال امروہوی جیسے مشاہیر کی ضیافت بھی کی اور چندکتابوں کے علاوہ انقلاب سمیت کئی اخبارات و رسائل کیلئے کہانیاں بھی لکھیں، اس عمر میں بھی پوری طرح فعال ہیں۔
EPAPER
Updated: November 01, 2026, 4:31 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
بیگ محمد ہائی اسکول کے اس سابق طالب علم نے اپنے والد کا ہوٹل بھی سنبھالا، دلیپ کمار اور کمال امروہوی جیسے مشاہیر کی ضیافت بھی کی اور چندکتابوں کے علاوہ انقلاب سمیت کئی اخبارات و رسائل کیلئے کہانیاں بھی لکھیں، اس عمر میں بھی پوری طرح فعال ہیں۔
نورباغ کے ۷۷؍سالہ خلیق امروہوی کی پیدائش ۱۱؍دسمبر ۱۹۴۹ء کو امروہہ کے کالا کنواں محلہ میں ہوئی تھی۔ ان کے والدحاجی محمد رفیق کے شہر میں برسرکار ہونے سےخلیق امروہوی بچپن میں ممبئی آگئے تھے ۔ اسماعیل بیگ محمد اُردو ہائی اسکول (محمدعلی روڈ) سے میٹرک پاس کیا۔ طالب علمی کے دو ر میں والد کاانتقال ہوجانے سے وہ آگے کی پڑھائی نہیں کرسکے ۔ والد کے رفیق ہوٹل کو سنبھالنے میں ان کے ماموںوسیم احمد خان نے ہر موڑ پر ساتھ دیا ۔ انہوں نے ۱۹۶۷ء سے ۱۹۹۸ء تک ہوٹل کی باگ ڈور سنبھالی۔ ہوٹل کےبندہونےکےبعدگزشتہ ۲۸؍سال سے بال بچوں کی پرورش، ان کی تعلیم و تربیت اور گھریلو کام کاج میں مصروف ہیں۔
شعر وادب سے گہراربط ہے۔کہانیاں اور افسانے لکھنے کا شوق ہے۔ معروف ماہنامہ روبی اور شمع میں کئی افسانے شائع ہوچکے ہیں۔ ہاتھوںمیں رعشہ کی شکایت ہونے سے تحریری سلسلہ تھم گیا ہے ۔عالمی شہرت یافتہ گلوکار محمد رفیع کے زبردست مداح ہیں ۔ ان کے نغموں کو سننے کا جنون ہے ۔زندگی کے نازک لمحوں میں رفیع صاحب کی آواز نے ہی انہیں سہارا دیا ۔ آج بھی بڑی پابندی سے رفیع صاحب کے نغمے سنتے ہیں ۔ رفیع صاحب کے انتقال کے بعد سنیماگھر میں فلم دیکھنا چھوڑ دیا کیونکہ وہ اپنے چہیتے گلوکار کےگائےگیتوں کیلئے ہی فلم دیکھتے تھے ؟ دلی وابستگی کے سبب ’شہنشاہ ترنم محمدرفیع‘کےنام سے رفیع صاحب کی سوانح حیات بھی لکھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اسکول میں اخلاقیات کا پیریڈ ہوتا تھا جس میں بڑوں کے ادب کا درس دیا جاتا تھا‘‘
خلیق امروہوی بیگ محمد اسکول کے ۱۹۶۷ء کے بیچ کی ایک خاص مہم سے بہت متاثر ہیں ۔ اس بیچ کے پروفیسر سید اقبال(سابق پروفیسر برہانی کالج اور کالم نگار،انقلاب)، معروف شاعر عبدالاحد ساز، عبدالستار ( سلیمان عثمان مٹھائی والے) اور سید مسعود علی تالے والےان کے قریبی ساتھی رہے ۔ ۱۹۶۷ء میں شروع ہونے والا مذکورہ بیچ ۴۵؍ سے ۴۷؍ طالب علموں پر مشتمل تھا، میٹرک تک یہ تعداد ۳۵؍ سے ۳۷؍ تک محدود ہوگئی تھی۔ پڑھائی کی تکمیل کے تقریباً ۱۰؍ سال بعد ہم جماعت ساتھیوں نےسال میں ایک مرتبہ کسی ایک ساتھی کی رہائش گاہ پرملنےکی مہم کاآغازکیاتھا، جو گزشتہ۵۰؍ سال سے پابندی سے جاری ہے ۔ ہرممبررضاکارانہ طور پر اس محفل کا اہتمام کرتا ہے ۔یہاں ایک دوسرے کی خیر خیریت دریافت کی جاتی ہے۔ عملی زندگی شیئر کی جاتی ہے ،کوئی اپنی صحت اور بیماری سے متعلق گفتگو کرتا ہے ۔ کچھ ساتھی اپنے بال بچوںکے بارےمیں معلومات فراہم کرتے ہیں،ا س کے علاوہ بھی کئی موضوعات پر گپ شپ رہتی ہے۔ظہرانے میں بلائی جانے والی محفل ۴؍ سے ۵؍ گھنٹے جاری رہتی ہے ۔یہاں ایک دوسرے سے ملنےوالی خوشیوںکے احساس اور آئندہ سال ہونےوالی محفل میں ملاقات کی دعاکے ساتھ سب رخصت ہوتےہیں ۔ وقت کے ساتھ ،متعدد وجوہات کی بنا پر بیچ کے ممبران کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے ، اس کے باوجود ہر سال یہ محفل سجائی جاتی ہے ۔یہ مہم پروفیسر سید اقبال کے ذہن کی اُپج ہے ۔ وہی اس بزم کی روح رواںہیں ۔ جس ساتھی کو محفل سجانی ہوتی ہے ،وہ سب سے پہلے پروفیسر سید اقبال کو اطلاع دیتا ہے ، وہ ساری تیاریاں کرتےہیں۔
خلیق امروہوی بتاتےہیںکہ اُن کے دور (۶۰ءکی دہائی ) میں بیگ محمد اسکول کا اعلیٰ معیار تھا۔ گرمی کی چھٹیوں کے بعداسکول کھلنے پر داخلہ فارم کیلئے طویل قطار لگتی تھی۔ اسکول عمارت کی دوسری منزل سے پائیدھونی پولیس اسٹیشن تک والدین اورسرپرست علی الصباح فارم کیلئے طویل قطار میں دکھائی دیتے تھے۔بیگ محمد اسکول میں اپنے بچوں کو پڑھانے پر سرپرست حضرات کو فخر ہوتاتھا،لیکن ،آج اسکول کی حالت زار دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے ۔دل میں ایک درد اُٹھتاہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہےکہ جیسے کوئی عزیز بچھڑ گیا ہے ۔ یہیں سے انسانیت اور زندگی جینے کا سلیقہ سیکھا ،اس لئے اسکول کے موجودہ حالات کو دیکھ کر رنج ہوتا ہے ۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کنویں سے پانی پینے پر ایک برہمن طالب علم نے مجھے زوردار طمانچہ مارا تھا‘‘
رفیق ہوٹل سےبھی خلیق امروہوی کی متعدد یادیں وابستہ ہیں۔ اسی ہوٹل کے ذریعے انہوں نے معروف فلم اداکار دلیپ کمار سے مراسم بنائے تھے ۔منا نامی ایک کاروباری ،جو ان کا گاہک تھا، اس کے تعلقات دلیپ کمار کی ہمشیر ہ بی آپا سے تھے۔ ایک روز وہ،خلیق امروہوی کو دلیپ کمارکے بنگلے پر لے گیا ۔رسمی گفتگو کےبعد خلیق امروہوی نے دلیپ کمار کو مدعو کرناچاہا،جس پر انہوںنے کہا، کیا خوب بات کہی آپ نے ، ضیافت کیلئے کہاں اورکب آنا ہے ؟ جواب میںخلیق امروہوی نے کہا آپ کونہیں آناہے ، کھانا آپ کی رہائش گاہ پر آجائے گا،یہ سن کر دلیپ کمار نے کہا،اس سے اچھی تو کوئی بات نہیں ہے ۔ ان کا اگلا سوال تھا، کھانے میں گھی کون سال استعمال کریں گے؟ خلیق امروہوی نے کہا جب دلیپ کمارکو کھانا جائے گا تو دیسی گھی ہی استعمال ہوگا ۔جس پردلیپ کمار نے اطمینان کا اظہار کیا ساتھ ہی مرچ استعمال نہ کرنے کیلئےکہا،یہ سن کررفیق ہوٹل کےمالک نے کہا مرچ بغیر کیا ذائقہ آئے گا، تھوڑی مرچ استعمال کی جائے گی، جس پر دلیپ کمار نے کہا تھوڑا زہراپناکام کرنے سے نہیں چکتا۔ دوسرے دن رفیق ہوٹل کا مشہور کشمیری پکوان روغن جوش اور بریانی دلیپ کمار کی خدمت میں پیش کی گئی،جس کی دلیپ کمار کے اہل خانہ نے خوب تعریف کی ۔وہا ں سے واپسی کے وقت ٹیکسی نہ ملنے کی وجہ سے دلیپ کمار نے اپنی مرسڈیزکار سےخلیق امروہوی کو بھنڈی بازاربھیجاتھا۔ اس روز خلیق امروہوی پہلی مرتبہ مرسڈیز میں بیٹھے تھے ۔
معروف فلم ساز کمال امروہوی بھی رفیق ہوٹل کے گاہکوں میں شامل تھے ۔ ایک مرتبہ خلیق امروہوی سےان کے والد کی معاملہ فہمی اور دریادلی کےبارےمیں بتاتےہوئے،ان سےکہاتھاکہ’’ ایک دن میں اور معروف ڈراما نویس آغا حشر کاشمیری تمہارے ہوٹل آئے تھے۔میں سمجھ رہا تھاکہ آغاحشر کےپاس پیسے ہوںگے جبکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ میرے پاس پیسے ہوںگے لیکن دونوں کی جیب خالی تھی۔ آغاحشر کھانا کھانےکےبعد ہاتھ دھوکر ہوٹل کے باہر کھڑے ہوگئے ،جب میں ہاتھ دھوکر کائونٹر کے پاس پہنچا، توتمہارے والد حاجی صاحب نے میرا چہرہ بھانپ کر کہا، کیا بات ہے؟ کیسے ہو، وہ میری باڈی لینگویج سے سب کچھ سمجھ چکے تھے ، انہوں نے کہا، کوئی بات نہیں،جائو کھڑے کیوں ہو ، ایسے تھے تمہارے والد۔‘‘
پنڈت جواہر لال نہرو خلیق امروہوی کے محبوب سیاسی لیڈر تھے۔ پنڈت جی کی پُر کشش شخصیت کے علاوہ انہیں ان کی تقریر بہت پسند تھی۔ پنڈت جی کی تقریر یں ریڈیو پر آتی تھیں۔ پنڈت کی عوامی تقریر عموماً ۷؍منٹ کی ہوتی تھی ۔خلیق امروہوی ان کی تقریروں کوریڈیو سے سن کر کاغذ پر لکھتے تھے ۔انہوںنےپنڈت جی کی زندگی پر ’پیامبر امن ‘ نامی کتاب بھی لکھی ہے ۔
خلیق امروہوی کو شعر وادب سے بھی شغف رہا۔وہ ابن ِ صفی اور کرشن چند رکے مداح ہیں ۔کرشن چندر سے ان کے مراسم تھے ۔ایک مرتبہ انہوں نے کرشن چندرکو بھی دعوت دی تھی۔ اس روز کرشن چندرنے مجروح سلطانپوری اور علی سردار جعفری کوبھی اپنی رہائش گاہ سانتاکروزپر مدعو کیا تھا۔ اس موقع پر کرشن چند ر نے مجروح سلطانپوری اور علی سردار جعفری سے خلیق امروہوی کاتعارف کرایا تھا۔ وہاں پر جاوید اختر بھی موجود تھے،چونکہ جاوید اختر رفیق ہوٹل کے توسط سے خلیق امروہوی کو پہلے سے جانتے تھے ، انہیں کرشن چندکے گھر پر دیکھ کر جاوید اختر نے کہا تھا،بہت کھایا ہےتمہارے ہوٹل کھانا ، جس پر خلیق امروہوی نے برجستہ جواب دیتےہوئےکہاتھا،اسی بات کا توافسوس ہےکہ جب آپ کچھ بن گئے تو ہوٹل پر آنا چھو ڑ دیا۔یہ جملہ سن کر جاوید اختر خاموش ہوگئےتھے۔