مدنپورہ کے ۸۱؍سالہ محمد بشیر محمد اسماعیل بیگ گزشتہ ۵۶؍سال سے ینگ سوشل سرکل نامی تنظیم سے وابستہ ہیں، خوش گلوہونے سے اسکول کے زمانے سے گانےکا شوق رہا، آج بھی موسیقی کے پروگراموں میں رفیع صاحب کے نغمے گاکر داد وصول کرتےہیں۔
EPAPER
Updated: May 03, 2026, 9:49 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
مدنپورہ کے ۸۱؍سالہ محمد بشیر محمد اسماعیل بیگ گزشتہ ۵۶؍سال سے ینگ سوشل سرکل نامی تنظیم سے وابستہ ہیں، خوش گلوہونے سے اسکول کے زمانے سے گانےکا شوق رہا، آج بھی موسیقی کے پروگراموں میں رفیع صاحب کے نغمے گاکر داد وصول کرتےہیں۔
مدنپورہ کے ۸۱؍سالہ محمدبشیر محمداسماعیل بیگ کی پیدائش ۵؍مارچ ۱۹۴۵ءکو بدلورنگاری اسٹریٹ کے بندوق والا چال میں ہوئی۔ پتھروالی اسکول سے میٹرک پاس کیا۔ گھر کے معاشی حالات کی وجہ سے آگے کی پڑھائی نہیں کر سکے۔ والد لوم کے آبائی پیشہ سے وابستہ تھے، اسلئے انہوں نے بھی پاورلوم میں مزدوری کے کام سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ کچھ دنوں بعد اس کام سے اُکتاہٹ ہونے پر بھنڈی بازار میں واقع ہمدرد دواخانہ میں ملازمت اختیار کی۔ یہاں بھی زیادہ دنوں تک دل نہیں لگا۔ دوبارہ لوم کے کام کی جانب متوجہ ہوئے۔ والد کے اثر و رسوخ سےہندوستان مل میں ملازمت ملی۔ تقریباً ۱۲؍سال تک ملازمت کرنے کے بعد اچانک مل مزدورں کی ہڑتال کے سبب ۴۔ ۳؍ سال بے روزگاری کا شکار رہے۔ اس دور میں ان کے والد انجمن خیرالاسلام اسکول ( گھیلابائی اسٹریٹ) میں ملازمت کرتے تھے۔ ان کے سبکدوش ہونے پر اسکول انتظامیہ نے ان کی جگہ بشیربیگ کو ملازمت پر رکھ لیا۔ ۱۹۸۶ء سے ۲۰۰۵ء تک یہاں ملازمت کی۔ یہاں سے سبکدوش ہونے کے بعد باقاعدہ کہیں ملازمت نہیں کی۔ یہاں سے ملنے والی پنشن سے گزر بسر ہو رہا ہے۔ نوجوانی سے سماجی، تعلیمی اور طبی خدمات میں حصہ لینے کا شوق رہا۔ مقامی ینگ سوشل سرکل نامی سماجی ادارہ کے بانیوں میں شامل رہے۔ گزشتہ ۵۶؍سال سے رضاکارانہ طورپر ادارے کیلئے خدمات پیش کر رہے ہیں ۔ عمر کے اس مرحلے پر بھی پابندی سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ۔ خوش گلو ہونے سے اسکول کے زمانے سے موسیقی کا شوق رہا، جواب بھی برقرار ہے۔ اپنی سریلی اور دلکش آواز سے سامعین کا دل جیتنے کا فن خوب جانتےہیں۔
بشیر بیگ کی مسحورکن آواز سے ان کے اساتذہ، خالد، عباس اور ابراہیم جناب بہت متاثر تھے۔ اسی وجہ سے اسکول میں دعا پڑھانے کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی تھی۔ روزانہ تلاوت ِ قرآن کے بعد’ لب پہ آتی ہے دعابن کےتمنامیری‘ اور’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ سناتے تھے۔ ایک مرتبہ کسی قومی جشن کے موقع پر اسکول میں منعقدہ تقریب میں روزنامہ انقلاب کے بانی عبدالحمید انصاری اور روزنامہ ہندستان کے سرپرست غلام احمد آرزو نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی تھی۔ اس موقع پر بھی بشیر بیگ نے مذکورہ دعااور نظم اپنی دلکش آوا ز میں پیش کی تھی۔ جس پر ان صاحبان نے ان کی بڑی حوصلہ افزائی کی تھی اور انہیں اپنے پروگرام میں مدعو کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ان حضرات نے انہیں کئی پروگراموں میں بلایا اور ان کی دعاسے ہی تقریب کا افتتاح کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’رات کے سفر میں بیل گاڑی پر لالٹین نصب کی جاتی تھی تاکہ سفر میں دشواری نہ ہو‘‘
بشیر بیگ کو طالب علمی کے زمانے سے فلم دیکھنے کا شوق رہاہے۔ وہ دلیپ کمار کے مداح ہیں۔ دلیپ کمار کی تقریباً ساری فلمیں دیکھی ہیں ۔ فلموں کے جنون نے گانے کاشوق پیدا کیا۔ موسیقی کی رغبت نے انہیں عالمی شہرت یافتہ گلوکار محمد رفیع کامداح بنادیا۔ انہیں رفیع صاحب کے گائے ہوئے نغمے بے حد پسند ہیں ۔ وہ اپنے ایک عزیز کے معرفت فیمس اسٹوڈیو (مہالکشمی ) میں رفیع صاحب سے ہونے والی ملاقاتوں کو نہیں بھولے ہیں ۔ رفیع صاحب بہت نیک، پُرخلوص، غریب پرور اور دین دار انسان تھے۔ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی، وہ اپنے معاون سےبشیر بیگ کی معاشی کیفیت جاننے کی کوشش کرتے، حالانکہ معاون نے انہیں بتایا تھا کہ انہیں مالی امداد کی ضرورت نہیں ہے، اس کے باوجود بند لفافے میں کبھی ۲۵؍ توکبھی ۵۱؍ روپے سے بشیر بیگ کی مدد کرتے تھے۔
بشیر بیگ جس دور میں ہندوستان مل میں کام کرتے تھے، ڈیوٹی پر جانے سے پہلے بندوق والا چال کے نیچے واقع قریشی ہوٹل میں جاکر انقلاب اخبار ضرور پڑھتے تھے۔ ہوٹل میں اخبار پڑھنے کیلئے لوگ منتظر رہتے تھے۔ جن صاحب کے پاس اخبار کے ۲؍صفحات ہوتے، ان سے ایک صفحہ مانگنے پر بحث و تکرار ہوتی۔ اس دور میں رتن دیپ نامی کہانیوں کا کالم سلسلہ وارشائع ہوتا تھا، جو کافی مقبول تھا۔
وزیر اعظم اندرا گاندھی ایک مرتبہ ممبئی آئی تھیں ۔ ان کا استقبال کرنے کیلئے بشیر بیگ انجمن خیرالاسلام اسکول کے طلبہ کو لےکر ورلی گئے تھے۔ طلبہ ہاتھوں میں گل لے کر اندراگاندھی کا استقبال کر رہے تھے، ایسے میں اندراگاندھی نے اپنی گاڑی سے اُتر کر طلبہ کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ اس موقع پر اندراگاندھی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دلیپ کمار مسجد سے نکلے اور گداگروں میں دس دس کے نوٹ تقسیم کرتے آگے بڑھ گئے‘‘
بشیر بیگ کوایک دفعہ تقریباً ۵۰؍ طلبہ کے ساتھ پکنک پر جانے کا موقع ملا تھا۔ میسور سے اُوٹی اور بنگلور جانے کے دوران ایک ایسے راستے سے گزرنا تھا، جہاں خطرناک جانوروں سے واسطہ پڑنے کا امکان تھا۔ اس بارے میں ٹور آرگنائزر نے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ اس راستے سے ہماری بس گزر رہی تھی، ڈرائیور نے دور سے چیتوں کے جُھنڈکو دیکھ کر بس روک کر ہم سے بس کی کھڑکیوں کو بندکرنےکیلئے کہا۔ یہ بھی کہاکہ جب تک چیتوں کا جُھنڈنہیں جاتا، ہم یہیں کھڑے رہیں گے۔ تقریباً ۲؍گھنٹے بعدچیتوں کے چلے جانے پر ہم نے آگے کا سفر طے کیا۔ یہ تو اچھا تھاکہ بس میں طلبہ کے کھانے پینے کا انتظام تھا ورنہ بڑی پریشانی ہوتی۔
بشیر بیگ کی بندوق والا چال میں ۶۴؍مکان تھے جن میں سے بیشتر گھر وں کے لوگ مل میں کام کرتے تھے۔ جو لوگ دوسری شفٹ میں کام کرتےتھے، وہ رات ۱۲؍بجے کے بعد لوٹتے تھے۔ ان کی خواتین، اس وقت تک کھانا نہیں کھاتی تھیں جب تک ان کے گھر کا فرد لوٹ نہیں آتاتھا۔ ایسے میں ان گھروں کی عورتیں چال کی راہداری میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی کیفیت بیان کرتی تھیں جس سے اندازہ ہو جاتا تھاکہ کس کے یہاں کے کیا حالات ہیں ۔ مالی پریشانی سے کسی کے یہاں اگر کھانا نہیں پکا ہوتا، تو ہمسایہ بڑی خوبصو رتی سے اپنے گھر کا کھانا چھپاکر اس یہاں یہ کہہ کر پہنچاتاتھاکہ آج ہمارے یہاں خاص پکوان بنا ہے، آپ اسے قبول فرمائیں۔ اس طرح لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔
بشیر بیگ نے ٹرام کے بندہونے اور بس سروس کے شروع ہونے کا عہداپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ بس خدمات کے ابتدائی دور میں جھولا میدان کے قریب ہونے والے حادثہ میں ایک بزرگ کی موت ہونے سے بڑا ہنگامہ ہوا تھا۔ مقامی لوگوں نے بطور احتجاج بس سروس بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرام، بس سروس سے زیادہ محفوظ تھی، چنانچہ ٹرام سروس بحال اور بس سروس بندکی جائے۔ انتظامیہ نے لوگوں کے غم و غصہ کا احترام کرتے ہوئے بڑی شائستگی سے معاملہ کو ختم کیا تھا۔
بشیر بیگ کی شادی ۱۹۷۴ء میں ہوئی تھی۔ اس دور میں لوگ شادی بیاہ میں بطور تحفہ لفافے میں معمولی رقم رکھتے تھے۔ ان کی شادی میں انہیں ملنے والے سبھی لفافوں میں ایک روپے سے زیادہ نہیں تھا۔ اگر کوئی لفافےمیں ۲؍ روپے رکھ د یتا، تو اس کا بڑا نام ہوتا تھا۔ ایسے حالات میں بھی لوگ ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ رکھتےتھے۔ محلےمیں غریب لڑکی کی شادی میں لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ اپنے پاس سے کھانے پینے کا انتظام کرتے تھے۔ اس زمانےمیں لوگوں کے پاس پیسے کم تھے لیکن پیار ومحبت بہت تھی، آج لوگوں کے پاس پیسہ زیادہ ہے لیکن اب محبت و اخوت کم ہوتی جارہی ہے۔