جنوبی فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہر سیاسیات پروفیسر محسن ایم میلانی کی مشہور کتاب ’ایرانس رائز اینڈ رائیولری وِتھ دی یو ایس اِن دی مڈل ایسٹ‘ کا جائزہ، یہ کتاب اس خطے کی قوت، نظریات، سفارت کاری اور عسکری حکمت عملی کے پیچیدہ جال کو باریک بینی سے کھولتی ہے۔
اس وقت خلیج میں جنگ بندی جاری ہے۔ اسرائیل اور امریکہ نے جن مقاصد کے تحت ایران پر یلغار کی، وہ اُن ہی پر اُلٹے پڑے۔ ایران نے بہت نقصان جھیلا لیکن جنگی اور تزویراتی حکمت عملی کے لحاظ سے اس کو بہت بڑی کامیابیاں ملیں۔ آج وہ عملاً آبنائے ہرمز پر قابض ہے اور جہازوں سے ٹول وصول کر رہا ہے۔ اس کی دفاعی قابلیت نے دنیا کو حیران کردیا لیکن اس کی سفارتی صلاحیتوں نے بھی سارے عالم کو انگشت بدنداں کر دیا ہے۔ خلیج اب ایک نئے سیکوریٹی ڈھانچے کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔
اس مبصر کی رائے یہ ہے کہ عالمی حالات کو اپنے مذہبی یا فرقہ وارانہ تعصب کے بجائے وسیع تر جیو پولیٹیکل تناظر اور معروضاتی انداز میں دیکھنے سے ایک بڑی تصویر نظر آتی ہے۔ روز بروز بدلتے حالات سے تو ہمارے قارئین آگاہ رہتے ہی ہیں۔ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ موجودہ حالات کون سے تاریخی واقعات اور جغرافیائی عوامل کی پیداوار ہیں۔ اس سلسلے میں جنوبی فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہرسیاسیات پروفیسر محسن ایم میلانی کی عالمی شہرت یافتہ کتاب ’ایرانس رائز اینڈ رائیولری وِتھ دی یو ایس اِن دی مڈل ایسٹ‘ہماری بڑی مدد کرتی ہے۔ کتاب اس خطے کی قوت، نظریات، سفارت کاری اور عسکری حکمت عملی کے پیچیدہ جال کو باریک بینی سے کھولتی ہے۔
شاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں ایران خطے میں امریکہ کا مضبوط حلیف تھا۔ واشنگٹن اسے سوویت اثر و رسوخ کے خلاف ایک سیاسی حصار سمجھتا تھا۔ ۱۹۵۱ء میں وزیراعظم محمد مصدق نے اینگلو ایرانی آئل کمپنی کو قومیا کر ایرانی تیل کو مکمل طور اپنے ملک کے مفاد میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ آج ایک مذہبی نظام کو مخالفت کا اہم نکتہ بنانے والے امریکہ نے ا س وقت مصدق جیسے لبرل جمہوری حاکم کا ایک خفیہ کارروائی کے ذریعہ تختہ پلٹا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: سرکاری اسکیموں سے فائدہ اُٹھانا ہماراحق ہے
۱۹۷۹ء کا اسلامی انقلاب ایران کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں شاہی نظام کا خاتمہ ایک فکری انقلاب تھا جس نے ایران کی شناخت، ریاستی ڈھانچے اور خارجہ پالیسی کو یکسر بدل دیا۔ انقلاب نے ایران کو ایک ایسی ریاست میں تبدیل کیا جو اپنی داخلی اور خارجی پالیسی میں خودمختار اور مزاحمتی طرزِ فکر رکھتی ہے۔
انقلاب کے بعد تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور سفارت کاروں کو یرغمال بنائے جانے کا واقعہ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں ایک دراڑ بن گیا۔ یہ واقعہ ایک علامتی اعلان تھا کہ ایران اب امریکی اثر سے مکمل طور پر باہر نکل چکا ہے۔ امریکہ کیلئے یہ اس کی عالمی ساکھ پر ایک کاری ضرب تھی۔
۸؍ سالہ ایران عراق جنگ نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا۔ لاکھوں جانیں گئیں، معیشت تباہ ہوئی، مگر اسی جنگ نے ایران کو سیاسی اور عسکری اعتبار سے مزید منظم کر دیا۔ میلانی کے مطابق اسی جنگ نے ایران کو یہ احساس دلایا کہ بقا کیلئے روایتی جنگی حکمت عملی کافی نہیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ایران نے غیر روایتی عسکری و سفارتی راستے اپنانا شروع کئے۔ ایران پر انقلاب کو ایکسپورٹ کرنے کے الزامات عائد ہوئے۔ اطراف کے عرب ممالک شکوک میں مبتلا ہوئے۔ مسلسل خطرے کے احساس تلے دبا اسرائیل بھی صورتحال پر نظر بنائے ہوئے تھا۔
۲۰۰۳ء میں امریکہ نے عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ جس کے بعد خطےمیں طاقت کا ایک خلا پیدا ہوا اور ایران نے بڑی مہارت سے اس خلا کو پُر کیا۔ امریکہ نے ایک دشمن کو ہٹایا مگر اس کے نتیجے میں ایک مضبوط علاقائی حریف کے لیے میدان ہموار کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: معاشرے کے دو انتہائی اور قابل توجہ موضوعات، جن پر ہم سب کیلئےغور کرنا ضروری ہے
’ایکسز آف ریسسٹنز‘ یعنی محورِ مزاحمت ایران کی علاقائی حکمت عملی کا اہم نکتہ ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، غزہ میں حماس، شام میں بشارالاسد، عراق کی شیعہ ملیشیاؤں اور یمن میں حوثی باغیوں کے ساتھ ایران نے روابط مضبوط کئے۔
ایران بین الاقوامی جوہری معاہدے’این پی ٹی‘میں شامل ہے۔ اسرائیل جو خود ایک ایٹمی طاقت ہے، ایران کے جوہری پروگرام سے شدید خوف زدہ ہے۔ ابتدا ہی سے ایران پر مسلسل دباؤ رکھا گیا۔ ۲۰۱۵ء میں ایک بین الاقوامی معاہدےJCPOA کے ذریعے اس مسئلے کا ایک حل طے پایا لیکن امریکہ نے خود اس کو معطل کرکے ایران پر جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ترک کرنے کا مطالبہ کرنا شروع کردیا۔ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کو تیل کی فروخت اور دیگر کاروبار میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی معیشت بری طرح متاثر رہی۔
ایران کا داخلی نظام انوکھا ہے۔ ایک منتخب حکومت کے ساتھ یہاں ولایت فقیہ کا تصور ہے۔ اسی طرح ملک کی مسلح افواج کے متوازی پاسداران انقلاب بھی ایک منظم عسکری ادارہ ہے۔ محسن میلانی کا نظریاتی جھکاؤ موجودہ نظام کے بجائے ایرانی نیشنلزم کی طرف ہے لیکن انھوں نے موضوع کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔
یہ تصنیف دراصل ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ بین الاقوامی سیاست محض طاقت کی جنگ نہیں بلکہ تاریخی یادداشت، قومی وقار، نظریاتی شناخت اور علاقائی مفادات کا مجموعہ ہے۔ کوئی ریاست پابندیوں، جنگوں اور سفارتی تنہائی کے باوجود اپنی حکمت عملی، صبر اور نظریاتی استقامت کے ذریعے ایک مؤثر قوت بن سکتی ہے۔