Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس ہفتے اخبارات کے اداریوں میں ریاستی، قومی و بین الاقوامی موضوعات کو جگہ ملی

Updated: May 03, 2026, 9:46 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

مہاراشٹر میں رکشے و ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی زبان کی لازمی شرط نے جہاں غیر مراٹھی طبقے میں بے چینی کو جنم دیا ہے وہیں مراٹھی اخبارات نے اس فیصلے کو یکطرفہ اور سیاسی کمزوری کی علامت قرار دیا ہے۔

The mandatory requirement of Marathi language for rickshaw and taxi drivers is actually a clear indication of political bankruptcy. Photo: INN
رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی زبان کی لازمی شرط دراصل سیاسی دیوالیہ پن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر میں رکشے و ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی زبان کی لازمی شرط نے جہاں غیر مراٹھی طبقے میں بے چینی کو جنم دیا ہے وہیں مراٹھی اخبارات نے اس فیصلے کو یکطرفہ اور سیاسی کمزوری کی علامت قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ادیشہ کا دل دہلا دینے والا واقعہ قومی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے جسے میڈیا نے شرم ناک اور افسوسناک بتایا ہے۔ اسی دوران ٹائمز آف انڈیا نے کرناٹک میں اسکولوں میں اخبار بینی کو لازمی بنانے کے اقدام کو ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے جبکہ عالمی منظرنامے پر اوپیک سے یو اے ای کی علاحدگی نے توانائی کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ 
امریکہ اپنی ترجیحات میں بہت زیادہ خود غرض ہے
سکال( مراٹھی، ۳۰؍اپریل)
’’ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم’اوپیک‘ سے علاحدگی کا فیصلہ محض ایک معاشی خبر نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹکس کا ایک بڑا اعلان ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ جنگی صورتحال نے خلیجی ریاستوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا اب بھی پرانے اتحاد ان کی سلامتی اور معاشی بقا کے ضامن ہیں ؟طویل عرصے سے خلیجی ممالک اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ ان کی سرزمین پر موجودامریکی فوجی اڈے اور واشنگٹن سے دوستی انہیں ہر بیرونی خطرے سے محفوظ رکھے گی لیکن جب ایران نے ان اڈوں کو نشانہ بنایا تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ امریکہ اپنی ترجیحات میں کتنا خود غرض ہے۔ یو اے ای پر ہونے والےحملوں کے بعد واشنگٹن کا سرد رویہ اور عرب ممالک سے مشاورت تک نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سپر پاور کیلئے اتحادیوں کی حیثیت صرف ایک مہرے سے زیادہ نہیں۔ یہ تنقیدی سوال اب ابھر رہا ہے کہ کیا ان ریاستوں نے اپنی خودمختاری کا سودا کرکے جو تحفظ خریدا تھا وہ محض ایک ریت کی دیوار ثابت ہوا؟یو اے ای کا اوپیک سے نکلنا اس تنظیم کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے۔ ۱۹۶۰ء میں قائم ہونے والی یہ تنظیم اب اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔ متحدہ عرب امارات کا یہ مؤقف کہ وہ تیل پر مبنی معیشت سے نکل کر جدید معیشت کی طرف جانا چاہتا ہے۔ بظاہر تو ترقی پسندانہ لگتا ہے لیکن اس کے پیچھے سعودی عرب کے ساتھ بڑھتی ہوئی علاقائی مسابقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اوپیک کے کوٹے کی پابندیاں امارات کے ان عزائم کی راہ میں رکاوٹ تھیں جو وہ اپنی پیداواری صلاحیت( تقریباً ۵۰؍ لاکھ بیرل یومیہ)کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ رپورٹ کا ایک پہلو یہ ہے کہ جب ایران یو اے ای کو نشانہ بنا رہا تھا تو عرب دنیا اور اوپیک کے برادر ممالک خاموش تماشائی بنے رہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس بار بیشتر اخبارات نے اسرائیلی جارحیت، خواتین ریزرویشن اور مودی کو موضوع بنایا

کیا صنعتکاروں سے مراٹھی بولنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے؟
لوک ستہ( مراٹھی، ۲۸؍اپریل)
’’مہاراشٹر کی سیاست میں یہ روایت جڑ پکڑ چکی ہے کہ جب بھی ’یوم مہاراشٹر‘ یا’عالمی مراٹھی دن‘ جیسے ایام قریب آتے ہیں اقتدار کے گلیاروں میں کچھ ایسے مضحکہ خیز اور سطحی فیصلے جنم لیتے ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ حالیہ دنوں میں رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی زبان کی لازمی شرط اور ممبئی کے تاریخی کنگ ایڈورڈ میموریل( کے ای ایم) اسپتال کی تبدیلی نام کی تجویز اسی سیاسی دیوالیہ پن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ مراٹھی زبان کی بقا اور ترویج کے نام پر ہمیشہ معاشرے کے نچلے اور کمزور طبقے کو ہی قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔ ایکناتھ شندے گروپ کے لیڈران ہوں یا بی جے پی کے منگل پربھات لودھا، ان کی مراٹھی نوازی صرف غریب ٹیکسی ڈرائیوروں کو ہراساں کرنے یا تاریخی عمارتوں کی تختیاں بدلنے تک محدود ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مراٹھی زبان صرف رکشا چلانے والوں کے کندھوں پر سوار ہو کر ترقی کرے گی؟ کیا ان لیڈروں میں اتنی ہمت ہے کہ وہ ان بڑےصنعتکاروں اور کارپوریٹ اداروں سے مراٹھی میں بات کرنے کا مطالبہ کریں جن کے سامنے یہ خود دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں ؟جہاں تک کے ای ایم اسپتال کا نام بدلنے کی تجویز کا تعلق ہے تو اسے غلامانہ ذہنیت سے چھٹکارا پانے کا نام دیا جا رہا ہے۔ لیکن عجب تضاد ہے کہ نام بدلنے کی تجویز دینے والے خود بڑے بلڈر ہیں جن کے اپنےہاؤسنگ پروجیکٹس کے نام ایلورا اور بیلاجیو جیسے انگریزی الفاظ پر مبنی ہوتے ہیں۔ وہاں انہیں اپنی مراٹھی غیرت اور غلامانہ ذہنیت یاد نہیں آتی۔ "
ادیشہ سانحہ:بیوروکریسی کی بدترین ذہنیت کا عکاس
نوبھارت ٹائمز( ہندی، ۲۹؍اپریل)
’’ ادیشہ سے سامنے آنے والی دل دہلا دینے والی تصویر محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ہمارے موجودہ انتظامی ڈھانچے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ ایک مجبور بھائی کا اپنی مردہ بہن کا ڈھانچہ بورے میں بھر کر بینک کی دہلیز تک لانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جب قوانین سے ہمدردی رخصت ہو جائے اور ضابطے انسانیت پر حاوی ہو جائیں تو معاشرہ کس طرح ایک بے روح مشین میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ واقعہ ہمارے اس دعوے کی قلعی کھولتا ہے کہ ہم ڈیجیٹل انڈیا کے ذریعے معاشرے کے آخری فرد تک پہنچ چکے ہیں۔ اگر ایک غریب، ان پڑھ اور بے سہارا قبائلی کو محض بیس ہزار روپے کی اپنی ہی رقم نکالنے کیلئے اپنی بہن کی لاش کی نمائش کرنی پڑے تو ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ ہمارا نظام حکومت عام آدمی کیلئے نہیں بلکہ صرف ان لوگوں کیلئے ہے جو کاغذی کارروائیوں کے گورکھ دھندے کو سمجھتے ہیں۔ بینک حکام کا یہ غیر انسانی رویہ کہ کھاتا دار جب تک خود نہیں آئے گا، رقم نہیں ملے گی۔ بیوروکریسی کی اس بدترین ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جسے لال فیتہ شاہی کہا جاتا ہے۔ کیا بینک ملازمین اتنے اندھے ہو چکے تھے کہ انہیں ایک بے بس انسان کی آنکھوں میں لکھی بے بسی نظر نہیں آئی؟ کیا قواعد و ضوابط انسانوں کی سہولت کے لیے ہوتے ہیں یا ان کی تذلیل کے لیے؟ قانون کی لکیر پیٹنا تو آسان ہے لیکن قانون کی روح کو سمجھنا اور اسے انسانی بنیادوں پر نافذ کرنا ہی اصل انتظامی صلاحیت ہے۔ اڈیشہ جیسے ریاست میں جہاں شرح خواندگی اب بھی کئی علاقوں میں تیس فیصد سے کم ہے وہاں اس قدر پیچیدہ بینکنگ نظام کا نفاذ غریبوں کو معاشی طور پر مزید پیچھے دھکیلنے کے مترادف ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: بنگال و یوپی میں لاکھوں ووٹروں کے نام حذف، حد بندی پر اخبارات کی حکومت پر تنقید

اخبار بینی فہم و ادراک کو جلا بخشتا ہے
دی ٹائمز آف انڈیا( انگریزی، ۲۷؍اپریل)
’’کرناٹک کی جانب سے اسکولوں میں دن کا آغاز اخبار بینی سے کرنے کی حالیہ ہدایت ایک خوش آئند اور بصیرت افروز فیصلہ ہے۔ یہ محض ایک انتظامی حکم نامہ نہیں بلکہ اس دور فتن میں ایک قدیم اور آزمودہ روایت کی بازگشت ہے جس کی اہمیت آج پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ مطالعہ محض وقت گزاری کا مشغلہ نہیں بلکہ یہ انسانی ذہن کی تراش خراش کا عمل ہے۔ یہ فہم و ادراک کو جلا بخشتا ہے حافظے کو توانائی دیتا ہے اور نوجوان ذہنوں میں گہری فکری نمو پیدا کرتا ہے۔ اس تناظر میں اخبار ایک ایسی روزنِ دیوار ہے جو اختصار کے باوجود وسعت نظر کا حامل ہے۔ یہ طلبہ کو ان حقائق اور نظریات سے روشناس کرواتا ہے جو ان کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ بچپن میں اپنائی گئی یہ عادت نہ صرف زبان و بیان کی گرفت مضبوط کرتی ہے بلکہ آج کے خلفشار زدہ دور میں حواس کو یکسو کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ موجودہ عہد میں اس ذہنی ٹھہراؤ کی ضرورت جتنی آج ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ آج کی نوخیز نسل ڈیجیٹل دنیا کے اس بے رحم دھارے میں بہہ رہی ہے جہاں ڈوم اسکرولنگ اور سوشل میڈیا کی یلغار نے ان کی ذہنی صحت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ بے چینی، ڈپریشن اور نیند کی کمی جیسے عوارض اب ایک وبا کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک نےاب سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگادی ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK