وقفے وقفے سےملازمتیں تبدیل کرنے کو نئی نسل نے ’کافی حد‘ تک آسان بنادیا ہے، اس کیلئے یہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں بلکہ ایک معمولی قدم ہے، وہ اسے ’رِسک‘ نہیں، ’اَپ گریڈ‘ کہتا ہے۔
EPAPER
Updated: May 03, 2026, 9:48 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
وقفے وقفے سےملازمتیں تبدیل کرنے کو نئی نسل نے ’کافی حد‘ تک آسان بنادیا ہے، اس کیلئے یہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں بلکہ ایک معمولی قدم ہے، وہ اسے ’رِسک‘ نہیں، ’اَپ گریڈ‘ کہتا ہے۔
ایک ایسے نوجوان پروفیشنل کو تصور کریں، جو اپنی موجودہ کمپنی کو ’’آخری‘‘ ای میل بھیج رہا ہے، اور اگلے ہی دن ایک نئی کمپنی میں شامل ہونے کی تیاری کررہا ہے۔ کیا یہ اتنا آسان ہے؟ شاید آج سے ایک دہائی پہلے تک یہ اتنا آسان نہیں تھا لیکن جین زی نے اسے ’کافی حد‘ تک آسان بنادیا ہے۔ اس کیلئے یہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں بلکہ ایک معمولی قدم ہے۔ وہ اسے ’رِسک‘ نہیں، ’اَپ گریڈ‘ کہتا ہے۔ یہاں سے جنم لیتی ہے جدید ورک کلچر کی ایک نئی اصطلاح ’’آفس فروگنگ‘ (Office Frogging) یعنی مینڈک کی طرح ایک دفتر سے دوسرے دفتر میں چھلانگ لگانا۔ یہ رجحان کریئر کے تصور کے ساتھ کارپوریٹ دنیا کی بنیادوں کو بھی چیلنج کررہا ہے۔
آفس فروگنگ دراصل اس طرزِ عمل کو بیان کرتا ہے جہاں ملازمین، خاص طور پر جین زی، ایک ہی کمپنی میں طویل عرصہ گزارنے کے بجائے بار بار نوکریاں تبدیل کرتے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی بے صبری یا غیر ذمہ داری کی علامت نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہوتی ہے، جس میں ترقی، بہتر ماحول اور ذاتی سکون کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس رجحان کو frogging اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں ملازم کسی مینڈک کی طرح ایک دفتر سے دوسرے دفتر میں چھلانگ لگاتا ہے۔ ملازمین بھی ایک کمپنی سے دوسری کمپنی کی طرف بڑھتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ اگلا قدم انہیں زیادہ مواقع، بہتر تنخواہ یا زیادہ معنی خیز کام دے گا۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: اب او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر ہورہا ہے ’’یادوں کا کاروبار‘‘
یہ تبدیلی دراصل ایک بڑے ذہنی اور معاشی انقلاب کا حصہ ہے۔ ایک وقت تھا جب کریئر کا مطلب ایک ہی کمپنی میں برسوں گزارنا، وفاداری دکھانا اور آہستہ آہستہ ترقی کرنا تھا۔ مگر آج یہ ماڈل تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ نئی نسل اس خیال کو قبول نہیں کرتی کہ کامیابی صرف صبر اور وفاداری سے حاصل ہوتی ہے۔ ان کیلئے کامیابی کا مطلب ہے تیز رفتار ترقی، بہتر ورک لائف بیلنس اور ایسا ماحول جہاں ان کی قدر کی جائے۔ ہندوستان میں یہ رجحان خاص طور پر نمایاں ہورہا ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈجیٹل معیشت، اسٹارٹ اپ کلچر اور عالمی مواقع نے نوجوانوں کو پہلے سے کہیں زیادہ اختیارات فراہم کئے ہیں۔ اب ایک انجینئر یا مارکیٹنگ پروفیشنل کیلئے یہ ممکن ہے کہ وہ چند مہینوں میں ایک کمپنی چھوڑ کر دوسری میں شامل ہو جائے، اور ہر بار اپنی تنخواہ اور تجربے کو بہتر بنائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں ’’job hopping‘‘ اب ایک منفی اصطلاح نہیں رہی بلکہ ایک اسٹریٹجک فیصلہ سمجھا جانے لگا ہے۔
اس رجحان کے پیچھے سب سے بڑی قوت growth mindsetہے۔ جین زی ملازمین انتظار نہیں کرتے کہ کمپنی انہیں ترقی دے، بلکہ وہ خود مواقع تلاش کرتے ہیں۔ اگر انہیں لگتا ہے کہ ان کا کریئر رک گیا ہے یا انہیں سیکھنے کا موقع نہیں مل رہا، تو وہ فوراً اگلے موقع کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور اہم عنصر ذہنی صحت ہے۔ جدید کام کا ماحول اکثر دباؤ، لمبے اوقات اور غیر یقینی صورتحال سے پُر ہوتا ہے۔ اس لئے نوجوان ملازمین اب اپنی ذہنی صحت کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسے کاموں سے دور ہو جاتے ہیں جو انہیں تھکا دیں یا ان کی زندگی کے توازن کو خراب کریں۔ عالمی سطح پر بھی یہی رجحان ہے۔ یورپ اور امریکہ میں بھی نوجوان ملازمین روایتی کریئر ماڈلز کو مسترد کر رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق جین زی ملازمین اپنی پہلی نوکری میں اوسطاً صرف ایک سال کے قریب وقت گزارتے ہیں، جو پچھلی نسلوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: پوڈ کاسٹ سے ووڈکاسٹ کا سفر: انسانی ترجیحات کی بدلتی ایک اہم مثال
یہ تبدیلی کمپنیوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ کارپوریٹ دنیا ہمیشہ اس بنیاد پر چلتی رہی ہے کہ ملازمین طویل عرصے تک کمپنی کے ساتھ جڑے رہیں گے، مگر اب ملازمین کو ’’برقرار رکھنا‘‘ سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ کمپنیاں اب صرف تنخواہ بڑھا کر ملازمین کو نہیں روک سکتیں بلکہ انہیں بہتر کلچر، متنوع پالیسیاں اور بامعنی کام بھی فراہم کرنا پڑ رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آفس فروگنگ نے لیبر مارکیٹ کو زیادہ ہمہ جہت بنا دیا ہے۔ ملازمین کے بار بار منتقل ہونے سے مہارتوں کا تبادلہ تیز ہو گیا ہے اور کمپنیوں کو بہتر ٹیلنٹ تک رسائی مل رہی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے کچھ منفی اثرات بھی ہیں، جیسے ٹریننگ خرچ میں اضافہ اور طویل مدتی منصوبہ بندی میں مشکلات۔
یہ رجحان ایک دلچسپ تضاد بھی پیش کرتا ہے۔ ایک طرف ملازمین کو زیادہ آزادی اور مواقع مل رہے ہیں، تو دوسری طرف ان کے کریئر میں استحکام کم ہو رہا ہے۔ اگر کوئی شخص بہت زیادہ نوکریاں بدلتا ہے تو یہ اس کے سی وی یا ریزیومے پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ کچھ آجر اسے عدم استحکام کی علامت سمجھ سکتے ہیں۔ اسی لئے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ہر تبدیلی سوچ سمجھ کر اور کسی واضح مقصد کے تحت ہونی چاہئے۔ ہندوستان میں اس رجحان کا ایک اور پہلو ’’اسٹارٹ اپ کلچر‘‘ سے جڑا ہوا ہے۔ اسٹارٹ اپس تیزی سے بڑھتے ہیں اور اسی رفتار سے لوگوں کو ہائر اور رِپلیسبھی کرتے ہیں۔ اس ماحول میں ملازمین کو بھی جلدی فیصلے کرنے پڑتے ہیں کیونکہ مواقع زیادہ ہوتے ہیں مگر استحکام کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آفس فروگنگ یہاں ایک فطری عمل بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ’’دھرندھر اِفیکٹ‘‘ اور فلمی معیشت کی نئی حقیقت
یہ رجحان دراصل اس بات کی علامت ہے کہ کام کی تعریف بدل رہی ہے۔ اب نوکری صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ شناخت، مقصد اور زندگی کے توازن کا حصہ بن چکی ہے۔ نئی نسل اس بات کو قبول نہیں کرتی کہ وہ اپنی زندگی کے بہترین سال صرف ایک کمپنی کیلئے وقف کرے۔ وہ تجربات، سیکھنے اور آزادی کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ آفس فروگنگ بتاتا ہے کہ کریئر اب سیدھی لکیر نہیں رہا بلکہ ایک متحرک سفر بن چکا ہے۔ یہ سفر کبھی سیدھا نہیں ہوتا بلکہ چھلانگوں سے بھرا ہوتا ہے، جہاں ہر قدم ایک نئے موقع کی طرف لے جاتا ہے۔ شاید اسی لئے آج کا ایک پروفیشنل شخص ایک ہی جگہ رکنے کے بجائے آگے بڑھنے کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ اس کیلئے کامیابی کا مطلب صرف منزل تک پہنچنا نہیں بلکہ اس راستے کو خود منتخب کرنا ہے جس پر وہ چل رہا ہے۔