آج سے چند برسوں قبل تک نایاب جانوروں اور پرندوں کی غیر قانونی خرید و فروخت دور دراز جنگلات، سرحدی راستوں یا خفیہ منڈیوں تک محدود سمجھی جاتی تھی۔ لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ اب یہ کاروبار اسمارٹ فون کی اسکرین پر منتقل ہو چکا ہے۔
EPAPER
Updated: July 13, 2026, 9:28 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
آج سے چند برسوں قبل تک نایاب جانوروں اور پرندوں کی غیر قانونی خرید و فروخت دور دراز جنگلات، سرحدی راستوں یا خفیہ منڈیوں تک محدود سمجھی جاتی تھی۔ لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ اب یہ کاروبار اسمارٹ فون کی اسکرین پر منتقل ہو چکا ہے۔
جنوری ۲۶ء میں نیٹ فلکس پر ریلیز ہوئی عمران ہاشمی کی ویب سیریز ’’تسکری‘‘ کا ایک منظر تیزی سے سوشل میڈیا پر گشت کررہا تھا (وائرل ہوا تھا) جس میں تھائی لینڈ کے نایاب چھوٹے بندروں کو نیند کا انجکشن لگاکر اسمگل کیا جاتا ہے مگر فلائٹ کا وقت تبدیل ہوجانے کے سبب بندر وقت سے پہلے جاگ جاتے ہیں، اور پھر اسمگلر کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر ایک نیا پیٹرن دیکھا گیا، یعنی ’’ری ہومنگ‘‘ (Rehoming) لفظ کا حد سے زیادہ استعمال!
آج سے چند برسوں قبل تک نایاب جانوروں اور پرندوں کی غیر قانونی خرید و فروخت دور دراز جنگلات، سرحدی راستوں یا خفیہ منڈیوں تک محدود سمجھی جاتی تھی۔ لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ اب یہ کاروبار اسمارٹ فون کی اسکرین پر منتقل ہو چکا ہے، جہاں چند کلکس کے ذریعے خریدار اور فروخت کنندہ ایک دوسرے تک پہنچ جاتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس غیر قانونی تجارت کو چلانے کیلئے کسی خفیہ ویب سائٹ یا ڈارک ویب کی بھی ضرورت نہیں۔ دنیا کے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی اس کیلئے کافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ڈجیٹل معیشت نے کاروبار کو آسان بنایا ہے، لیکن اسی سہولت نے جرائم کی نوعیت بھی بدل دی ہے۔ جنگلی حیات کی اسمگلنگ اس کی نمایاں مثال ہے، جہاں ٹیکنالوجی نے کاروبار کو پہلے سے کہیں زیادہ منظم، تیز اور عالمی بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تاج محل کی سازش کو عدالت سنجیدگی سے کیوں لے رہی ہے؟
اقوام متحدہ اور مختلف بین الاقوامی اداروں کے مطابق غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت دنیا کی سب سے منافع بخش مجرمانہ سرگرمیوں میں شمار ہوتی ہے، جس کی سالانہ مالیت اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ورلڈ بینک کے ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ شعبہ سالانہ ۷؍ بلین ڈالر سے ۲۳؍ بلین ڈالر سرمایہ پیدا کرتا ہے۔ یہ صرف ہاتھی دانت، گینڈے کے سینگ یا شیر کی کھال تک محدود نہیں رہی بلکہ زندہ جانوروں، نایاب پرندوں، رینگنے والے جانوروں، کچھوؤں، پینگولین، مرجان، آرکڈ اور دیگر محفوظ انواع (Protected Species) تک پھیل چکی ہے۔ تازہ تحقیقات نے اس مسئلے کے ایک تشویشناک رخ کو بے نقاب کیا ہے۔ ماحولیاتی تنظیموں کی ایک رپورٹ کے مطابق فیس بک پر جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت سے متعلق ۲۰؍ ہزار سے زیادہ اشتہارات اور جنگلی حیات سے متعلق تقریباً ۲؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار مصنوعات کی نشاندہی کی گئی۔ اس تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پلیٹ فارم کی بعض خصوصیات، خصوصاً مواد سے آمدنی حاصل کرنے کے نظام، غیر قانونی فروخت کو بالواسطہ سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم، کمپنی ایسی سرگرمیوں پر پابندی کی پالیسی رکھتی ہے۔
مختلف رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسمگلر سوشل میڈیا، میسجنگ ایپس اور آن لائن مارکیٹ پلیسز کو ملا کر ایک ایسا ڈجیٹل نیٹ ورک بنا چکے ہیں جہاں جانوروں کی تصاویر، ویڈیوز، لائیو اسٹریمز اور نجی پیغامات کے ذریعے خریدار تلاش کئے جاتے ہیں۔ کھلے عام فروخت کے بجائے ’’ری ہومنگ‘‘ (نیا گھر بسانا)، ’’ریسکیو‘‘ (بچانا)، ’’تحفہ‘‘ یا دوسرے بے ضرر الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں تاکہ ٹیکنالوجی کی خودکار نگرانی سے بچا جا سکے۔ اس کاروبار کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا جانوروں کو محض مصنوعات میں تبدیل کر دیتا ہے۔ پینگولین اس کی ایک المناک مثال ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دنیا کا سب سے زیادہ اسمگل ہونے والا ممالیہ ہے۔ اس کی کھال اور چھلکے روایتی ادویات اور لگژری مصنوعات سازی میں استعمال ہوتے ہیں حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت اس کی تجارت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ مسئلہ صرف حیاتیاتی تنوع تک محدود نہیں۔ غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت صحت عامہ، معیشت اور قومی سلامتی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ مختلف عالمی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ غیر قانونی جانوروں کی منڈیاں زونوٹک بیماریوں، یعنی جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے وائرس، کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اتھنال پالیسی: عوام کو ایک ’ریورس گیئر‘ بھی درکار
معاشی اعتبار سے بھی اس تجارت کے اثرات گہرے ہیں۔ جب کسی علاقے سے نایاب جانور ختم ہوتے ہیں تو صرف ایک نسل نہیں مٹتی بلکہ پورا ماحولیاتی نظام متاثر ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیاحت، مقامی روزگار، جنگلات کی صحت اور زرعی توازن بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ حیاتیاتی تنوع کسی ملک کا قدرتی سرمایہ ہوتا ہے، اور اس کی مسلسل لو‘ٹ مستقبل کی معیشت کو کمزور کرتی ہے۔ ہندوستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں حیاتیاتی تنوع خاصا وسیع ہے، یہاں پینگولین، کچھوے، طوطے، سانپ، بڑی بلیاں اور متعدد نایاب انواع اسمگلروں کے نشانے پر رہتی ہیں۔ سرحد پار جرائم کیلئے آن لائن خریداروں اور مقامی شکاریوں کے درمیان رابطہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو چکا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں اس مسئلے سے مکمل طور پر لاتعلق نہیں ہیں۔ متعدد پلیٹ فارمز نے جنگلی حیات کی فروخت پر پابندی لگائی ہے، خودکار شناختی نظام متعارف کئے ہیں اور تحفظ ِ ماحول کی تنظیموں کے ساتھ تعاون بھی کیا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مجرم بھی مسلسل اپنی حکمت عملی بدل رہے ہیں۔ وہ الفاظ تبدیل کرتے ہیں، تصویروں میں ردوبدل کرتے ہیں، نجی گروپس استعمال کرتے ہیں اور لین دین کو خفیہ پیغامات یا دیگر ایپس پر منتقل کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی نگرانی اکثر ناکافی ثابت ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس مصنوعی ذہانت کو بعض اوقات غلط معلومات پھیلانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، وہی اس جرم کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار بھی بن سکتی ہے۔ نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مشین لرننگ ماڈلز ہاتھی دانت، شیر کی کھال، پینگولین کے چھلکوں اور دیگر ممنوعہ مصنوعات کی تصاویر کو خودکار انداز میں شناخت کر سکتے ہیں، جبکہ کم لاگت والے اے آئی نظام مشتبہ اشتہارات کی بڑی تعداد کو فلٹر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دَل بدل قانون پر نظر ثانی کی ضرورت ہے
تاہم ٹیکنالوجی اکیلے اس مسئلے کا حل نہیں۔ جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے، سوشل میڈیا کمپنیاں، مالیاتی نظام، لاجسٹکس کمپنیاں اور بین الاقوامی تنظیمیں ایک دوسرے کے ساتھ حقیقی وقت میں معلومات کا تبادلہ نہیں کریں گی، تب تک اسمگلر نئے راستے تلاش کرتے رہیں گے۔ اس جرم کی نوعیت سرحدوں سے آزاد ہے، اس لئے اس کا مقابلہ بھی عالمی سطح پر مربوط حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔ اس کے ساتھ صارفین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر کسی نایاب جانور کو ’’پالتو‘‘ کے طور پر دیکھ کر اس کی تصویر لائیک کرے نہ آگے بڑھائے، ورنہ بالواسطہ طور پر اس کی مانگ میں اضافہ ہوسکتا ہے جو اس پورے غیر قانونی کاروبار کی بنیاد ہے۔ ہر خریداری، ہر ویڈیو اور ہر کلک ایک معاشی اشارہ ہوتا ہے کہ اس چیز کی مانگ ہے۔ اگر ٹیکنالوجی انسانوں کو جوڑ سکتی ہے تو وہ جنگلی حیات کے تحفظ کا سب سے مؤثر ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ لیکن اگر نگرانی، قانون اور اخلاقی ذمہ داری رفتار کا ساتھ نہ دے سکے تو وہی اسمارٹ فون، جس سے ہم روزمرہ زندگی آسان بناتے ہیں، دنیا کی نایاب ترین انواع کے خاتمے کا خاموش بازار بھی بن سکتا ہے۔