Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میرے بچپن میں مدنپورہ میں صبح گوشت چار آنے، شام دو آنے ملتا تھا‘‘

Updated: June 14, 2026, 6:02 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

آگری پاڑہ کے ۷۸؍سالہ خالد ماسٹرعبدالستار انصاری نے میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد عملی زندگی کا آغاز مل میں کام کرکے کیا، اس کے بعد سعودی عرب گئے، واپس آکر ٹیکسی ڈرائیونگ سیکھی اور ۲۵؍ سال تک ٹیکسی چلاکر اپنے اہل خانہ کی کفالت کی۔

Khalid Master Abdul Sattar Ansari. Photo: INN
خالد ماسٹر عبدالستار انصاری۔ تصویر: آئی این این

آگری پاڑہ، میگھ راج شیٹی مارگ کے ۷۸؍ سالہ خالد ماسٹر عبدالستار انصاری کی پیدائش ۵؍دسمبر ۱۹۴۸ء کو ہوئی تھی۔ مورلینڈروڈ پر واقع پتھر والی اسکول سے پرائمری اور انجمن خیرالاسلام اُردوہائی اسکول سے میٹرک تک پڑھائی کی۔ اس دور میں اعلیٰ تعلیم سے متعلق کچھ خاص بیداری نہیں تھی اسلئے وہیں پر تعلیم روک کر ۱۶؍ سال کی عمر میں عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ان دنوں مدنپورہ اور اطراف کے علاقوں کے بیشتر لوگ ملوں میں کام کرتے تھے، اسلئے انہوں نے بھی کچھ دنوں تک مل میں کام کیا۔ اسی دوران سعودی عرب بھی جانے کا موقع ملا۔ وہاں کی ایک معروف تعمیراتی کمپنی میں چند سال تک ملازمت کی۔ پھرواپس ممبئی آکر کر ڈرائیونگ سیکھی اور ۲۵؍ سال تک ٹیکسی چلائی۔ گزشتہ ۸؍برسوں سے فی الحال سبکدوشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ شروع ہی سے دوست نواز رہے ہیں اور آج اس عمرمیں بھی دوستی نبھانے میں یقین رکھتے ہیں۔ بیشتر اوقات اپنی بلڈنگ کے نیچے دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں گزارتے ہیں ۔ 
پتھر والی اسکول کے پہلے ہیڈماسٹر ناصر عبداللہ، ان کے نانا تھے۔ پتھر والی اسکول سے متعدد یادیں وابستہ ہیں۔ ان کی طالب علمی کے زمانے میں طلبہ کو شہری انتظامیہ کی جانب سے دودھ، چکی اور ہفتے میں ایک دو دن الگ الگ قسم کے پھل ملا کرتے تھے۔ خالدانصاری کو پڑھائی سے زیادہ اسکول میں دوستوں کے ساتھ شرارت میں دلچسپی تھی۔ اسکولی ساتھیوں سے اکثر لڑائی جھگڑا بھی ہوجاتا تھا لیکن کچھ ہی دیر میں دوبارہ دوستی کر لیتے تھے۔ ایک بات جو سب سے زیادہ انہیں یاد آتی ہے وہ اطراف کے محلوں میں اکثر ہونے والے لڑائی جھگڑے اورخون خرابے کی وجہ سےاسکول سےملنے والی چھٹی ہے۔ اس دور میں میگھ راج شیٹی مارگ میں ایک بدنام مجرم رہا کرتا تھا، جوہمہ وقت اپنے ساتھ خنجر رکھتا تھا۔ اس کیلئے معمولی تنازع پر کسی کا قتل کردینا عام بات تھی۔ جیسے ہی قتل کی خبر عام ہوتی پتھروالی اسکول میں چھٹی کااعلان کر دیا جاتا۔ قتل کی سنگینی سے قطع نظر چھٹی کااعلان ہوتے ہی بچے خوشی خوشی گھر کی جانب دوڑ پڑتے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’ بامبے اسپتال میں دلیپ کمار مریض کی عیادت کیلئے پہنچے تو دیگر مریض بھی آگئے‘‘

خالد انصاری نے ۲۵؍سال تک ٹیکسی چلائی۔ اس دوران ایک مرتبہ ہونےو الے سڑک حادثے میں موت کو قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ دادر کے تلک بریج سے گزرتے وقت نامعلوم کیسے بریک کے بجائے ایکسلیٹر پر پیر پڑ گیا جس کی وجہ سے ان کی ٹیکسی کی رفتار تیز ہوگئی اور وہ ایک کار سے ٹکراگئی۔ ٹیکسی کے ساتھ ہی سامنے والی کار کا بھی بہت نقصان ہوا۔ اس خطرناک حادثے میں انہیں جسم کے کچھ حصوں میں چوٹیں بھی آئیں لیکن کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ 
خالد انصاری نے پنڈت جواہر لال نہرو، لال بہادر شاستری، اندرا گاندھی اور مرارجی دیسائی کو شیواجی پارک اور چوپاٹی پر کئی بار دیکھا اور سناہے۔ ان کے جلسوں میں ہزاروں افراد کا ہجوم ہوتا تھا۔ لوگ گرانٹ روڈ اسٹیشن سے اُتر کر پیدل چوپاٹی تک جاتے تھے۔ ان لیڈران کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے لوگ پُرجوش ہوتےتھے۔ 
خالد انصاری کو دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے کا بڑا شوق تھا۔ اکثر دوستوں کے ساتھ پلے ہائوس پر واقع تاج، رائل، نشاط، الفریڈ، گلشن اور نیو روشن ٹاکیز میں فلم دیکھنے جاکیا کرتے تھے۔ ۵؍آنے میں پلاٹ پر بیٹھ کر فلم دیکھنے کا ٹکٹ ملتا تھا۔ اس دور میں فلم دیکھنا بھی ایک بڑا مرحلہ ہوا کرتا تھا۔ پلاٹ پر بیٹھنے کیلئے جگہ حاصل کرنے کے دوران اکثر لڑائی جھگڑے بھی ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ عید کے موقع پر رائل سنیما میں ٹکٹ خریدنے کے دوران ایک ساتھی کے والد بھی فلم دیکھنے پہنچ گئے۔ ان کی نظر بیٹے اور اس کے ساتھیوں پرپڑی۔ انہوں نے بیٹے سے ٹکٹ چھین کر، اسے ڈانٹ ڈپٹ کر کے گھر بھیج دیا۔ اس دور میں بچے، آج کے مقابلے اپنے بڑوں کا احترام زیادہ کرتے تھے، اسلئےخالد انصاری اور ان کے دیگر دوست بھی یہ منظر دیکھ کر وہاں سے فوراً بھاگ لئے۔ 
فلم اداکار دلیپ کمار، جانی واکر اور آغا کو خالدانصاری نے جھولا میدان میں ہونے والے کئی پروگراموں میں بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ دلیپ کمار اپنی کار سے جھولا میدان کے قریب اُترے جہاں پروگرام سے متعلق انگریزی میں ایک قدآور بینر لگاہواتھا۔ غور سے بینر پڑھنے کے بعد وہ اسٹیج پر پہنچے۔ اپنے خطاب کا آغاز سامعین کو سلام کر کے کیا۔ دوسرے لمحے بڑی شائستگی سے فرمایا مدنپورہ اُردو والوں کی بستی ہے، یہاں کے لوگ اُردو زبان وادب سے محبت کرنے والے ہیں ، اُردو ان کی زندگی کا اہم حصہ ہے اور متعدد حضرات اُردو کی روزی روٹی سے بھی وابستہ ہوں گے لیکن مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ اُردو کی اس بستی میں میرا خیرمقدم انگریزی زبان کے بینرسے کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’اداکار دھرمیندر کو سلائی میں کچھ کمی نظر آئی تو انہوں نے وہ شرٹ مجھے دے دی‘‘

مولانا شوکت علی روڈ پر واقع چھوٹا سوناپور میں عیدکے دن میلہ لگتا تھا۔ یہاں میلے والے دن آسمانی جھولا، موت کا کنواں، مداری اور کرتب والےلوگوں کومحظوظ کرنےکیلئے موجود ہوتےتھے۔ کھانے پینے کی چیزوں کی دکانیں لگتی تھیں۔ نوجوان، بچےاورعمررسیدہ افراد گروپ کی شکل میں میلے میں جاتےتھے۔ اس دور میں بچوں کوبطور عیدی ایک دوآنا ملتاتھا، اسی میں بچے عیدکی خوشیاں مناتےتھے۔ 
۸۰ء کی دہائی میں ایک مرتبہ کسی وجہ سے آگری پاڑہ اور مدنپورہ کے علاقے میں بڑے پیمانے پر لڑائی جھگڑا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے علاقے میں کرفیو جیسی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ ایسے میں خالدانصاری کے چھوٹے بھائی زاہد انصار ی نے جیسے ہی اپنے گھر کی کھڑکی سے باہر کامنظر دیکھنے کیلئے سرنکالا تھا، پولیس کی جانب سے چلائی جانے والی گولی، ان کے گال ایک سرے سے گزرتے ہوئے دوسرے سرے سے باہر نکل کر دیوار سے ٹکرا ئی تھی۔ اس حادثے میں بھائی کی فوری طورپر موت ہوگئی تھی۔ اُن دنوں خالد انصاری سعودی عرب میں تھے۔ بھائی کی موت کی اطلاع پر وہ سعودی سے ممبئی آئے تھے۔ زاہد علی کی موت پر معاوضہ دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن آج بھی اہل خانہ کو معاوضہ کی رقم نہیں ملی۔ 
اس زمانےمیں باندرہ میں مذبح تھا۔ گوشت وہاں سے مدنپورہ اور اطراف کے علاقوں میں فروخت کرنے کیلئے لایا جاتا تھا۔ ان دنوں دکاندار باسی گوشت کو فروخت کرنا جرم سمجھتے تھے۔ اس وجہ سے صبح کے اوقات میں گوشت کی قیمت ۴؍آنے اور شام کو ۲؍ آنے ہوا کرتا تھا تاکہ رات تک گوشت ختم ہو جائے۔ غریب گھر کے لوگ شام کے وقت ہی گوشت خریدنے جاتے تھے تاکہ سستے میں گوشت مل جائے۔ 
خالد انصاری کے گھر سےجھولا میدان صاف دکھائی د یتا ہے۔ میدان میں کشتی اور لاٹھی سیکھنے والے بڑی تعدا د میں آتے تھے۔ پاکستان کے معروف پہلوان بھولو، گاما، اسلم اور اکرم وغیرہ کو انہوں نے اکثر جھولا میدان میں کشتی کی مشق کرتے دیکھا ہے۔ وہ مشق کر کے عام شہریوں کی طرح مدنپورہ کے راستے سے گزرتے تھے۔ ورلی پر واقع ولبھ بھائی پٹیل اسٹیڈیم میں کشتی کا مقابلہ ہوتا تھا۔ ہاتھ گاڑی کے دونوں سمت بڑے بڑے ہورڈنگز لگاکر مقابلے کی تشہیر کی جاتی تھی۔ ہورڈنگز پر ہندوستانی اور پاکستانی پہلوانوں کی ایکشن والی تصاویر نمایاں طور پر اُجاگر ہوتی تھیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK