ٹرانزٹ کیمپ کے۷۵؍سالہ خلیل الرحمان انصاری کواب بھی پڑھائی کا شوق ہے، ان دنوں انجمن اسلام اکبرپیر بھائی کالج سے ۲؍سالہ عربی کورس کررہےہیں ،اسی طرح مطالعہ کا شوق بھی برقرار ہے کہ آج بھی ان کے تکیہ کے پاس ایک دو کتابیں ضرور ہوتی ہیں۔
EPAPER
Updated: January 25, 2026, 11:00 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
ٹرانزٹ کیمپ کے۷۵؍سالہ خلیل الرحمان انصاری کواب بھی پڑھائی کا شوق ہے، ان دنوں انجمن اسلام اکبرپیر بھائی کالج سے ۲؍سالہ عربی کورس کررہےہیں ،اسی طرح مطالعہ کا شوق بھی برقرار ہے کہ آج بھی ان کے تکیہ کے پاس ایک دو کتابیں ضرور ہوتی ہیں۔
بائیکلہ ،ٹرانزٹ کیمپ کے۷۵؍سالہ خلیل الرحمان انصاری کی پیدائش ۱۵؍جولائی ۱۹۵۰ء کو کماٹی پورہ کی پانچوںگلی کے فخری منزل میں ہوئی ۔ابتدائی تعلیم پانچویں گلی میںواقع کماٹی پورہ میونسپل اُردو اسکول سے حاصل کی۔ بعدازیں پتھروالی اسکول ،سائوٹراسٹریٹ اور گلڈرلین میونسپل اسکول سے ۹؍ ویں جماعت کی پڑھائی مکمل کی اور پتھروالی نائٹ اسکول سے ایس ایس سی پاس کیا۔ اس کےبعد مہاراشٹر کالج میں داخلہ لیا۔ گیارہویں کی پڑھائی کےدوران ہی والدین کی ایماءپر صرف۱۹؍سا ل کی عمر میں ازدواجی زندگی سے منسلک ہو گئے اور پھر تعلیم کا سلسلہ رک گیا۔ اس کے بعد عملی زندگی شکلاجی اسٹریٹ پر واقع سیدی ہوٹل سےمتصل والدکی پان کی دکان پرگزری۔۱۲؍سال کی عمر سے دکان پر والدکاساتھ دیا۔ تقریباً ۷۰؍سال کی عمر تک یہ ذمہ داری اداکی۔پیرانہ سالی میں صحت کی خرابی کی وجہ سےدکان کوکرائےپر دےدیا۔ عبادت کےعلاوہ مطالعہ کرنااہم مشغلہ ہے۔پڑھائی کا شوق اب بھی برقرارہے۔ فی الحال انجمن اسلام اکبرپیر بھائی کالج(مولاناشوکت علی روڈ) سے ۲؍سالہ عربی کورس کررہےہیں ۔ جہاں ہفتے میں ۲؍دن پابندی سے کلاس اٹینڈ کرتےہیں۔ کورس مکمل کر کے عربی کے کتابوں کابھی مطالعہ کرنےکی خواہش ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’فسادات میں کرفیو پاس دکھاکر مریض کیلئے اہم انجکشن کی تلاش میں کئی اسپتال گئی‘‘
خلیل الرحمان انصاری نے اعلیٰ تعلیم تو حاصل نہیں کی لیکن بچپن ہی سے مطالعہ کاشوق رہا ہے۔اسکول کے زمانے سے وہ لائبریری سےجڑے رہے۔ کماٹی پورہ میونسپل اُردو اسکول میں پڑھائی کےساتھ وہ اسکول کےقریب واقع نذیر ہوٹل سےمتصل اسٹال پرقائم کی گئی لائبریری سے بچوںکی کتابیں لے کر پڑھتےتھے۔اس دور میں پانچویں گلی میں کچھ نامی بدمعاش رہتے تھے۔ا ن لوگوںکی چارپائی نذیر ہوٹل کےپاس بچھائی جاتی تھی۔ یہ لوگ چارپائی پربیٹھے رہتےتھے۔ مذکورہ لائبریری انہیں میں سے ایک نےقائم کی تھی۔ انہیں اُردو زبان و ادب سے کافی شغف تھا۔ خلیل ا لرحمان نےیہاں سے بچوںکی کتابیں مثلاً کھلونا اور پیام تعلیم وغیرہ کا مطالعہ کیاتھا۔ بعدازیں تقریباً ۲۰؍سال کی عمر میں انہوںنےعوامی ادارہ کی ممبرشپ حاصل کرلی تھی ۔ انہوں نےعوامی ادارہ کی جتنی کتابیں پڑھی ہیں، ان کےمقابلہ میں کم ہی لوگ ہوںگے ،جنہوں نے اتنی کتابیں پڑھی ہوں گی۔ کوئی بھی کتاب پڑھنےکیلئے لیتےتوپہلے کتاب پردرج ممبرشپ نمبر کےکالم کامطالعہ کرتےتھے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ یہ کتاب پڑھی ہوئی تو نہیں ہے کیونکہ عموماً کتاب کانام تو ذہن میں نہیں رہتاتھالیکن ممبرشپ نمبرکی کتاب میں انٹری ہونےسے پتہ چل جاتاتھاکہ کتاب پڑھی ہوئی ہے یانہیں۔ ۱۰؍ سال کی عمر سے کتابوںکامطالعہ کررہےہیں۔اب بھی ان کا یہ شوق برقرار ہے۔ آج بھی ان کی تکیہ کےآس پاس ایک آدھ کتاب ضرورہوتی ہے۔اگرایک دن بھی مطالعہ نہ کریں تو کسی چیز کےکم ہونے کا احساس بے چین رکھتاہے۔ تقریباً ۶۵؍سال میں ہزاروںجاسوسی، ادبی ، تاریخی، نفسیاتی اور علمی کتابوں کامطالعہ کرچکےہیں۔ مطالعہ کےشوق کا اندازہ اس سے بھی لگایاجاسکتاہےکہ برسوں تک انہوںنے اپنی پان کی دکان میں سیکڑوں کتابوںکاذخیرہ کرکے لائبریری جاری رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’قحط سالی میں زیادہ لوگوں کی دعوت کرنےپرپولیس شادی کا کھانا اُٹھا لےجاتی تھی‘‘
بابری مسجدکی شہادت کےبعد پھوٹ پڑنےوالے فرقہ وارانہ فسادات کےدوران خلیل الرحمان نے ۲؍دن ہوٹل میں گزارےتھے۔ دراصل وہ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ءکو مسجدکی شہادت کےبعدشام کواپنی دکان بند کر کے سائیکل سےٹرانزٹ کیمپ اپنے گھر جانےکیلئے نکلےتھے۔ بائیکلہ فائربریگیڈ اسٹیشن کے قریب پہنچنےپر انہوںنے دیکھا کہ ہندواورمسلمان دونوںکاگروپ ایک دوسرےپرحملہ آورتھا۔ سوڈے کی بوتلوں سے ایک دوسرےپرحملہ کیاجارہاتھا۔حالانکہ یہاں سے ان کاگھر چند منٹ کے فاصلہ پر ہی تھالیکن وہ گھر نہیں جاسکے، بلکہ وہیں سے لوٹ گئے اور سیدھے شکلاجی اسٹریٹ پہنچے ۔ انہوںنے ۲؍دن سیدی ہوٹل میں گزارا۔ اس دوران ان کےگھروالے بہت پریشان رہے، لیکن ان کے پاس اور کوئی متبادل بھی نہیں تھا۔
خلیل الرحمان کی پان کی دکان تقریباً ۱۰۰؍سال پرانی ہے۔ کسی زمانےمیںاُترپردیش سےبڑی تعدادمیں قریشی برادری کے لوگ روزگار کی تلاش میں باپٹی روڈ ، شکلاجی اسٹریٹ اورعرب گلی وغیرہ میں منتقل ہوئے تھے۔ ان میں سےمتعدد کے پا س مستقل ٹھکانہ نہ ہونے سے ان کے گھر والے انہیں خط نہیں بھیج پاتے تھے۔ایسےمیں خلیل الرحمان نے کئی قریشی بھائیوںکو اپنی دکان کا پتہ استعمال کرنےکی اجازت دی تھی ۔ ان کی دکان پر روزانہ ۵۔۷؍قریشی بھائیوں کے خط آتےتھے۔ شام کو کام کاج سے فارغ ہوکر یہ لوگ ان کی دکان پر آکر خط لے جاتے۔ خلیل الرحمان کی اس بے لوث خدمت کیلئے قریشی بھائی ان کاشکریہ اداکرتےتھے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈارون نے اپنی خود نوشت اشاعت کیلئے نہیں اپنے بچوں کیلئے تحریر کی تھی
خلیل الرحمان انصاری کی دکان چونکہ سیدی ہوٹل سےمتصل ہے، اس لئے اس ہوٹل کی قدیم روایت اور پکوان کابھی انہیں خاصہ تجربہ ہے۔ کسی زمانے میںاس ہوٹل میں کھانابہت سستاملتاتھا۔ آٹھ د س آنےمیں لوگ ذائقہ دار کھانے سے پیٹ بھر لیتے تھے۔ اس ہوٹل کابھوناگوشت، پسندہ اور کھاری گوشت بہت مشہور تھا۔ ہوٹل میں جگہ ہونے کے باوجود وہاں کے مشہور پکوانوں کوہوٹل کےباہرایک لمبے میز پرسزا دیا جاتا تھا، تاکہ ان پکوانوں سے اُٹھنےوالی ذائقہ دار خوشبو وہاں سے گزرنے والے راہ گیروں کو ہوٹل میں آنے پر مجبور کردے۔ یہ بات مشہور تھی کہ بہت سارے لوگ صرف ذائقہ چکھنے کیلئے وہاں کھانا کھانے آتے تھے۔
خلیل الرحمان کی زندگی کابیشترحصہ پان کےکاروبا ر میں گزرا۔ ان کےوالدکوپان بنانےکا بہت پرانا تجربہ تھا۔اس تجربے سے خلیل الرحمان کو بھی فائدہ پہنچا۔ ان کے بنائے ہوئے پان آس پاس کےعلاقوں میں تو مقبول تھے ہی ، لیکن ایک مرتبہ انہیں اپنا پان جنوبی افریقہ بھیجنے کابھی موقع ملا تھا۔ یہ تقریباً ۵۰؍سال پہلے کی بات ہے۔ مہاراشٹر کالج کے سامنے، اس دور میں ایک مودی سگریٹ سینٹر ہوا کرتا تھا ۔ اس کےمالک ،خلیل الرحمان کے مستقل گاہک تھے۔انہوںنے ۵۰؍پان کاآرڈریہ بتاکردیا تھا کہ یہ پان افریقہ جائیں گے ،اسلئے انہیں بہت اچھی طرح سےبناناتاکہ تمہارا نام خراب نہ ہو کیونکہ میں نے تمہاری بہت تعریف کی ہے۔ خلیل الرحمان نے بہت عمدہ پان بناکر دیاتھا جسےافریقہ میں خوب پسند کیاگیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ سے ایران تک اقوام ِ عالم کا دہرا معیار، عالمی نظام کی تباہی کا مظہر
خلیل الرحمان کےوالدزیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن اپنے بچوں کی پرورش کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے۔اس معاملہ میں بہت سخت گیر بھی واقع ہوئےتھے۔خلیل الرحمان کابچپن کماٹی پورہ میں گزرا تھا،جواُس دور میں اچھاعلاقہ تصور نہیں کیاجاتاتھا۔ اس کےباوجود والد کی سختی اور تربیت کی وجہ سے وہاں کی برائیوں کا سایہ بھی ان پرنہیں پڑا۔ تربیت کی سختی کاایک واقعہ ملاحظہ کریں۔ ایک مرتبہ ان کی والدہ آبائی وطن گئی تھیں۔ خلیل الرحمان اپنے والد کے ہمراہ ممبئی میں مقیم تھے۔ایک روز گھر کےباہر محلے کےکچھ بچے سگریٹ کی خالی پیکٹ کو تاش بناکرکھیل رہےتھے۔ خلیل الرحمان ان کے قریب کھڑے ہوکرانہیں دیکھ رہے تھے،دریں اثنا ان کے والد وہاں پہنچ گئے اور پھر ایسی ڈانٹ پلائی کہ اس دن کےبعد سے خلیل الرحمان کبھی اس قبیل کے بچوں کے قریب بھی دکھائی نہیں دیئے ۔