یہ کتاب پہلی بار ۱۸۸۷ء میں ڈارون کی موت کے بعد شائع ہوئی تھی، جو محض ایک سائنس دان کی زندگی کی کہانی نہیں بلکہ جدید عہدِ فکر کے ایک ذہن کا اندرونی مکالمہ بھی ہے۔
EPAPER
Updated: January 25, 2026, 11:01 AM IST | Ghulam Arif | Mumbai
یہ کتاب پہلی بار ۱۸۸۷ء میں ڈارون کی موت کے بعد شائع ہوئی تھی، جو محض ایک سائنس دان کی زندگی کی کہانی نہیں بلکہ جدید عہدِ فکر کے ایک ذہن کا اندرونی مکالمہ بھی ہے۔
چارلس رابرٹ ڈارون (۱۸۸۲ ۔۱۸۰۹ء) کا شمار ان سائنس دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے حیاتیات، نیچرل ہسٹری اور انسانی فکر کی سمت بدل دی۔ وہ انگلینڈ میں پیدا ہوا۔ ابتدا میں طب اور پھر الٰہیات کی تعلیم حاصل کی، مگر اس کی اصل دلچسپی فطرت کے مطالعے میں تھی۔ ارتقائی حیاتیات میں اپنے کام کی وجہ سے مشہور ہوا۔ ڈارون کا سب سے اہم کارنامہ اس کی کتاب’آن دی اوریجِن آف اسپیشیس‘ ہے، جس میں اس نے ارتقاء کا نظریہ پیش کیا۔
سادہ الفاظ میں چارلس ڈارون کا نظریہ ارتقاء کیا ہے؟ زندگی ایک سادہ شکل سے بتدریج ارتقاء پذیر ہوئی ہے۔ جاندار وقت کے ساتھ ساتھ بتدریج تبدیل ہوتے ہیں جس کی بنیاد فطری انتخاب کا عمل ہے: یعنی ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے والے جاندار بقا اور تولید میں کامیاب ہوتے ہیں، اور اپنی خصوصیات اگلی نسلوں میں منتقل کرتے ہیں، جس سے وقت کے ساتھ ساتھ نئی انواع وجود میں آتی ہیں۔ وسائل محدود ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے جانداروں میں بقا کیلئے مقابلہ ہوتا ہے۔ کچھ انواع ناپید ہوجاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی کی کہانی جہاں انسان نہیں، منصوبے مرکز میں رہے
آپ بیتیوں کے مطالعے کا ہمارا مقصد، عظیم شخصیات کےشخصی خواص کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔ ڈارون کی خودنوشت ’دی آٹو بائیوگرافی آف چارلس ڈارون‘ محض ایک سائنس دان کی زندگی کی کہانی نہیں بلکہ یہ جدید عہدِ فکر کے ایک ذہن کا اندرونی مکالمہ ہے۔ یہ خودنوشت پہلی بار ۱۸۸۷ء میں ڈارون کی موت کے بعد شائع ہوئی مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈارون نے اسے اشاعت کیلئے نہیں بلکہ اپنے بچوں اور خاندان کے لیے تحریر کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحریر میں بناوٹ، تصنع اور خطیبانہ انداز نہیں ہے۔ ڈارون کی پوتی نورا بارلو نے اس خودنوشت کو مرتب کیا۔ نورا نے اصل متن کو زیادہ سنوارنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اسے اس کی فطری سادگی کے ساتھ محفوظ رکھا۔
اسکول کے زمانے میں ڈارون ایک معمولی سا طالب علم رہا، تاخیر سے سیکھنے والا اور کسی قدر شریر۔ البتہ نیچر یعنی فطرت کے متعلق اسے غیر معمولی تجسس تھا جو پھولوں سے شروع ہوا، کیڑے مکوڑوں، مٹی چٹانوں اور دلدل تک پھیلا۔ بڑا ہوتا گیا تواسے پرندوں اور مچھلیوں کے شکار کا شوق ہوا۔ مختلف کیڑے مکوڑے پتنگوں اور زمینی اشیا جیسے پتھروں اور دھاتوں کے ٹکڑے جمع کرنا اوران کاریکارڈ تیار کرنا اس کا مشغلہ تھا۔
یونیورسٹی میں طب کی تعلیم شروع کی تو ڈاکٹر ڈنکن کےلکچر سننے کا تصور ہی اس کیلئے ہولناک ہوتا۔ عملی تجربہ کی کلاس میں صرف دو دفعہ آپریشن تھیٹر گیا۔ ایک دفعہ بھاگ کھڑا ہوا۔ اس زمانے میں آپریشن، مریض کو بیہوش کئے بغیر ہی کئے جاتے تھے۔ کلوروفارم استعمال ہونی شروع نہ ہوئی تھی۔ وہ عملی طور پر اتنا برا طبیب بھی ثابت نہ ہوتا لیکن اس کی اصل اور گہری دلچسپی فطرت اور جمادات و نباتات میں زیادہ تھی۔ اکثر اکیلا پیدل سفر پر نکلتا۔ ایک دفعہ ماہی گیروں کے ایک گروہ کے ساتھ شامل ہو گیا اور مطالعے کی غرض سے بحری جانور اکٹھے کئے۔ جو بھی دیکھتا اسے احتیاط کے ساتھ لکھ لیتا۔ اس طرح اس نے چھوٹے چھوٹے تحقیقی مقالے لکھنے شروع کئے۔
اوائل عمر ہی سے ڈارون کے ہاتھوں میں کوئی نہ کوئی کتاب ہوتی جسے وہ شوق سے پڑھتا۔ ایڈنبرگ میں دو سال کالج کے بعد اسکے والد اس نتیجے پرپہنچے کہ ڈارون طبیب نہیں بننا چاہتا لہٰذا اسے خالی بیٹھنے اور وقت گزاری سے بچانے کی خاطر کیمبرج میں داخل کروایا کہ وہ ایک عالم دین بن کر نکلے۔ کیمبرج میں قیام کے دوران بھی پتنگے اور کیڑے جمع کرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ کام کو روایتی انداز کے بجائے، نئے طریقوں سے کرنے میں اسے کافی کامیابی ملتی۔ اس طرح اُسے چند بالکل کمیاب انواع کے جانداروں کی باقیات ملیں۔ اس دوران اس نےفلسفۂ قدرتی سائنس پر چند کتابیں پڑھی جنھوں نے اس پر گہرا اثر ڈالا۔ اب وہ پکاّ نیچرلسٹ بن چکا تھا۔ فلاسفیکل سوسائٹی اور جیولاجیکل سوسائٹی نے بھی اس کے کام کا نوٹس لینا شروع کردیا تھا۔ اپنی ہر کامیابی پر وہ بیحد خوش ہوتا۔ کہتا کہ حصول شہرت کی خواہش، مجھے کبھی اپنی راہ سے ایک انچ نہیں ہٹاسکی۔ جب بھی مجھ سے کوئی بڑی غلطی ہوئی، میرے کام میں نقائص رہ گئے یا جب مجھے پر حقارت آمیز تنقید ہوئی اور اس وت بھی جب مجھے ضرورت سے زیادہ تعریف ملی، میں نے اپنے آپ سے سو مرتبہ کہا کہ ’’میں نے اتنی سخت محنت کی جتنی کہ کرسکتا تھا۔ کوئی اور اس سے زیادہ نہیں کرسکتا تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج بی جے پی کے بڑھتے دبدبے کی علامت ہیں
ڈارون کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ بیگل نامی جہاز پرپانچ سالہ بحری سفر تھا۔ اس خودنوشت میں وہ اس سفر کو کسی رومانوی مہم کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل ذہنی مشق کے طور پر بیان کرتا ہے۔ نئی زمینیں، مختلف انواع، فوسلز یعنی قدیم جانورں کے پتھرائے باقیات، جغرافیائی ساختیں یہ سب اس کے لیے محض عجائبات نہیں بلکہ سوالات تھے۔ یہیں ڈارون کا ذہن پہلی بار اس خیال سے ٹکراتا ہے کہ فطرت جامد نہیں، بلکہ تغیر پذیر ہے۔ مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ وہ اس خیال کو فوراً نظریہ نہیں بناتا۔ اس نے برسوں تک شواہد اکٹھے کیے، نوٹس لیے، خط و کتابت کی اور پھر کہیں جا کر ایک مربوط نظریہ تشکیل دیا۔
لکھنے کے متعلق ڈارون کہتا ہے کہ پہلے میں ذہن میں پورا جملہ سوچ لیا کرتا تھا، پھر قلم اٹھاتا۔ لیکن بعد میں یہ بات سمجھ آئی کہ خیال کی آمد پر جیسے بھی ہو لکھ لیا جائے۔ تصحیح بعد میں کی جائے۔ اس طرح وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ اسطرح لکھے ہوئے جملے اکثر دانستاً سوچ کر لکھے جملوں سے بہتر ہوتے ہیں۔ ۱۸۵۹ء میں اس کی کتاب ’اوریجن آف اسپشیس‘ یعنی ابتدائےانواع نے ڈارون کو ڈارون بنایا۔ اس سے قبل وہ `جنوبی امریکہ میںارضیاتی مشاہدات شائع کراچکا تھا۔۱۸۶۲ءمیں کتابچہ’فرٹیلائزیشن آف آرکڈس‘ لکھا۔ ۱۸۸۰ء میں ایک کتابچہ پھولوں کی مختلف شکلوں پر شائع ہوا۔۱۸۷۲ءمیں جانوروں اور انسانوں میں جذبات کا اظہار نامی کتاب میں دلچسپ مماثلت دریافت کرنےکی کوشش کی۔ مزے کی بات ہے کہ اپنے پہلے بچے کی پیدائش پروہ خوشیاں منانے کے بجائے، فوراً ہی نوزائیدہ کے چہرے پر رونما ہونے والے مختلف تاثرات نوٹ کرنے لگا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: دسمبر میں کیلنڈر اُتار کر رکھ لیا جاتا، بعد میں اس کے صفحات سے پتنگ بنائے جاتے
زندگی میں ڈارون کا جن اشخاص سے سابقہ پیش آیا، اس نے ان کے خصائص کو کتاب میں بیان کیا ہے۔ مثلاً بحری جہاز بیگل کےکیپٹن ’فٹزرا لکھتا ہے کہ وہ ایک فرض شناس،غلطیوں کو معاف کرنے والا، بہادر، پرعزم اور توانا شخص تھا۔ ضرورتمندوں کی مدد کرتے وقت کسی بھی قسم کی محنت سے گریز نہ کرتا۔ لیکن غصہ قابو نہ کرسکتا تھا۔ وہ سلیوری یعنی غلامی کا حامی تھا۔ اس وجہ سے ایک دفعہ برازیل کے سفر کے دوران ڈارون نے اس پر شدید تنقید بھی کی ا س کی وجہ سے دونوں کے تعلقات کچھ دنوں معطل رہے۔
’تاریخِ تمدن‘ کے مصنف ہنری بکل سے ڈارون صرف ایک دفعہ ملا ۔ کہتا ہے کہ مجھے ان سےمعلومات و حقائق جمع کرنے کا نظام سیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ بکل نے وہ تمام کتابیں خریدی ہوئی ہیں جو اس نے پڑھیں۔ کارآمد ثابت ہوسکنے والے حقائق کی مکمل فہرست تیار کرتا ہے۔ وہ جو کچھ پڑھتا ہے اسے یاد رکھتا ہے کیونکہ اس کی یادداشت شاندار تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کس طرح اندازہ کرتا ہے کہ کون سے حقائق فہرست کیلئے کارآمد رہیں گے۔ اس نے جواب دیا کہ وہ نہیں جانتا، لیکن ایک قسم کی جبلت اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ اشاریہ سازی کی اس عادت کے باعث ہی وہ ہر قسم کے مضمون پر حیران کن حوالہ جات دینے کی قدرت رکھتا تھا۔ بکل ایک خوش کلام شخص تھا۔ اس سے گفتگوکے دوران میں بس سنتا رہا۔ مشہور فلسفی کارئل سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے اس کی خوبیوں کا تذکرہ بھی کرتا ہےاوراس کی تنگ ذہنی کا بھی۔
یہ بھی پڑھئے: ہوسٹل میں مقیم بیٹے کے نام
ڈارون سے صدیوں قبل ،عباسی دور حکومت میں عرب سائنسداں الجاحظ نے اپنی ’کتاب الحیوان‘ میں ارتقاء سےمتعلق نظریات پیش کئے تھے۔ فرانس میں جا بسے مبلغ اسلام مرحوم ڈاکٹر حمیداﷲ کی خطباتِ بہاولپور میں درج ہے کہ ۹۴۲ء میں ایرانی حکیم ابن مسکویہ کی تصنیف الفوزالاصغر میں بھی زندگی کے ارتقاء کے متعلق تفصیلی بیان موجود ہے۔ ڈارون کا نظریہ نہ صرف سائنسی دنیا میں ایک انقلاب ثابت ہوا بلکہ اس نے مذہبی، فلسفیانہ اور سماجی مباحث کو بھی متاثر کیا۔ ڈارون کے نظریات کی مکمل سائنسی تصدیق ابتک نہیں ہوئی لیکن عام طور پر اہل سائنس کا رویہ ڈارونی ارتقاء کےصد فی صد پختہ سچ ہونے کا شور مچانے کا ہوتا ہے۔ اسی طرح اہل مذہب اکثر اسے مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔ راقم الحروف نے اس مضمون کو تحریر کرتے وقت ڈارون کو محض علم کے متلاشی ایک انسان کی شکل میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔