حکومت کی لاپروائی،غیرسنجیدگی اور مقامی سطح کی بدعنوانی نے کورونا کی بیماری کو مزید خطرناک بنا دیا

Updated: June 14, 2020, 11:24 AM IST | Qutbuddin Shahid

مریضوں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوزکرجانے اور متاثرین کے لحاظ سے اٹلی، اسپین، برطانیہ اور چین کو پیچھے چھوڑ دینے کے باوجود حکومت ہوش کے ناخن نہیں لے رہی ہے۔اس کی غیر سنجیدگی میں ذرہ برابر کا فرق نظر نہیں آرہا ہے۔ وہ کورونا پر قابو پانے کے بجائے اپنے سیاسی ’عزائم‘ کی تکمیل میں لگی ہوئی ہے۔ وہ اپنے مخالفین کو دبانے، ان پر طرح طرح کے دفعات عائد کرنے، انہیں جیل پہنچانے اور ایم ایل ایز خریدنے کے علاوہ آئندہ انتخابات والی ریاستوں کو فتح کرنے کی مہم میں جٹی ہوئی ہے

Health Worker - Pic : PTI
ہیلتھ ورکر ۔ تصویر : پی ٹی آئی

یہ شاید پہلا موقع ہے کہ لوگ اپنے رشتہ داروں اور دوست و احباب کو اپنےکسی عزیز کی موت کی اطلاع دیتے ہوئے یہ نوٹ لکھنا نہیں بھولتےکہ’’موت کورونا سے نہیں ہوئی ہے۔‘‘ اس کی وجہ کیا ہے؟ لوگ اس طرح کی صفائی دینا کیوں ضروری سمجھتے ہیں؟کورونا کے تئیں لوگوں میں اتنا خوف کیوں ہے؟ بڑی سےبڑی بیماریوں کو لوگ نہیں چھپاتے، پھر کورونا کے تئیں ایسا کیوں؟
 بلاشبہ کورونا کی وجہ سے اموات کافی ہورہی ہیں لیکن  ہندوستان  میں  اور بھی کئی بیماریاں ہیں جن  کے متاثرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور اس میںشرح اموات بھی  بہت زیادہ ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق وطن عزیز میں روزانہ ۲؍ ہزار سے زائد افراد اسہال (ڈائریا)  اور ۱۲۰۰؍  سے زائد افراد ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوکر اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔  اسی طرح دل کی مختلف بیماریوں سے سالانہ ۱۵؍ لاکھ سے زائد اور کینسر سے تقریباً ۸؍ لاکھ افراد موت کے منہ میں جاتے ہیں لیکن کسی بھی دوسری بیماری کا لوگوں میں اتنا خوف نظر نہیں آ رہا  ہے۔   اس کے جواب میں یہ کہنا ہے کہ چونکہ یہ وبا بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اُسی رفتار سےایک دوسرے میں منتقل ہورہی ہے،اس کی وجہ سے لوگوں میں خوف ہے، توشاید یہ جواب بھی پوری طرح سے درست نہیں ہوگا۔اگر ایسا ہوتا تو لوگوں میں دوسری طرح کا خوف ہوتا۔ لوگ گھروں میں دُبک کر بیٹھتے، باہر نکلنے میں احتیاط کرتے اور اس بیماری کو قبول کرتے.... لیکن ایسا نہیں ہے۔  لاک ڈاؤن پوری طرح سے سخت تھا، تب بھی اور لاک ڈاؤن میں اب نرمی دے دی گئی ہے، تب بھی، کورونا کے تئیں وہ خوف نظر نہیں آرہا ہے، جتنا کہ پولیس اور حکومت کا خوف ہے۔سچ تو یہ ہے کہ آج بھی ایک بڑا طبقہ کورونا کو قبول نہیں کر پارہا ہے۔وہ لوگ جن کے اہل خانہ کورونا سے متاثر ہیں، وہ بھی اور وہ لوگ بھی جن کا اس سے سابقہ نہیں پڑا ہے، اسے درست نہیں مانتے۔ یہی سبب ہے کہ اپناعزیز کھودینے کے بعد کسی کو موت کی اطلاع دیتے ہوئے یہ ضرور کہتے ہیں کہ ’’موت کورونا سے نہیں ہوئی۔‘‘ اس کا مطلب صاف  ہے کہ لوگوں میں کورونا کی بیماری سے خوف نہیں ہے بلکہ اس کے نام سے خوف ہے۔ لوگ نہیں چاہتے کہ ان کے عزیز کی موت کو کورونا کے حوالے سے یاد کیا جائے۔ حالانکہ اس بیماری کی وجوہات کچھ ایسی نہیں ہیں کہ اس کے نام سے خوف کھایا جائے لیکن سماج میںیہ خوف بڑی شدت کے ساتھ پایا جارہا ہے۔ 
 اس کی پہلی اوربڑی وجہ حکومت کی لاپروائی، غیر ذمہ داری اور غیر سنجیدگی ہے اور دوسری اہم وجہ اس تعلق سے مقامی سطح پر پائی جانے والی بدعنوانی  ہے۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ دوسری وجہ کا تعلق بھی بڑی حد تک پہلی وجہ ہی سے ہے۔ اس بیماری کے تعلق سے حکومت کی ابتدائی تشہیر (جسے وہ بیداری کا نام دیتی ہے) اتنی ناقص تھی کہ  اس بیماری کے تئیںسماج میںایک خوف پیداہوگیا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ بیماری سے نہیں، بیمار سے نفرت کرنے لگے۔ یہی سبب تھا کہ ڈاکٹروں اور نرسوں کے ساتھ ان کے رہائشی علاقوں میں امتیازی سلوک کارویہ اختیار کیاگیا۔یہ دیکھ کر کہ جب ڈاکٹروں اور نرسوں کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا جاسکتا ہے تو عام آدمی کے ساتھ لوگ کیا سلوک کیا کریں گے؟ لوگ اس بیماری کو چھپانے لگے۔ حکومت کی غیر ذمہ داری یہیں پرختم نہیں ہوتی بلکہ اس نے قرنطینہ کے نام پر جو ہنگامہ برپا کیا اور علاج کے تعلق سے جو غیر ضروری احتیاط کی تشہیر کی،اس کی وجہ سے بھی عوام میں خوف پیدا ہوگیا۔ پھر اسی خوف کی بطن سے بدعنوانی وجود میں آئی  جس نے کورونا کو خوف ناک کردیا۔
 ہندوستان میں کوروناکی وجہ سے موت کی شرح ۳؍ فیصد کے آس پاس ہے لیکن سماج میں یہ تصور عام ہے کہ بھلا چنگا آدمی بھی اگر کورونا وارڈ میںداخل ہوتا  ہے تو  اس کے اہل خانہ کو اس کا چہرہ دیکھنا نصیب نہیں ہوتا۔ ممکن ہے کہ اس میں سچائی نہ ہو لیکن حالیہ دنوں میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اس تصور کو یکسرمسترد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ملاحظہ کریں اس تعلق سے دو تین خبریں جو کورونا کے نام پر جاری گورکھ دھندے کے خیال کو تقویت پہنچاتی ہیں۔
 ۱۔تلنگانہ میںایک سرکاری کووڈ اسپتال کے انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ ایک شخص کی موت ہوگئی اور اس کی آخری رسومات بھی ادا کردی گئیں مگر اس کی بیوی کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر زندہ ہے اور اسپتال انتظامیہ جھوٹ بول رہا ہے۔ معاملہ عدالت میں گیا تو تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت سے سوال کیا کہ اس کے زندہ ہونے یا پھر مرنے کی اس کے خاندان کو اطلاع کیوں نہیں دی گئی؟اس پر حکومت نے جواب داخل کیا کہ چونکہ اس کی بیوی بھی کورونا کی مریض تھی اسلئے اس خدشے کے پیش نظر کہ کہیں وہ صدمہ برداشت نہ کرپائے،اسلئے اسے اس کی موت سے لاعلم رکھاگیا۔
 ۲۔ مہاراشٹر کے شہر جلگاؤں میں سرکاری کووڈ اسپتال سے  ایک  ۸۲؍ سالہ کورونا کی مریضہ غائب ہوگئیں۔ پولیس اسٹیشن میں ان کی گمشدگی کی شکایت بھی درج کرائی گئی مگر لاحاصل۔  ۸؍ دن بعد اُس خاتون کی لاش اُسی اسپتال کے بیت الخلاء سے برآمد ہوئی۔
 ۳۔ مہاراشٹر کے شہر بھیونڈی میں ایک کارپوریٹر نے  سرکاری کوارینٹائن سینٹر اور اس کے انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پیسے لے کر رپورٹ کو منفی یا مثبت کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سے پیسوں کی بنیاد پر مریض سے رابطے میں آنے والوں کیلئےہوم کوارینٹائن یا سرکاری کوارینٹائن میں بھیجنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
   ان چند مثالوں کو گجرات ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ریمارکس  نے مزید تقویت پہنچائی ہے۔گجرات ہائی کورٹ  نے جہاں  احمدآباد کے سول اسپتال کوکال کوٹھری  سے تعبیر دیا تھا وہیں سپریم کورٹ  نے دہلی حکومت پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ اگرکورونا کے مریضوں کی لاشیں کچرے کے ڈھیر سے برآمد ہورہی ہیں تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں دہلی میں انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیاجارہا ہے۔‘‘یہاں دہلی میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ کورونا کے بعض مریضوں کی موت کے بعد ان کے اہل خانہ کو اس کی خبر نہیں دی گئی۔ سپریم کورٹ نے اس پر بھی گرفت کی ہے۔
 کورونا کے مریضوں کے ساتھ حکومت اور انتظامیہ کے اس غیر ذمہ دارانہ رویوں ا ور بدعنوانیوں کو دیکھنے کے بعد کوئی  بھلا کیسے یہ قبول کرے کہ اس کے عزیز کی موت کورونا کی وجہ سے ہوئی ہے۔اس اعتراف کا مطلب ہوگا کہ اس سے رابطے میں آنے والے تمام افراد اس گورکھ دھندے کا شکار ہوں۔اس کا نتیجہ یہ بھی نکل رہا ہے کہ تمام تر علامتوں کے باوجود لوگ اسپتال جانے کی ہمت نہیں جٹا پارہے ہیں۔ وہ گھر میں رہ کر علاج کرواتے ہیں، ان میں سے کچھ ٹھیک ہوپاتے ہیں اور کچھ حالات کا شکار ہوکر یہ دنیا چھوڑ دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔حکومت کی لاپروائی اور غیر ذمہ داریوں نے اس مرض کے علاج کو ایک معمہ بنا دیا ہے۔
 افسوس کی بات ہے کہ اتنا سب ہو جانے، مریضوں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوزکرجانے اور متاثرین کے لحاظ سے اٹلی، اسپین، برطانیہ اور چین کو پیچھے چھوڑ دینے کے باوجود حکومت ہوش کے ناخن نہیں لے رہی ہے۔اس کی غیر سنجیدگی  میں ذرہ برابر کا فرق نظر نہیں آرہا ہے۔  وہ کورونا پر قابو پانے اور مریضوں کی فکر کرنے کے بجائے اپنے سیاسی ’عزائم‘ کی تکمیل میں لگی  ہوئی ہے۔دہلی میں فساد کے نام پر شہریت ترمیمی قانون کے مخالفین کو جیل پہنچایا جارہا ہے ، اترپردیش میں گئوکشی بل پاس کرکے لوگوں پر این ایس اے کا اطلاق کیا جارہا ہے، ونوددُوا اور آکار پٹیل جیسے صحافیوںکی زبان بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما جیسوں کو فرقہ پرستی کا کھیل کھیلنے کی چھوٹ دی جارہی ہے، عدلیہ کو بھی آنکھیں دکھائی جارہی ہیں، گجرات اور راجستھان میں کھلم کھلا ہارس ٹریڈنگ کی جارہی ہے اور ہمارے  وزیرداخلہ امیت شاہ جی داخلی ذمہ داریوں کو چھوڑ کر مغربی بنگال اور بہار کو فتح کرنے نکل پڑے ہیں۔ایسے میں  اس حکومت سے بھلا اور کیا توقع کی جاسکتی ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK