Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی جے پی کا قلعہ کہلانے والے بانکی پور میں پارٹی کو شکست کیسے ہوئی؟

Updated: August 06, 2026, 10:00 AM IST | Patna

ماہرین کے مطابق طلبہ پر لاٹھی چارج اور بھرت تیواری انکائونٹر نے بہاری عوام کو ناراض کر دیا تھا ، پارٹی کی اندرونی چپقلش نے بھی اہم رول ادا کیا۔

Prashant Kishor`s success has opened a new chapter. Photo: INN
پرشانت کشور کی کامیابی نے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ تصویر: آئی این این

بہار کے بانکی پور اسمبلی حلقے کے تعلق سے کہا جاتا تھا کہ یہاں سے اگر بی جے پی کسی کتے یا بلی کو کھڑا کر دے تو وہ بھی الیکشن جیت جائے گا لیکن حال ہی میں ہوئے ضمنی انتخابات میں جَن سُوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے فتح حاصل کی ہے۔یہ سیٹ بی جے پی کے صدر نتن نبین کے راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ بہار کی راجدھانی  پٹنہ کے شہری علاقے میں واقع اس حلقے کو بی جے پی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور گزشتہ ۳۰؍ ے۳۵؍ سال  سے یہاں بی جے پی ہی کو کامیابی ملتی رہی ہے۔

پرشانت کشور نے اپنے  بی جے پی کے نیرج کمار کو ۱۹؍ ہزار ۳۲۴؍ ووٹوں سے شکست دی ۔ ا نہیں ۶۴؍ ہزار ۱۵۱؍ووٹ ملے، جبکہ نیرج کمار کو ۴۴؍ ہزار ۸۲۷؍ ووٹ ملے۔ ۹؍ ماہ  قبل ہی بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے بی  اور جے ڈی یو کے اتحاد کو ۲۰۲؍ سیٹوں پر فتح حاصل ہوئی تھی۔ جبکہ جن سوراج کا ایک بھی امیدوار جیت نہیں سکا تھا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ بی جے پی جو گزشتہ ۳؍ دہائیوں سے اس سیٹ پر جیت رہی تھی وہ کیسے ہار گئی؟ماہرین اس کی  مختلف وجوہات بتا رہے ہیں۔ ان میں سب سے  اہم وجہ حال ہی میں جنتر منتر پر ہوئے طلبہ کے احتجاج  کو مانا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ جنتر منتر پر طلبہ پر لاٹھی چارج ہونے کے بعد بہار میں بھی بڑے پیمانے پر طلبہ نے احتجاج کیا تھا۔ ملک بھر کے طلبہ ان دنوں سخت ناراض ہیں اور ان طلبہ پر لاٹھی چارج نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔ کچھ لو گ یہ بھی کہہ رہے ہیں بہار میں  بی جے پی کے اندر باہمی چپقلش جاری تھی۔ بانکی پور شکست کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ خیال رہے کہ بانکی پور سے بی جے پی نے پہلے ابھیشیک کمار کو کھڑا کیا تھا، لیکن بعد میں نیرج کمار سنہا کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سیٹ سے کئی سینئر  بی جے پی لیڈر الیکشن لڑنے کے خواہشمند تھے لیکن ایک بالکل نئے شخص کو امیدوار بنایا گیا، جس کی وجہ سے کنفیوژن پیدا ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: وجے سرکار کی اہم پیش رفت، خواتین کو سونے کا سکہ، حج سبسیڈی میں اضافہ کی تجویز

پولنگ کا کم تناسب بھی  بی جے پی کی شکست کی ایک وجہ سمجھا جا رہا ہے۔ شاید بی جے پی کے حامی ووٹر اس بار ووٹ ڈالنے گئے ہی نہیں۔ یہاں ۳۵؍ فیصد سے بھی کم پولنگ ہوئی اور شاید یہ سارے ووٹر وہ تھے جو یہاں تبدیلی چاہتے تھے۔یہ بات پرشانت کشور کے حق میں گئی۔بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرشانت کشور کی وجہ سے یہاں کسی حد تک ووٹنگ ہوئی اگر وہ امیدوار نہ ہوتے تو شاید پولنگ صرف ۲۴؍ فیصد بھی ہو سکتی تھی۔انتخابی مہم کے دوران پرشانت کشور نے لگاتار ریاست کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کو اپنا نشانہ بنایا اور یہ حکمت عملی  فائدہ مند ثابت ہوئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حال ہی میں بھرت تیواری نامی نوجوان کی پولیس انکاؤنٹر میں موت بھی بی جے پی کی شکست کی وجہ بنی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK