پورا شہر خامنہ ای زندہ باد ، اسرائیل امریکہ مردہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ سیاہ لباس میں سرخ پرچموں کے ساتھ لوگوںنے اپنے لیڈر کو خراج عقیدت پیش کیا۔
جلوس جنازہ۔ تصویر:آئی این این
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ اور ان کے ساتھ شہید ہونیوالے اہل خانہ کی آخری رسومات کے طے شدہ سرکاری پروگرام کے تحت پیر کو دارالحکومت تہران میں امام خمینی مسجد سے جلوس جنازہ نکالا گیا۔ یہ پرہجوم جلوس تقریباً۱۰؍ سے۱۲؍ گھنٹے تک دماوند اسٹریٹ، امام حسین اسکوائر، انقلاب اسٹریٹ، انقلاب اسکوائر، آزادی اسٹریٹ، آزادی اسکوائر اور شہید لشگری ہائی وے سے گزرتا ہوا مہر آباد ایئر پورٹ کے قریب اختتام پزیرہوا۔یہاں سے شہید رہبر اعلیٰ اور ان کے متوفی اہل خانہ کے تابوتوں میں رکھے جسد خاکی کو قُم شہر لے جایاگیا۔
رپورٹ کے مطابق پیر کو جلوس کے دوران ہزاروں سوگوار جلوس میں سرخ پرچم اور اپنے لیڈروں کی تصاویر لئے خاموشی کے ساتھ چلتے رہے۔وہیں بہت سوں نے امریکہ اسرائیل سے انتقام لینے کے نعرے بلند کئے۔ لوگ اپنے رہبر کے تابوت اور اس پر رکھے ان کے صافے کے آخری دیدار کے لئے راستوں کے دونوں جانب کئی گھنٹوں تک کھڑے رہے۔
خیال رہے کہ سرکاری پروگرام کے مطابق۸؍ جولائی کو جنازے کا قافلہ جنوبی عراق جائے گا، جہاں نجف میں حضرت علیؓ اور کربلا میں حضرت امام حسینؓ کے روضوں پر حاضری دی جائے گی۔ اس کے بعد قافلہ ایران واپس آئے گا اور۹؍ جولائی کو علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں روضہ امام رضا میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر بتایا کہ تہران میں جنازے کی تقریبات کا آغاز ہو چکا ہے اور ان میں بڑی تعداد میں سوگوار شریک ہیں۔ ادارے کے مطابق ایرانی پرچم میں لپٹے علی خامنہ ای کے تابوت کے ساتھ ان کے خاندان کے ان افراد کے تابوت بھی ایک ٹرک پر رکھے گئے ہیں، جو۲۸؍ فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز میں ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہوئے تھے۔
صبح کو برآمد جلوس رات کو اختتام کو پہنچا
مختلف رپورٹس کے مطابق گزشتہ تین روز سے تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں جاری سرکاری اور عوامی سوگواری کی تقریبات میں لاکھوں افراد نے علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار دیگر افراد کو آخری خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ حکام کا دعویٰ ہے کہ پیر کو جنازے کے جلوس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ہے۔ قبل ازیں منتظمین نے بتایا تھا کہ جنازے کا جلوس مقامی وقت کے مطابق صبح۶؍ بجے روانہ ہوگا اور۱۰؍ سے۱۲؍ گھنٹے تک جاری رہے گا۔ ایرانی حکام نے اتوار اور پیر کو سرکاری تعطیل کا اعلان کردیا تھا ،اور اندازہ ظاہر کیا تھا کہ تہران میں جنازے کی تقریبات میں ڈیڑھ کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔
۱۴؍ ماہ کی پوتی کے چھوٹے تابوت نے سب کو رلا دیا
ایران میں سپریم لیڈر اور رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں۱۴؍ ماہ کی پوتی زہرا محمدی گلپائیگانی کے چھوٹے تابوت نے دنیا کو رلا دیا۔ تفصیلات کے مطابق تہران میں جاری جنازے کے بڑے اجتماعات میں جہاں ایک طرف ملک کی اعلیٰ قیادت، غیر ملکی مندوبین اور لاکھوں ایرانی شہری مرحوم قائد کو الوداع کہنے کے لیے موجود تھے، وہیں سب کی توجہ کا مرکز وہ چھوٹا سا تابوت بن گیا، جس میں علی خامنہ ای کے خاندان کی۱۴؍ ماہ کی بچی (پوتی) کا جسدِ خاکی موجود تھا۔ معصوم بچی کے چھوٹے سے تابوت کو دیکھ کر جنازے میں شریک لاکھوں سوگواروں پر رقت طاری ہو گئی اور ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ عالمی خبر رساں اداروں اور سوشل میڈیا پر زہرا محمدی گلپائیگانی کے جنازے کی کوریج نمایاں رہی اور جنازے کے شرکاء اور دنیا بھر میں اس منظر کو دیکھنے والوں کے لیے زہرا کا چھوٹا تابوت اس پوری تقریب کا سب سے زیادہ دلدوز اور رقت آمیز لمحہ ثابت ہوا۔اس موقع کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آتے ہی دنیا بھر کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر دکھ اور صدمے کی لہر دوڑ گئی، صارفین کی جانب سے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے اور معصوم بچی کے چھوٹے تابوت کو اس پورے جنازے کا سب سے زیادہ غمگین اور دل کو جھنجھوڑ دینے والا منظر قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کو علامتی طور پر سنگسار کیا گیا
منعقدہ جلوس جنازہ کے دوران لوگوں نے ایک انوکھے احتجاج کے تحت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تصویر پر کنکریاں برسائیں۔اس پر لفظ شیطان درج تھا۔ لوگ مرگ بر امریکہ مرگ براسرائیل کے نعرے بلند کررہےتھے۔ یہ منظر سرکاری خبر رساں ادارے میزان نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا گیا۔ خیال رہے کہ ’رمیِ شیطان‘ حج کا ایک اہم رکن ہے، جس میں حجاج کرام شیطان کی علامت سمجھے جانے والے ستونوں پر چھوٹی کنکریاں مارتے ہیں۔ یہ عمل برائی اور شیطان کی پیروی کو مسترد کرنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
نئے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سیکوریٹی وجوہات کے سبب غیرحاضر
ایران کے سرکاری ٹی وی رپورٹ کے مطابق نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد اور ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے جنازے سے مسلسل تیسرے دن بھی غائب رہے، حالانکہ ملک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت تقریب میں شریک تھی۔ سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران سب سے بڑا سوال یہ رہا کہ ان کے مبینہ جانشین اور بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای مسلسل دوسرے دن بھی جنازے میں نظر نہیں آئے، حالانکہ ملک کی تقریباً تمام اعلیٰ سیاسی و عسکری شخصیات وہاں موجود تھیں۔ ان کی غیر موجودگی نے ان کی صحت، سیکوریٹی اور قیادت کے مستقبل کے حوالے سے نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ علی خامنہ ای کے تینوں بیٹوں نے اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور سرکاری ٹیلی ویژن نے مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای سمیت ملک کی اعلیٰ سرکاری شخصیات کے مناظر دکھائے۔ صدرِ جمہوریہ مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز سب وہاں موجود تھے۔ العربیہ کے مطابق اتوار کے روز بھی مجتبیٰ خامنہ ای کے سامنے نہ آنے کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
’’شہید رہبرِ اعلیٰ نے سکھا دیا کہ ایران کا عظیم سرمایہ عوام و اتحاد ہے‘‘
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ شہید رہبرِ اعلیٰ نے سب کو سکھا دیا کہ ایران کا عظیم سرمایہ اس کے عوام اور اتحاد ہے۔ یہ بات ایرانی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پیغام میں کہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہمدردی، ہم آہنگی اور عوام کی مخلصانہ خدمت جاری رکھیں گے۔ صدر پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران کی عزت، ترقی اور عظمت کے راستے پر چلتے رہیں گے۔