انسانی معاشرے کی خوب صورتی اور ترقی کا ایک اہم راز تنوع ہے کہ لوگ اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق ایک دوسرے کے کام آتے اور اجتماعی زندگی کو بہتر بناتے ہیں۔اگر خودپسندی میں مبتلا انسان ان دونوں حقیقتوں کو سمجھ لے تو وہ اپنی اس مہلک عادت سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔
بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ صرف وہی بولیں اور سب سنتے رہیں۔ تصویر: آئی این این
خودپسندی ایک ایسا رویہ ہے جس میں انسان خود کو عقل و بصیرت کے اعتبار سے کامل سمجھنے لگتا ہے۔ وہ یہ یقین کرلیتا ہےکہ قول و عمل کے اعتبار سے اس کی رائے درست ہےاور دوسروں کی آرا کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ ہر میدان میں اپنی رائے اور صلاحیت پر بھروسہ کرتا ہے جبکہ دوسروں کی استعداد پر اسے اعتماد نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے کہ خودپسندی میں مبتلا شخص دوسروں کے علم و فن، تجربے اور صلاحیت کی قدر کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ اسے اپنےفیصلے اور اعمال تنقید سے بالا تر دکھائی دیتے ہیں۔ چنانچہ اگر اسکی کسی پالیسی،فیصلے یا عمل پر تنقید کی جائےیا اس سے کوئی سوال کر لیا جائے تو وہ بے چین اور پریشان ہو جاتا ہے۔
نتیجتاً ایسا شخص معاشرے میں رہتے ہوئے بھی معاشرہ کے لئے غیر مفید ثابت ہوتاہے۔ وہ سماج سے اس طرح لا تعلقی اختیار کرلیتا ہے کہ نہ تو معاشرہ اس کی صلاحیتوں سے مستفیض ہوپاتا ہےاور نہ وہ خود معاشرے میں موجود مختلف صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا پاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان فطرتاً ایک معاشرتی مخلوق ہے۔ اس کی جسمانی، ذہنی اور روحانی صحت کا انحصار معاشرتی زندگی گزارنے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے پر ہے۔ لہٰذا ہر وہ عادت، رویہ یا مزاج جو معاشرتی زندگی کے تقاضوں کے منافی ہو، انسان کو سماج سے الگ تھلگ کر دے یا اسے معاشرے کیلئے غیر مفید بنا دے، انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ مختلف انسانی صلاحیتیں باہم مل کر معاشرے کو آگے بڑھاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو بھی عقل و بصیرت کے اعتبار سے کامل نہیں بنایا ۔ہر انسان کسی نہ کسی پہلو سے دوسرے انسان کی صلاحیت و استعداد کا محتاج ہے۔
اسلام نے معاشرے کی اسی ساخت کو پیش نظر رکھتے ہوئے انسانوں کو ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے اور باہمی مشورے سے کام لینے کی ہدایت دی ہے۔ قرآن کریم میں، آپؐ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا:
’’(اے حبیب ِ والا صفات!) پس اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ آپ ان کے لئے نرم طبع ہیں، اور اگر آپ تندخُو (اور) سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے چھٹ جاتے، سو آپ ان سے درگزر فرمایا کریں اور ان کے لئے بخشش مانگا کریں اور (اہم) کاموں میں ان سے مشورہ کیا کریں، پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کیا کریں، بیشک اللہ توکّل والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (آل عمران:۱۵۹)
یہ بھی پڑھئے: المیہ معلومات کی کمی کا نہیں بلکہ اصلاح سے محرومی کا ہے
ایک دوسری جگہ اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے:
’’اور جنہوں نے اپنے پروردگار کی بات مانی ہے اور نماز قائم کی ہے اور ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں، اور ہم نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے وہ (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (شوری:۳۸)
حضورؐ پُرنور، آقائےؐ مدنی سے متعدد مواقع پر اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مختلف معاملات میں مشورہ کرنا ثابت ہے۔ آپؐ دنیاوی معاملات میں ماہرین سے مشورہ لیا کرتے تھے اور ذمہ داری بھی اسی شخص کے سپرد فرماتے تھے جس میں مطلوبہ صلاحیت موجود ہوتی تھی۔ چنانچہ ہجرت کے موقع پر راستے کی رہنمائی کے لئے آپؐ نے عبداللہ بن اریقط نامی شخص کی خدمات حاصل کیں، جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ آپؐ نے انہیں ان کی مہارت اور راستوں سے واقفیت کی بنا پر منتخب فرمایا۔ اسی طرح جب آپؐ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگوں کی مختلف صلاحیتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں ان کی استعداد کے مطابق ذمہ داریاں عطا فرمائیں۔ کتب احادیث میں بھی ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ؐ مختلف معاملات میں اپنے صحابہ سے مشورہ فرمایا کرتے تھے حالانکہ آپؐ اللہ کے نبی تھے، وحی الٰہی کے ذریعے آپؐ کی رہنمائی کی جاتی تھی۔
در حقیقت ،جب کسی معاملے میں متعلقہ فن کے ماہرین سے مشورہ کیا جاتا ہےتو اس کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں، بہتر راستے کی نشان دہی ہوتی ہے اور کام نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ اس طرح غلطی کا امکان بھی کم رہتا ہے۔ مزید یہ کہ اگر خدانخواستہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑے تو انسان کو یہ سوچ کر کسی حد تک تسلی ہو جاتی ہےکہ اس نے تنہا اپنی رائے کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا تھا، بلکہ متعلقہ ماہرین سے مشورے کے بعد قدم اٹھایا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: فتاویٰ میں استعمال ہونے ناموں کی حقیقت اور مفتی کیسے بنتے ہیں؟، سجدۂ سہو کرنا بھول گئے
اس کے برعکس خودپسندی میں مبتلاشخص اپنے آپ کو عقل و بصیرت کے اعتبار سے دوسروں سے برتر سمجھتا ہے اور یہی احساسِ برتری اسے دوسروں کی آرا سے استفادہ کرنےسے روکتاہے۔ نتیجتاً اسے مختلف قسم کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مشورہ کا عادی نہ ہونے کی وجہ سے وہ غلط فیصلے کرتا ہے، جن کے منفی اثرات سب سے پہلے اسی کی ذات پر مرتب ہوتے ہیں۔ اگر ایسا شخص کسی تنظیم، ادارے یا جماعت کا سربراہ ہو تو اس کے غلط فیصلوں کے نتائج دوسروں کو بھی بھگتنا پڑتے ہیں۔ یہی نہیں، خودپسندی اس کے مراسم، تعلقات اور رشتوں پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔
در اصل خودپسندی میں مبتلا شخص دو بنیادی حقیقتوں کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے ۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو محدود علم عطا کیا ہے ، اور کسی بھی بشر کو عقل و بصیرت کے اعتبار سے کامل نہیں بنایا ہے ۔ ثانی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو یکساں صلاحیتیں عطا نہیں کیں، بلکہ ہر انسان کو بعض ایسی خصوصیات اور استعدادوں سے نوازا ہے جو دوسروں میں نہیں پائی جاتیں۔ انسانی معاشرے کی خوب صورتی اور ترقی کا ایک اہم راز بھی یہی تنوع ہے کہ لوگ اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق ایک دوسرے کے کام آتے ہیں اور اجتماعی زندگی کو بہتر بناتے ہیں۔اگر خودپسندی میں مبتلا انسان ان دونوں حقیقتوں کو سمجھ لے تو وہ اپنی اس مہلک عادت سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔
یاد رہے!
خودپسندی کوئی پیدائشی یا جبلی رویہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے بعض مرتبہ خارجی اور بعض مرتبہ باطنی محرکات کارفرماہوتے ہیں۔بعض تکبرو غرور ،خود پسندی اور احساس کمتری کی وجہ سے خودپسندی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض مرتبہ اس کا سبب کم علمی اور سطحی مطالعہ ہوتا ہے۔ کبھی بچپن کا بے جا لاڈ پیار وجہ بن جاتا ہے اور کبھی انسان کو ایسا ماحول مل جاتا ہے کہ اس کے اردگرد تعریف کرنے والوں کا ایک گروپ اس کی تعریف ہی کرتا رہتا ہے، اسے تنقید کا کبھی سامنا ہی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اس کا ہر عمل اور ہر رائے درست اور تنقید سے بالا تر ہے۔